کشمیر پر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش، بھارت کا انکار

اگر میں کوئی مدد کر سکتا ہوں تو میں ثالث بننے میں بہت خوشی محسوس کروں گا: صدر ٹرمپ

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاکستان سے دورے کی دعوت ملی تو ضرور جاؤں گا (اے ایف پی)

وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات ہوئی جسے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کے پس منظر میں انتہائی اہم خیال کیا جارہا ہے۔

وائٹ ہاؤس آمد کے موقع پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی وزیراعظم کا خیر مقدم کیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ تھے۔ دونوں رہنماؤں نے مصافحہ کیا اور اجلاس کے لیے اندر چلے گئے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے متعلق پاکستان کے کردار کو سراہا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے حوالے سے ہماری بہت معاونت کررہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت میں ثالثی کی پیشکش بھی کی۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا، ’اگر میں کوئی مدد کر سکتا ہوں تو میں ثالث بننے میں بہت خوشی محسوس کروں گا۔ آپ کو جب بھی ضرورت ہو، مجھے بتائیے۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اس بارے میں ان سے بات کی تھی۔

صدر ٹرمپ کے بیان پر وزیر اعظم عمران خان نے جواب دیا کہ اگر آپ ثالثی کرائیں گے تو ایک ارب لوگ آپ کے ساتھ ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے لگتا ہے صدر ٹرمپ کی صدارت میں  دنیا کی سب سے طاقتور ریاست امریکہ، پاکستان اور بھارت کو قریب لا سکتا ہے۔

دوسری طرف بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کا اپنے ٹوئٹر بیان میں کہنا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ایسی کوئی درخواست صدر ٹرمپ سے نہیں کی ہے۔

ان کے مطابق بھارت کا موقف ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ ایسے تمام معاملات بھارت اور پاکستان کی جانب سے دو طرفہ طور پر حل ہونے چاہئیں۔ پاکستان کے ساتھ ایسا کوئی بھی تعاون کرنے سے پہلے سرحدوں پر دہشت گردی ختم کرنا ہو گی۔ شملہ معاہدہ اور اعلامیہ لاہور ایسے تمام معاملات کو حل کرنے میں بنیادی اہمیت کے حامل ہوں گے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں تحریک حریت کے سربراہ سید علی گیلانی نے حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے کہ انہوں نے یہ مسئلہ امریکی حکومت کے آگے اٹھایا۔

 

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے پاکستان کی جو امداد بند کر دی تھی وہ بحال ہو سکتی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی امداد اس لیے بند کی تھی کہ وہ امریکہ کی مدد نہیں کر رہا تھا، یہ بات عمران خان کی حکومت بننے سے پہلے کی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاکستان ماضی میں امریکہ کا احترام نہیں کرتا تھا لیکن اب ہماری کافی مدد کررہا ہے، ہم افغانستان میں اپنی فوج کی تعداد کم کررہے ہیں۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کا خواہشمند تھا، پاکستان کیلئے امریکہ بہت اہمیت رکھتا ہے، روس کے خلاف افغان جنگ میں پاکستان فرنٹ اسٹیٹ تھا۔

عمران خان نے مزید کہا کہ پاکستان نے نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار جانوں کی قربانی دی، افغان تنازع کا حل صرف طالبان سے امن معاہدہ ہے۔ امید ہے ہم آنے والے دنوں میں طالبان پر مذاکرات جاری رکھنے پر زور دینے کے قابل ہوں گے۔ ایک صحافی کے سوال پر وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے معاملے پر بھی بات ہوگی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ مل کر افغان جنگ سے باہر نکلنے کی راہ تلاش کررہا ہے۔

اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات شروع کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاکستان سے دورے کی دعوت ملی تو ضرور جاؤں گا۔  انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے لوگ بہت اچھے ہیں، پاکستان میں میرے کافی دوست ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ عمران خان پاکستان کے مقبول ترین وزیراعظم ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کی صدر ٹرمپ سے ملاقات کے ابتدائی لمحات پی ٹی آئی کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل سے دیکھے جا سکتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس سے جاری شدہ اعلامیے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ملاقات میں انسداد دہشت گردی، دفاع، توانائی اور تجارت پر بات چیت کی گئی۔ 

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ مضبوط تجارتی تعلقات امریکہ اور پاکستان کیلئے فائدہ مند ہوں گےاور صدر ٹرمپ پاکستان کے ساتھ مضبوط معاشی اور تجارتی تعلقات چاہتے ہیں نیز امریکہ جنوبی ایشیا میں امن کیلئے سازگار حالات پیدا کرنے کے عزم پر قائم ہے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ صدرٹرمپ جنوبی ایشیا کے امن، استحکام اور خوشحالی کیلئے پاکستان کے ساتھ مل کام کر رہے ہیں۔

دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد ظہرانہ ہوا جس میں کابینہ کے ارکان اور امریکی محکمہ دفاع کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ بعد ازاں وزیر اعظم عمران خان کو صدر ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس کا دورہ کروایا گیا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عمران خان اور ٹرمپ کے مصافحے کے بعد اپنی ٹویٹ میں اسے ’نئے پاکستان‘ کا آغاز قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ’پاکستانی قیادت امن اور خوشحالی کے بیانیے کے ساتھ یہاں موجود ہے۔‘

قبل ازیں وزیراعظم عمران خان سے امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے پاکستان ہاؤس میں ملاقات کی۔

اعلامیے کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور سینیٹر لنزے گراہم نے باہمی تعلقات اور علاقائی صورتحال پر گفتگو کی اور وزیراعظم عمران خان نے پاک امریکہ تعلقات کی بہتری کے لیے سینیٹر لنزے گراہم کی کوششوں کو سراہا۔

بعد ازاں اپنی ٹویٹ میں لنزے گراہم نے اس ملاقات کو خوش کن اور دیرپا اثرات کا حامل قرار دیا۔

اس ملاقات کو امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کی تجدید کے حوالے سے دونوں رہنمائوں کی کوششوں کا حصہ کہا جا رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست