پی آئی اے نے ’نامناسب الفاظ‘ پر مبنی نوٹیفیکیشن واپس لے لیا

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے اس نوٹیفیکشن پر شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا اور اسے نجی زندگی میں مداخلت اور ’اخلاقی پولیس‘ تک سے تعبیر کیا گیا۔

پی آئی اے حکام کے مطابق متعدد شکایات کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا تھا جس کا مقصد عملے کی رہنمائی اور ان کی حفاظت کرنا بھی تھا(اے ایف پی)


پاکستان کی قومی ائیرلائن پی آئی اے نے سوشل میڈیا پر تنقید کے بعد 26 ستمبر کو جاری کیے جانے والا نوٹیفیکیشن واپس لے لیا۔

اس سروس سٹینڈرڈ بلیٹن یا نوٹیفیکشن میں فضائی عملے کو نیا ہدایت نامہ جاری کیا گیا تھا جس میں دوران سفر جب وہ ہوٹل میں قیام کریں یا مقامی دفاتر میں جائیں تو اس وقت ان پر مناسب لباس زیب تن کرنے اور زیر جامہ پہننا لازمی قرار دیا گیا تھا۔

پی آئی اے کے فلائٹ سروس منیجر عامر بشیر کی جانب سے جاری ہونے والے اس ہدایت نامے میں لکھا تھا کہ ’کچھ کیبن کریو جب مقامی سفر کے دوران ہوٹل خاص کر ناشتے کی میز پر، اور مقامی دفاتر میں ایسا لباس پہنتے ہیں جو دیکھنے والوں پر نہ صرف ان کا بلکہ بطور ادارہ پی آئی کا برا تاثر پیدا کرتا ہے۔‘

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے اس سروس سٹینڈرڈ بلیٹن پر شدید منفی ردِ عمل دیکھنے میں آیا اور اسے نجی زندگی میں مداخلت اور ’اخلاقی پولیس‘ تک سے تعبیر کیا گیا۔

عبداللہ حفیظ خان نے انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ’ پی آئی اے انتظامیہ نے ائیرلائن کے فضائی عملے کو ان سے متعلق وائرل سرکلر پر وضاحت جاری کرتے ہوئے اسے واپس لے لیا ہے اور جاری کردی سرکلر میں استعمال کیے گئے ’نامناسب‘ الفاظ پر تاسّف کا اظہار کیا ہے۔‘

عبداللہ حفیظ شیخ کے مطابق ’پاکستان کی قومی ائیر لائن کی جانب سے اپنے عملے کے لیے جاری کردہ سرکلر یا سروس بلیٹن میں بہتر الفاظ کا استعمال کیا جاسکتا تھا، جس سے عملے کی بہتر رہنمائی ہوسکتی تھی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے واضح کیا کہ ’اس سرکلر کا مقصد پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائن کی پہلے سے موجود واضح گرومنگ پالیسی کے تحت اپنے فضائی عملے کا معیار مزید بہتر بنانا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ائیرلائن کا فضائی عملہ، پی آئی اے کا سفیر ہوتا ہے، اس لیے ادارے کی ان سے توقعات بلند ہوتی ہیں اور وہ ادارے کی توقیر کے ضامن ہوتے ہیں۔‘

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ مذکورہ سرکلر دراصل سوشل میڈیا (فیس بک) پر عملے کی کچھ خواتین کی تصاویر کے ساتھ ایک غیر مناسب بلکہ غیر اخلاقی پوسٹ کا ردِ عمل تھا، اور وہ پوسٹ ہماری معاشرتی روایت کے مکمل برعکس عمل تھی۔

پی آئی اے کے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’پاکستان میں چند چھوٹے شہر جہاں پی آئی اے کی پروازیں جاتی ہیں، وہاں سے شکایات موصول ہوئی تھیں کہ عملے کے مرد ارکان نیکر پہن کر ہوٹل میں ناشتہ کرنے پہنچ جاتے ہیں جبکہ خواتین ارکان شب خوابی کے لباس میں ان شہروں کی مقامی روایت کا خیال رکھے بغیر ناشتہ کرنے پہنچتی تھیں جس پر ہوٹلز کی انتظامیہ کی جانب سے شکایات موصول ہو رہی تھیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’متعدد شکایات کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا تھا جس کا مقصد عملے کی رہنمائی اور ان کی حفاظت کرنا بھی تھا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان