کراچی کے نوجوان کا فٹ بال ورلڈکپ کے لیے بلوچی ریپ کا تحفہ 

ملیر کے رہائشی مختوم مراد بلوچ نے بتایا :’مجھے فٹ بال کے کھیل سے محبت ہے، اس لیے میں نے یہ ریپ فیفا کے لیے گایا ہے۔‘

شہر قائد کراچی کے ضلع ملیر میں ایک نوجوان نے رواں ماہ قطر میں ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ کے لیے عالمی تنظیم فیفا کو بلوچی زبان میں ریپ کا ’تحفہ‘ دیا ہے۔

کراچی کے بلوچ اکثریت والے علاقوں لیاری اور ملیر میں فٹ بال کو جنون کی حد تک پسند کیا جاتا ہے اور ان علاقوں کے رہائشی نوجوان اور بچے پورا سال ہی گراؤنڈ اور گلیوں میں فٹ بال کھیلتے نظر آتے ہیں۔

کراچی کے ضلع ملیر میں واقع صدیق گوٹھ بھی ان میں سے ایک ہے، جہاں کے رہائشی مختوم مراد بلوچ نے فٹ بال ورلڈ کپ کے لیے بلوچی زبان میں ایک ریپ تیار کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں مختوم مراد بلوچ نے کہا: ’مجھے فٹ بال کے کھیل سے محبت ہے، اس لیے میں نے یہ ریپ فیفا کے لیے گایا ہے۔‘

20 نومبر سے قطر میں شروع ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ سے قبل صدیق گوٹھ کے رہائشیوں نے علاقے کی دیواروں پر کھلاڑیوں کے پورٹریٹس بنانے کے ساتھ ورلڈکپ میں حصہ لینے والی ٹیموں کے پرچم بھی بنا رکھے ہیں۔ 

اس حوالے سے مختوم مراد بلوچ نے بتایا: ’ہم نے ساری ساری رات جاگ کر اپنی پسندیدہ ٹیم کے جھنڈے اور کھلاڑیوں کے پورٹریٹ دیواروں پر بنائے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ فٹ بال ایک صحت مند کھیل ہے، جو نوجوانوں کو نشے کی لت سے دور رکھتا ہے، اس لیے انہیں زیادہ سے زیادہ فٹ بال کھیلنا چاہیے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی فن