ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: ’شکریہ نیدرلینڈز‘ پاکستان سیمی فائنل میں پہنچ گیا

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2022 کے گروپ ٹو کے میچ میں پاکستان نے بنگلہ دیش کو پانچ وکٹوں سے شکست دے کر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔

بنگلہ دیش نے پہلے کھیلتے ہوئے آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 127 رنز بنائے تھے، جواب میں پاکستانی ٹیم نے یہ ٹارگٹ 19ویں اوور میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر پورا کر لیا(اے ایف پی)

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2022 کے گروپ ٹو کے میچ میں پاکستان نے بنگلہ دیش کو پانچ وکٹوں سے شکست دے کر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔

بنگلہ دیش نے پہلے کھیلتے ہوئے آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 127 رنز بنائے تھے، جواب میں پاکستانی ٹیم نے یہ ٹارگٹ 19ویں اوور میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر پورا کر لیا۔

اس فتح کے ساتھ ہی پاکستان اپنے گروپ میں ٹاپ پر آ گیا ہے لیکن چونکہ انڈیا اور زمبابوے کے میچ کا نتیجہ آنا باقی ہے اس لیے ابھی تک اس گروپ کی حتمی ریٹنگ کا فیصلہ نہیں ہو سکا۔

حتمی رن ریٹ کے بعد ہی اس بات کا فیصلہ ہو گا کہ پاکستان اور انڈیا سیمی فائنل میں کس کا سامنا کریں گے۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان یہ میچ جنوبی افریقہ کے نیدرلینڈز سے ہارنے کے بعد سیمی فائنل سے پہلے ہی سیمی فائنل کی اہمیت اختیار کر چکا تھا اور اس میں فتح حاصل کرنے والی ٹیم کو سیمی فائنل تک رسائی حاصل ہو جانی تھی۔ اس گروپ سے انڈیا پہلے ہی سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر چکا ہے۔

زمبابوے سے شکست کے بعد پاکستان کے سیمی فائنل کے امکانات پر اگر مگر کے بادل منڈلانے لگے تھے لیکن جنوبی افریقہ کی نیدرلینڈز سے شکست کے بعد پاکستان کو سیمی فائنل تک رسائی کے لیے صرف بنگلہ دیش کو ہرانا تھا، اور پھر ایسا ہی ہوا۔

اتوار کو ایڈیلیڈ کے گراؤنڈ میں کھیلے جانے والے اس میچ میں بنگلہ دیش کے کپتان شکیب الحسن نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا تو ابتدا میں ان کا یہ فیصلہ درست دکھائی دینے لگا لیکن اوپنر لٹن داس کے آؤٹ ہونے کے بعد وقفے وقفے سے گرنے والی وکٹوں نے بنگلہ دیش کو میچ میں کہیں بھی قدم نہ جمانے دیے۔

سومیا سرکار، نجم الحسن شانتو اور عفیف حسین نے تھوڑی مزاحمت دکھائی لیکن ان کے علاوہ کوئی بھی بلے باز پاکستانی بولرز کے سامنے کھل کر نہ کھیل سکا۔

کپتان شکیب الحسن بھی شاداب خان کی گیند پر گولڈن ڈک کا شکار بن گئے۔ ان کے ایل بی ڈبلیو کے فیصلے پر پہلے ان کی اور پھر کمنٹیٹرز کی جانب سے بھی سوال اٹھائے گئے لیکن تھرڈ امپائر نے پورا وقت لینے کے بعد بھی آن فیلڈ امپائر کے فیصلے کو قائم رکھا۔

ان کے آؤٹ ہونے کے بعد بنگلہ دیش کی بلے باز صرف اوورز پورے کرنے کی کوشش کرتے رہے اور زیادہ رنز نہ بنا سکے۔

پاکستان کی جانب سے شاہین آفریدی کامیاب ترین بولر رہے۔ انہوں نے چار اوورز میں 22 رنز دے چار وکٹس لیں۔ انہیں پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ہدف کے تعاقب میں اننگز شروع کی تو محمد رضوان پہلے ہی اوور میں اس وقت خوش قسمت ثابت ہوئے جب تسکین احمد کی گیند پر کیپر نورالحس نے ان کا کیچ گرا دیا۔ یہ چانس ملنے کے بعد محمد رضوان اور بابر اعظم نے کچھ سنبھلی سنبھلی بیٹنگ تو کی لیکن رنز بنانے کی رفتار معمول سے بھی سست رہی۔

57 کے مجموعی سکور پر جب بابر اعظم آؤٹ ہوئے تو آج پاکستانی ٹیم مینجمنٹ نے بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی کرتے ہوئے محمد نواز کو بھیجا، جن کے کریز پر پہنچتے ہی محمد رضوان بھی یوں چل دیے جیسے ان سے بابر اعظم کے بغیر بیٹنگ نہ کی جا رہی ہو۔

رضوان کے بعد محمد حارث بیٹنگ کرنے آئے اور محمد نواز کے ساتھ مل کر اننگز کو آگے بڑھانا شروع کیا۔

گذشتہ میچ کے برعکس آج محمد حارث کا انداز کچھ بدلا بدلا دکھائی دیا اور موقعے کی نذاکت کو سمجھتے ہوئے انہوں نے سمجھ داری سے بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔

92 کے مجموعی سکور پر جب محمد نواز لٹن داس کی تھرو پر رن آؤٹ ہوئے تو شائقین کی دھڑکنیں پھر سے بے ربط ہونے لگیں لیکن بھلا ہو محمد حارث کا کہ جنہوں نے یہاں صورت حال کو سنبھال لیا اور شان مسعود کے ساتھ مل کر ہدف کا تعاقب جاری رکھا۔

محمد حارث جب 18 گیندوں پر 31 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو پاکستان کو جیت کے لیے 19 گیندوں پر صرف سات رنز درکار تھے جنہیں افتخار احمد کے آؤٹ ہونے کے بعد شان مسعود اور شاداب خان نے پورا کر لیا۔

پاکستان کی جانب سے محمد رضوان 32 رنز کے ساتھ ٹاپ سکورر رہے۔

اس میچ میں اگر پاکستان فیلڈنگ میں بھی بولنگ جیسی لگن دکھاتا تو بنگلہ دیش کا یہ سکور 127 سے کافی کم ہو سکتا تھا۔ اگر فیلڈر کیچ اور رن آؤٹ کے چانسز نہ چھوڑتے تو پاکستان کو اس سے بھی کم ہدف کا تعاقب کرنا پڑتا۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ