نشے کی روک تھام کے لیے فیصل آباد پولیس کی ’بریکنگ دی آئس‘ ایپ

فی الحال اس ایپ کو صرف فیصل آباد میں متعارف کروایا گیا ہے، جس کی کامیابی کے بعد اسے پورے پنجاب میں شروع کیا جائے گا۔

آئس کے نشے کی روک تھام کے لیے فیصل آباد پولیس کی جانب سے ’بریکنگ دی آئس‘ ایپ کے لانچ کے موقع پر لی گئی تصویر (سی پی او فیصل آباد)

فیصل آباد پولیس نے آئس کے نشے کی روک تھام کے لیے ’بریکنگ دی آئس‘ کے نام سے ایک ایپ متعارف کروا دی ہے، جس کی ممکنہ کامیابی کے بعد اسے پورے پنجاب میں متعارف کروایا جاسکتا ہے۔

سٹی پولیس آفیسر (سی پی او) عمر سعید ملک نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس ایپ کا خیال انہیں فیصل آباد میں چند ماہ قبل ہونے والے ایک واقعے کے بعد آیا، جس میں فیصل آباد کے ایک معروف بزنس مین شیخ دانش نے ایک لڑکی پر تشدد کیا، اس سے جوتے چٹوائے اور اس کی ویڈیو بنائی جو بعد میں وائرل ہو گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ  شیخ دانش آئس کے نشے کے عادی ہیں اور ان کے گھر سے بھی آئس کا نشہ برآمد ہوا تھا۔ 

انہوں نے بتایا کہ اس ایپ کو کسی بھی ایپل سٹور یا پلے سٹور سے ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے تین فیچرز ہیں، مدد، معلومات اور شکایات۔ 

شکایات والے فیچر میں یہ ہے کہ اگر کسی شخص کو یہ معلوم ہے کہ کوئی آئس کا نشہ کرتا ہے، چاہے وہ اس کا ہم جماعت ہے، ساتھ ٹیوشن پڑھتا ہے یا کہیں اور ساتھی ہے تو وہ اس ایپ کے شکایات والے فیچر میں جا کر اس کی شکایت کرسکتا ہے اور شکایات والے فیچر کی خاص بات یہ ہے کہ شکایت کرنے والے کا نام ظاہر نہیں کیا جائے گا۔

دوسرا فیچر مدد کا ہے۔ اس میں اگر کوئی آئس نشے کا عادی ہم سے رابطہ کرنا چاہے تو وہ اس فیچر کے ذریعے ہم سے رابطہ کر سکتا ہے۔

سٹی پولیس آفیسر نے بتایا: ’وہاں ہمارے فوکل پرسن موجود ہیں اور ہم اس شخص کا علاج کروانے میں مدد فراہم کریں گے۔‘

عمر سعید کا کہنا تھا یہی وجہ ہے کہ پولیس نے اب تک اس ایپ کے حوالے سے سیمینار بھی میڈیکل یونیورسٹی، فیصل آباد میں کروایا ہے اور اس کا مقصد ڈاکٹرز کا تعاون حاصل کرنا تھا۔

انہوں نے بتایا: ’اس کے لیے ہم ایک ری ہیبلٹیشن سینٹر بھی میڈیکل یونیورسٹی میں جلد قائم کر رہے ہیں۔ وہ ہوگا تو یونیورسٹی کا لیکن ہم اس کے لیے کچھ مخیر حضرات کا تعاون فراہم کریں گے۔ اس ری ہیب میں وہ مریض آئیں گے جو اس نشے سے اپنی جان چھڑوانا چاہتے ہیں۔‘

سی پی او فیصل آباد نے مزید بتایا کہ اس ایپ کا تیسرا فیچر معلومات ہے۔

’لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ یہ کیا چیز ہے اور اس کے حوالے سے قوانین کیا کہتے ہیں۔ آئس کے نشے کے حوالے سے کچھ قوانین تبدیل ہوئے ہیں۔ چھ ستمبر کو آئس کے حوالے سے قانون سازی ہوئی ہے جس میں اس کی سزاؤں میں تبدیلی کی گئی ہے تو اس فیچر میں آئس کا کاروبار کرنے والوں کے حوالے سے قوانین اور سزاؤں کی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔‘

کیا یہ ایپ کارآمد ثابت ہو گی؟

اس حوالے سے پنجاب بار کونسل کے رکن ایڈوکیٹ چنگیزاحمد خان کا کہنا تھا: ’یہ ایپ تب ہی کامیاب ہو گی جب محمکہ پولیس میں موجود ان کالی بھیڑوں کو ڈھونڈ کر نکالا جائے گا جو منشیات فروشوں کے ساتھ ملی ہوئی ہیں۔ ایس ایچ اوز کو سب معلوم ہوتا ہے کہ کون ان منشیات کا کاروبار کرتا ہے اور کہاں کہاں ان کی سپلائی ہوتی ہے۔ ایسے عناصر کو جب نکالا جائے گا تو کافی چیزیں بہتر ہو جائیں گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس ایپ کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس پر جو بھی آئے گا اس کا نام ظاہر نہیں کیا جائے گا اور اس طرح لوگ اسے اعتماد کے ساتھ استعمال کر سکیں گے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ آئس کا نشہ باقی سب نشوں سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہ قدرتی طور پر نہیں بنتا بلکہ یہ کیمیکلز سے مل کر بنتا ہے، اس لیے یہ سب سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہ انسان کو تشدد پسند بنا دیتا ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’اس نشے کے حوالے سے قوانین سخت ہو چکے ہیں لیکن اس میں آئس کی مقدار پر منحصر ہے کہ آپ کو کتنی سزا ملے گی۔ جیسے اگر ایک کلو آئس ہے تو اس کے لیے زیادہ سے زیادہ 10 سال جبکہ کم سے کم سات سال کی قید اور آٹھ لاکھ روپے جرمانہ ہے جبکہ چار کلو سے زیادہ آئس ہونے کی صورت میں عمر قید کی سزا جبکہ جرمانہ 20 لاکھ روپے سے کم نہ ہوگا۔‘

چنگیز احمد خان کا کہنا ہے کہ اس ایپ اور آئس کے نشے کے نقصانات کے حوالے سے آگاہی سیمینارز اور واکس کا اہتمام کیا جانا چاہیے۔

اس ایپ تک رسائی کیسے ممکن ہو؟ 

اس حوالے سے عمر سعید ملک کا کہنا ہے: ’ہمارے جتنے بڑے شہر ہیں جیسے لاہور، فیصل آباد وغیرہ ہم وہاں کے تعلیمی اداروں میں متحرک ہو رہے ہیں۔ تقریباً ہر شخص کے پاس سمارٹ فون ہے خاص طور پر طالب علم، اس لیے انہیں اس ایپ تک رسائی ہوگی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’جن کے پاس سمارٹ فون نہیں ہے، اس کے لیے بھی ہم مہم چلا رہے ہیں جس میں ایک فوکل پرسن کا نمبر بھی مہیا کیا جائے گا جو اس ایپ کے اندر بھی دیا گیا ہے۔ اس نمبر پر کال کر کے ایپ والی سہولیات بھی لی جاسکتی ہیں۔‘

آئس کا نشہ ہے کیا؟

سی پی او فیصل آباد نےاپنے تجربے اورکچھ بین الاقوامی تحقیقات کا حوالہ بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ کرسٹل میتھ ایمفیٹامین جسے آئس بھی کہا جاتا ہے منشیات کے خاندان کا ایک حصہ ہے جسے ایمفیٹامائنز کہا جاتا ہے۔ یہ نشہ ایک لت کی مانند ہے اور دائمی جسمانی اور ذہنی صحت کے مسائل سے منسلک ہے۔

انہوں نے بتایا: ’کرسٹل میتھ ہمیشہ مصنوعی (نامیاتی نہیں) اور غیر قانونی طور پر تیار کیا جاتا ہے۔ چونکہ تمام کرسٹل میتھ غیر قانونی طور پر تیار کیے گئے ہیں، اس لیے کوئی معیار نہیں ہے۔ یہ واضح کرسٹل ٹکڑوں یا چمکدار نیلے سفید چٹانوں میں آتا ہے۔ اسے ’آئس‘ یا ’گلاس‘ بھی کہا جاتا ہے۔‘

آئس کے اثرات کے حوالے سے انہوں نے بتایا: ’آئس مرکزی اعصابی نظام کا محرک ہے۔ اس کی وجہ سے ڈوپامائن کی اعلیٰ سطح (ایک دماغی کیمیکل جو خوشی اور انعام سے وابستہ ہے) کو خارج کرتا ہے۔ یہ میتھ امفیٹامین کی دیگر اقسام سے زیادہ خالص اور زیادہ طاقتور ہے۔ ‘

عمر سعید نے بتایا کہ آئس چھوٹے کرسٹلز کی شکل میں آتی ہے جو برف کی طرح لگتے ہیں۔ یا سفید بھورے رنگ کے کرسٹل نما  پاؤڈرمیں ملتی ہے۔ ان کے مطابق اس کی بدبو تیز ہوتی ہے جبکہ ذائقہ تلخ ہوتا ہے جبکہ آئس کو انجیکشن، تمباکو نوشی، sسونگھنے یا نگل کر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ۔

آئس کا نشہ زیادہ تر کون کرتا ہے اور کیوں؟

سی پی او فیصل آباد عمر سعید ملک نے بتایا کہ اینٹی نارکوٹکس فورس کے اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً دو کروڑ 70 لاکھ افراد منشیات کے استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے بتیا کہ خاص طور پر تعلیمی اداروں میں نوجوان طلبہ میں کرسٹل میتھ کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ طالب علموں میں اس نشے کے استعمال کی مختلف وجوہات ہیں جیسے کہ زیادہ وقت تک مطالعہ کیا جانا، ساتھیوں کے دباؤ کی وجہ سے یا کسی سماجی گروپ میں فٹ ہونا۔

عمر سعید نے بتایا کہ اس کے علاوہ لوگ رکاوٹوں کو کم کرنے، اعتماد میں اضافے، تجسس یا تجربے کے لیے، بوریت سے بچنے کے لیے، دماغی صحت کے مسائل مثلاً خراب موڈ اور صدمے کے اثرات کو کم کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یادداشت کے لیے بھی لوگ اسے استعمال کرتے ہیں جیسے بے روزگاری، غیر مستحکم رہائش، مالی مشکلات، سماجی مدد کی کمی، تناؤ وغیرہ یا اپنے کام کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے بھی لوگ آئس کا نشہ کرتے ہیں۔ 

عمر سعید ملک کے مطابق آئس کا ہدف پڑھے لکھے اور پیسے والے لوگ ہیں کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی پڑھائی اور کارکردگی بہتر ہو جائے۔

ان کے مطابق: ’میتھ یا آئس دماغ میں ڈوپامائن ریلیز کرتی ہے، جس سے وقتی طور پر آپ کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔ آپ کے سونے کے اوقات کم ہو جاتے ہیں اور اس طرح طالب عموں کو لگتا ہے کہ ان کو پڑھائی کا وقت زیادہ مل جائے گا، اس لیے ہمارا ہدف تعلیمی ادارے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ آئس کے حوالے سے جتنے بھی کیسز سامنے آئے ہیں، ان میں پڑھے لکھے لوگ اس نشے میں ملوث پائے گئے ہیں۔ 

پاکستان میں آئس کے نشے کے حوالے سے کوئی ڈیٹا موجود ہے؟

اس حوالے سے عمر سعید ملک کا کہنا تھا کہ یہ وہ فیلڈ ہے جس پر بہت کم کام ہوا ہے۔

’فیصل آباد پولیس نے اب اس پر کام شروع کیا ہے اور اس ایپ کے ذریعے ہمارے پاس ڈیٹا بھی آئے گا اور جب ڈیٹا آنا شروع ہو گا تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ ہمارا سکوپ آف ورک کتنا ہے؟ 100 فیصد ڈیٹا موجود نہیں ہے اور ڈیٹا اکٹھا ہونے کا انحصار اس ایپ پر ہے کہ یہ کتنی کامیاب ہو گی اور لوگ ہمیں کس طرح معلومات فراہم کریں گے۔‘

کیا آئس کا نشہ پرتشدد خیالات کو ابھارتا ہے؟

عمر سعید ملک نے بتایا کہ مختلف میڈیکل تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ آئس کا نشہ پر تشدد خیالات اور عمل کو بڑھاوا دیتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شروع میں تو یہ آپ کو خوشی دیتا ہے، ذہن کو سکون اور آپ کی کارکردگی کو بہتر کرتا ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کے زیادہ استعمال سے انسان پرتشدد ہوتا جاتا ہے، اس کے اندر ہمدردی کا عنصر صفر ہو جاتا ہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس آئس سے متاثرہ جتنے بھی کیسز آئے وہ کوئی عام لوگ نہیں تھے بلکہ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ تھے جو اس نشے کے استعمال کے بعد پرتشدد ذہنی خیالات کی انتہا کو پہنچ گئے تھے۔

عمر سعید نے دانش شیخ کیس کے علاوہ اسلام آباد میں نور مقدم قتل کیس کی  مثال دی جس میں بھی قاتل آئس کے نشے کا عادی تھا۔

اس کے علاوہ انہوں نے گذشتہ برس کراچی میں آئس کا نشہ کرنے والے میاں بیوی کی بھی مثال دی جس میں آئس کے نشے کے نتیجے میں بیوی نے شوہر کے ٹکڑے کردیے تھے۔

عمر سعید ملک نے بتایا کہ یہ ایپ آئی جی پنجاب فیصل شاہکار کی ہدایت اور مشورے کے بعد فیصل آباد میں بطور پائلٹ پراجیکٹ شروع کی گئی ہے۔ اس کی کامیابی کے بعد جلد اسے پورے پنجاب میں شروع کیا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان