اٹلی: موسولینی کے بعد پھر انتہائی دائیں بازو کی حکومت آنے کا امکان

تقریباً دو تہائی پولنگ سٹیشنوں سے ووٹوں کی گنتی کی بنیاد پر لگائے گئے اندازوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتہائی دائیں بازو رہنما جورجیا میلونی کی پارٹی برادرز آف اٹلی 25.7 فیصد ووٹ کی اکثریت حاصل کرے گی۔

روم میں 26 ستمبر 2022 کو عام انتخابات میں فتح کا دعویٰ اور خطاب کے بعد جورجیا میلونی شکریہ کا پلے کارڈ اٹھائے (اے ایف پی)

اٹلی میں عام انتخابات میں برتری حاصل کرنے کے بعد انتہائی دائیں بازو کی رہنما جورجیا میلونی ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم بننے کے راستے پر ہیں، جو دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اٹلی میں سب سے زیادہ دائیں بازو حکومت کی رہنمائی کریں گی۔ 

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اتوار کے عام انتخابات میں تقریباً دو تہائی پولنگ سٹیشنوں سے ووٹوں کی گنتی کی بنیاد پر لگائے گئے اندازوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ میلونی کی  پارٹی برادرز آف اٹلی 25.7 فیصد ووٹ کی اکثریت حاصل کرے گی۔ 

ان کے حریف سابق وزیر اعظم اینریکو لیٹا کی مرکزی بائیں بازو کی ڈیموکریٹک پارٹی کو 19.3 فیصد ووٹ ملنے کی توقع ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جورجیا میلونی کی کامیابی اٹلی میں ڈرامائی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے، جو یورپی یونین کے بانی ممالک میں سے ہے اور یورو زون کی تیسری سب سے بڑی معیشت ہے۔ 

اگرچہ نئی حکومت کی تشکیل کے عمل میں ہفتوں لگ سکتے ہیں لیکن توقع ہے کہ ’خدا، ملک اور خاندان‘ کے نعرے پر مہم چلانے والی جورجیا میلونی اٹلی کی پہلی خاتون وزیر اعظم بن جائیں گی۔

بڑھتی ہوئی افراط زر، توانائی کے بحران اور یوکرین میں جنگ کے وقت، 45 سالہ اس خاتون نے اپنے تجربے کی کمی اور بنیاد پرست ماضی کے بارے میں فکر مند لوگوں کو یقین دلانے کی کوشش کی ہے۔

جورجیا میلونی نے فتح کے بعد کی تقریر میں کہا: ’اگر ہم اس قوم پر حکومت کرنے کے لیے آئے تو ہم یہ تمام اطالویوں کے لیے کریں گے۔ ہم یہ کام لوگوں کو متحد کرنے کے مقصد سے کریں گے، ان میں تقسیم کی بجائے اتحاد کو بڑھانے کے مقصد سے۔‘ 

ان کے اتحادی میٹیو سالوینی کی انتہائی دائیں بازو کی لیگ اور سابق وزیر اعظم سلویو برلسکونی کی فورزا اطالیہ انتخابات میں ان سے پیچھے رہ گئیں۔ لیکن پیش گوئی کی گئی تھی کہ یہ مجموعی طور پر تقریباً 43 فیصد ووٹ لیں گی، جو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے کافی ہے۔

مکمل نتائج پیر کو متوقع ہیں لیکن اس اتحاد کی اہم حریف بائیں بازو کی ڈیموکریٹک پارٹی نے شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک ’افسوسناک‘ دن ہے۔

جورجیا میلونی ماضی میں یورو زون کے بارے میں تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں، مگر اب وہ نہیں چاہتیں کہ اٹلی یورو زون سے نکل جائے۔ تاہم ان کا ماننا ہے کہ روم کو اپنے مفادات پر زیادہ زور دینا چاہیے اور اس کے پاس ایسی پالیسیاں ہوں جو عوامی اخراجات کے قوانین سے لے کر بڑے پیمانے پر نقل مکانی تک ہر چیز پر برسلز کو چیلنج کریں۔

جولائی میں قومی اتحاد کی حکومت کے خاتمے کے بعد وزیر اعظم ماریو ڈریگی کی جانب سے قبل از وقت انتخابات کا اعلان کیے جانے کے بعد سے ہی جورجیا میلونی پولز میں سب سے آگے تھیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اطالوی سیاست انتہائی غیر مستحکم ہے، 1946 کے بعد سے تقریباً 70 حکومتیں آئی ہیں، اور میلونی، سالوینی اور برلسکونی ہمیشہ متفق نہیں رہے۔

برادرز آف اٹلی کی جڑیں پوسٹ فاشسٹ تحریک میں ہیں جس کی بنیاد بینیتو موسولینی کے حامیوں نے رکھی تھی، اور جورجیا میلونی خود اپنی جوانی میں آمر کی تعریف کر چکی ہیں۔ تاہم اس کے بعد سے انہوں نے اس ماضی سے خود کو دور کرنے کی کوششیں کی ہیں۔

2018 کے عام انتخابات میں انہیں صرف چار فیصد ووٹ ملے تھے مگر اس کے بعد سے انہوں نے خود کو ایک سیاسی طاقت میں ڈھالا ہے اور اتوار کے نتائج اس کا ثبوت ہیں۔ 

ان کے اتحاد نے کم ٹیکسوں، ماس امیگریشن کے خاتمے اور کیتھولک خاندانی اقدار کی بنیاد پر مہم چلائی، جس کے بارے میں ناقدین کو خدشہ ہے کہ اسقاط حمل جیسے مشکل سے حاصل کردہ حقوق واپس لیے جا سکتے ہیں۔

یہ اتحاد وبائی امراض کے بعد یورپی یونین کے بحالی کے فنڈ پر بھی دوبارہ بات چیت کرنا چاہتا ہے کیونکہ وہ اٹلی کو ملنے والے 200 ارب یورو میں موجودہ توانائی بحران کو مدنظر رکھوانا چاہتا ہے۔ 

لیکن فنڈز کی فراہمی اصلاحات کے ایک سلسلے سے مشروط ہیں جو اٹلی کے وزیر اعظم  ماریو ڈریگی نے شروع کیا ہے، اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ  جورجیا میلونی کے پاس سازباز کی گنجائش بہت کم ہے۔

یورپی یونین پر اپنی تنقید کے باوجود، جورجیا میلونی نے یوکرین پر روس کے خلاف یورپی یونین کی پابندیوں کی سختی سے حمایت کی ہے۔

جورجیا میلونی ایک ذاتی برانڈ

اے ایف پی کے مطابق یورپی یونین، بڑے پیمانے پر امیگریشن اور ’ایل جی بی ٹی لابیوں‘ کی مخالف اور اکثر شدید لڑاکا ظاہر ہونے والی، 45 سالہ جورجیا میلونی نے ناخوش ووٹروں کی حمایت حاصل کرتے ہوئے اپنا ایک طاقتور ذاتی برانڈ بنایا ہے۔

انہوں نے روم میں 2019 کی ایک ریلی میں اعلان کیا، ’میں جورجیا ہوں، میں ایک عورت ہوں، میں ایک ماں ہوں، میں اطالوی ہوں، میں مسیحی ہوں۔‘

ان کے الفاظ اور بھی زیادہ مشہور تب ہوگئے جب ایک گانے میں ان کا ریمکس کیا گیا جو وائرل ہوگیا۔

15 جنوری 1977 کو روم میں پیدا ہونے والی جورجیا میلونی کے والد کے چلے جانے کے بعد ان کی پرورش والدہ نے گرباٹیلا کے محنت کش طبقے کے علاقے میں کی تھی۔

وہ طویل عرصے سے سیاست سے وابستہ ہیں۔ 2012 میں 31 سال کی عمر میں جنگ کے بعد اطالوی تاریخ میں سب سے کم عمر وزیر اور  برادرز آف اٹلی کی شریک بانی بنیں۔

میلونی اطالوی سوشل موومنٹ (ایم ایس آئی) کے یوتھ ونگ کے ساتھ ایک نوعمر کارکن تھیں، جس کو دوسری عالمی جنگ کے بعد فاشسٹ آمر بینیتو موسولینی کے حامیوں نے تشکیل دیا تھا۔

19 سال کی عمر میں انتہائی دائیں بازو کے نیشنل الائنس کے لیے مہم چلاتے ہوئے  انہوں نے فرانسیسی ٹیلی ویژن کو بتایا: ’موسولینی ایک اچھے سیاستدان تھے، انہوں نے جو کچھ بھی کیا، اٹلی کے لیے کیا۔ ‘

2006 میں نیشنل الائنس کے رکن پارلیمنٹ منتخب ہونے کے بعد انہوں نے اپنا لہجہ تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ آمر نے ’غلطیاں‘ کیں، خاص طور پر نسلی قوانین، اپنی مطلق العنانیت اور ایڈولف ہٹلر کے نازی جرمنی کی طرف سے دوسری عالمی جنگ میں شریک ہوکر۔

ان کی پارٹی کا نام اٹلی کے قومی ترانے کی پہلی سطر سے لیا گیا ہے اور لوگو بھی ملک کے پرچم کے سبز ، سفید اور سرخ رنگ سے بنا ہوا وہی شعلہ ہے جو ایم ایس آئی استعمال کرتی ہے۔

وہ لوگو تبدیل کرنے کا مطالبے مسترد کر چکی ہیں، انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس شعلے کا ’فاشزم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘ 

انہوں نے گذشتہ ماہ غیر ملکی نامہ نگاروں کو بھیجے گئے ایک سہ زبائی ویڈیو پیغام میں کہا، ’اطالوی دائیں بازو نے کئی دہائیوں سے فسطائیت کو تاریخ کے حوالے کر دیا ہے۔‘

وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ ان کی پارٹی میں’ پرانے حالات و واقعات دہرانے والے رویوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔‘

اپنے صحافی ساتھی کے ساتھ جورجیا میلونی کی ایک بیٹی ہے جس کی پیدائش 2006 میں ہوئی۔

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ