کیا برطانیہ خلیج میں ایک نئے تنازع میں الجھ سکتا ہے؟

ایران کی جانب سے برطانوی تیل بردار بحری جہاز کو قبضے میں لیے جانے کے بعد لندن اور تہران کے تعلقات دہائیوں کی نچلی ترین سطح پر پہنچ گئے۔

ایران کی جانب سے قبضے میں لیے گئے برطانوی تیل بردار بحری جہاز کی تصویر (اے ایف پی)

ایران کی جانب سے برطانوی تیل بردار بحری جہاز کو قبضے میں لیے جانے کے بعد اتار چڑھاؤ کے شکار لندن اور تہران کے تعلقات دہائیوں کی نچلی ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔

ایک ایسے وقت میں جب ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی فوجیوں کو دوبارہ سعودی عرب بھیجنے کا فیصلہ کر لیا ہے، واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے اور دھمکیوں کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

ادھر خطے کی نئی صورتحال کے تناظر میں لندن میں برطانوی کابینہ کی ہنگامی کمیٹی ’کوبرا‘ کے طویل اجلاس میں، جو سنیچر کی صبح تک جاری رہا، فیصلہ کیا گیا کہ برٹش ایئر ویز کی قائرہ کے لیے پروازوں کو حفاظتی انتباہ کے طور پر ایک ہفتے کے لیے منسوخ کر دیا جائے۔

اگرچہ فوری طور پر واضح نہیں کہ برطانوی کابینہ کے اس اقدام کا تعلق خلیج کی صورت حال سے تھا یا نہیں لیکن اس پیش رفت کو خطے کی غیر یقینی صورتحال اور بے چینی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

وزیر خارجہ جیریمی ہنٹ نے اپنے ایرانی ہم منصب محمد جاوید ظریف سے گفتگو کرتے ہوئے تہران پر زور دیا کہ وہ برطانوی ٹینکر کو آزاد کرنے کے لیے اقدامات کرے۔

ہنٹ نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ آئل ٹینکر پر ایرانی قبضہ غیر قانونی اور بلا جواز تھا اور مطالبہ کیا کہ جہاز اور اس کے عملے کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

جاوید ظریف کا کہنا تھا کہ ایران کا یہ اقدام اس کے بحری جہاز ’گریس ون‘ کو جبرالٹر میں برطانوی حکام کی جانب سے قبضے میں لیے جانے کے خلاف ردعمل ہے۔

برطانیہ نے یورپی یونین کی پابندیوں کے باوجود شام میں بشارالاسد کی حکومت کے لیے تیل سپلائی کرنے کے الزام میں ایرانی آئل ٹینکر کو قبضے میں لے لیا تھا۔

اگرچہ صورتحال غیر واضح ہے تاہم برطانوی وزیر خارجہ کا کہنا ہے ظریف نے انہیں بتایا تھا کہ ایران کا برطانوی ٹینکر کو قبضے میں لینے کا فیصلہ ’آدلے کا بدلہ‘ ہے۔

تاہم تہران نے یہ بھی کہا ٹینکر کو ماہی گیروں کی کشتی سے ٹکرانے اور پھر روکنے سے انکار کے بعد حراست میں لیا گیا۔

ملک کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق برطانوی بحری جہاز کو بین الاقوامی قانون کے تحت حراست میں لے کر بندرعباس پر لنگر انداز کرایا گیا۔ تاہم ایران کے اس سرکاری موقف میں جبرالٹر کے واقعے کا ذکر نہیں۔

ہنٹ نے اشارہ دیا ہے کہ برطانیہ کشیدگی کم کرنے کے لیے ایران کو اس کا تیل بردار بحری جہاز واپس کرنے کے لیے تیار ہے اگر وہ یہ یقین دہانی کرائے کہ یہ تیل شام نہیں بھیجا جائے گا۔

ہنٹ نے اپنی ٹویٹ میں کہا: ’ایک مثبت پیش رفت میں ایران نے مجھے گذشتہ ہفتے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ کشیدہ صورتحال کو معمول پر لانا چاہتا ہے۔ اگر ہمیں [مفاہمت کا] راستہ تلاش کرنا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اس [عزم] کا الفاظی طور پر نہیں بلکہ عملی طور پر مظاہرہ ہونا چاہیے۔ برطانیہ کی جہازرانی کو تحفظ دیا جانا چاہیے۔‘

برطانوی وزیر دفاع پینی مارڈنٹ نے تصدیق کی کہ رائل نیوی کی ایک فریگیٹ اس مقام سے محض ایک گھنٹے کی مسافت پر موجود تھی جہاں ایرانی حکام نے برطانوی ٹینکر کو حراست میں لیا۔ انہوں نے اصرار کیا کہ ان کا بحری جہاز عمان کے پانیوں کی حدود میں تھا۔

اس واقعے کے وقت اگرچہ برطانوی رائل نیوی کی ایک فریگیٹ، چار مائن ہنٹرز اور معاون شاہی بیڑہ خلیج میں موجود تھا تاہم لندن سے پیغام بھیجا گیا تھا کہ فوجی کارروائی پرغور نہیں کیا جائے گا۔

ہنٹ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر برطانوی ٹینکر رہا نہیں کیا گیا تو اس کا بھرپور اور سخت جواب دیا جائے گا تاہم انہوں نے بھی فوجی کارروائی کی بات نہیں کی۔

انہوں نے کہا اگر آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران صورتحال میں کوئی ڈرامائی تبدیلی نہ ہوئی تو وہ پیر کو ہاؤس آف کامنز میں اس حوالے سے بیان دیں گے، جو یقیناً یہ نہیں ہو گا کہ برطانوی فورسز بندر عباس پر چڑھائی کے لیے تیار ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فرانس اور جرمنی نے برطانوی ٹینکر پر ایرانی قبضے کی مذمت کی ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کی حکومت نے کہا ایران کی اس کارروائی سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ انجیلا مرکل کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ اہم بحری گزرگاہ میں یہ کارروائی بلاجواز تھی اور جرمنی ایران سے برطانوی جہاز اور اس کے عملے کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتا ہے۔

اس تمام صورتحال میں صدر ٹرمپ کے سعودی عرب میں پیٹریاٹ میزائل، ایف 22 جنگی جہازوں کے ایک سکواڈرن اور فوجی دستوں کی تعیناتی کے فیصلے سے کشیدگی کا شکار یہ خطہ ایک اور تصادم کی جانب گامزن دیکھائی دیتا ہے۔

تاہم 24 گھنٹوں میں ٹرمپ نے روایتی انداز میں پینترا بدلتے ہوئے جمعے کو اس بات کی تصدیق کی کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے انہوں نے سینیٹر رینڈ پال کو ایران سے مذاکرات کرنے کے لیے مقرر کیا ہے۔

موجودہ صورتحال میں پال کی تقرری اہمیت کی حامل ہے۔ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی پارٹی کے سینیٹرہونے کے باوجود وہ بیرون ملک امریکی فوجی کارروائیوں کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔

سینیٹر پال کا موقف صدر ٹرمپ اور ان کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن سے، جو امریکی فوجی کارروائی اور تہران میں حکومت کی تبدیلی کے بڑے حامی ہیں، یکسر مختلف ہے۔

پال ان کانگریس اراکین میں شامل تھے جنہوں نے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت کی کھل کر مخالفت کی تھی جبکہ صدر ٹرمپ کی سوچ اس معاملے میں ان سے بالکل برعکس تھی۔

لہذا اب ایک انتہائی غیرمستحکم صورتحال میں تہران اور واشنگٹن متضاد اور غیر واضح پیغامات دیے رہے ہیں۔

امریکہ کی دستبرداری کے بعد برطانیہ جو فرانس، جرمنی، روس اور چین سے مل کر ایران کے ساتھ طے پائے گئے جوہری معاہدے کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے، اس صورت حال میں جہاں خلیج میں فوجی سازوسامان منتقل کیا جا رہا ہے کسی نئے تنازع میں الجھ سکتا ہے جس کے غیر معمولی نتائج کا خطرہ ہمیشہ موجود رہے گا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا