وفاق کو پولیس کی نفری نہیں دیں گے: وزیر داخلہ پنجاب

صوبائی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ ان رہنماؤں میں سے جو ضمانت پر ہیں انہیں تو گرفتار نہیں کیا جا سکتا البتہ پولیس قانون کے مطابق کارروائی کر رہی ہے۔

پنجاب کے وزیر داخلہ ہاشم ڈوگر کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کے شرکا کو وفاقی حکومت کی سکیورٹی وال نہیں روک سکے گی۔

پنجاب کے وزیر داخلہ ہاشم ڈوگر کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کی بھر پور تیاریاں جاری ہیں، عمران خان کی کال پر پنجاب سے شرکا کی تعداد اتنی زیادہ ہو گی کہ وفاقی حکومت کی سکیورٹی انہیں روک نہیں پائے گی۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مذید کہا کہ ’جہاں تک ن لیگی رہنماؤں کی گرفتاریوں کا تعلق ہے تو حکومت نے کوئی مخصوص فہرست نہیں بنائی۔

’جن اراکین نے صوبائی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی اور بدمعاشی کی اور مریم نواز کی قیادت میں نیب آفس پر حملہ کیا گیا وہ مقدمات درج ہیں جن میں 100 سے زیادہ افراد نامزد ہیں۔‘

صوبائی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ ان رہنماؤں میں سے جو ضمانت پر ہیں انہیں تو گرفتار نہیں کیا جا سکتا البتہ پولیس قانون کے مطابق کارروائی کر رہی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے صوبائی وزیر داخلہ سے پوچھا کہ اگر وفاق نے نفری مانگی تو دی جائے گی؟

اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’18ویں ترمیم کے تحت وفاق صوبے کو حکم نہیں دے سکتا صوبوں کی سکیورٹی ان کا اپنا معاملہ ہوتا ہے۔ اگر نفری مانگی بھی گئی تو دینا یا نہ دینا صوبائی اختیار ہے، ہم نفری نہیں دیں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہاشم ڈوگر سے سوال کیا گیا کہ اگر عمران خان نے لانگ مارچ کی کال دی تو کیا اسلام آباد اور پنجاب پولیس آمنے سامنے ہو گی؟

اس پر ان کا کہنا تھا کہ ’لانگ مارچ ہم بطور پارٹی کر رہے ہیں، پنجاب حکومت یا پولیس کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وفاقی اور پنجاب پولیس مورچے بنا کر ایک دوسرے پر فائر کھولے گی تو یہ غلط ہے۔‘

ہاشم ڈوگر کا کہنا تھا کہ ’ہماری جماعت کا بھی ایسا کوئی ارادہ نہیں کہ سکیورٹی فورسز کو ایک دوسرے کے مخالف کھڑا کیا جائے۔ ہاں البتہ پنجاب سے اتنی عوام لانگ مارچ میں شریک ہوگی کہ وفاق کی سکیورٹی وال ان کا راستہ نہیں روک سکے گی، لانگ مارچ میں پنجاب پولیس کو شامل نہیں کریں گے اور سکیورٹی بھی نہیں لیں گے۔‘

پنجاب میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر حکومتی حکمت عملی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس بارے میں اجلاس چل رہے ہیں، پولیس کو الرٹ کیا جا رہا ہے، اس معاملے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے، جلد یہ حالات بھی قابو میں آ جائیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست