پشاور کے انکل ٹونی جن کی ’ہر تصویر خاص ہے‘

85 سالہ فخر زمان آذر نے فوٹوگرافی کے شعبے میں بین الاقوامی سطح پر بہت سے ایوارڈز اور کامیابیاں حاصل کی ہیں، جنہیں ملکہ ترنم میڈم نور جہاں نے انکل ٹونی کا لقب دیا تھا۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے انکل ٹونی پاکستان کے نامور فوٹوگرافرز میں سے ایک ہیں، جنہوں نے بین الاقوامی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

85  سالہ انکل ٹونی کا اصل نام تو فخر زمان آذر ہے، لیکن ٹونی کا یہ لقب انہیں پاکستان کی مشہور گلوکارہ میڈم نور جہاں مرحوم سے ملا جس کے بعد فخر زمان انکل ٹونی کہلانے لگے۔

ان کی بیوی کو ہمیشہ ان سے یہ شکایات رہی ہے کہ وہ آوارہ گردی کرتے ہیں اور گھر کا خیال نہیں رکھتے لیکن انکل ٹونی کا کہنا ہے کہ وہ فوٹوگرافی کے دیوانے ہیں، جس کے لیے وہ کافی عرصے تک گھر نہیں لوٹتے۔

انکل ٹونی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہوں نے 75 سال فوٹوگرافی کرتے ہوئے گزاری اور اس عرصے میں انہوں نے ایسی ایسی تصاویر بنائیں جس کے لیے انہیں قومی اور بین الاقوامی سطح پر ایوارڈز سے نوازا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی پہلی فوٹو لیڈی ڈیانا کی بنائی تھی جب وہ اپنے شوہر کے ساتھ پشاور کے دورے پر آئی تھیں۔

اپنی بنائی ہوئی تصویر کی خوبصورتی کی مزید تشریح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس تصویر میں ڈیانا سائیڈ پر دیکھتی ہوئی مسکرا رہی ہیں، جس میں ان کے دانت نظر آرہے ہیں، ان کے کان میں پہنا ہوا زیور بھی نمایاں ہے اور سب سے دلکش بات یہ ہے کہ ان کے بالوں میں ہائی لائیٹس بھی نظر آرہے ہیں جبکہ انہوں نے آخری تصویر بے نظیر بھٹو کی لی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انکل ٹونی نے بتایا کہ انہوں نے بڑی بڑی شخصیات کی فوٹوز بنائی ہیں جیسے ضیا الحق، ذوالفقار علی بھٹو، عمران خان، باچا خان، ولی خان، گاما پہلوان، دلیپ کمار اور ایشوریا رائے وغیرہ۔

بقول انکل ٹونی ان کی بنائی گئی ہر تصویر خاص اور پیاری ہے اور ہر تصویر پر انہوں نے ایک جتنی محنت کی ہے۔

ان کی ہر تصویر میں ایک کہانی ہے۔ انہوں نے شھد کی مکھی کی ایسی تصویر لی تھی، جس پر انہیں ایوارڈ دیا گیا۔ اسی طرح ان کی ایک تصویر میں ایک پرندہ اپنے پنجوں میں سمندر سے مچھلی اٹھا رہا تھا اور مچھلی کے منہ سے پانی گرتا ہوا نظر آیا۔

انکل ٹونی نے بتایا کہ فوٹوگرافی کو کبھی انہوں نے اپنا بزنس نہیں بنایا، یہ صرف ان کا جنون رہا، لیکن انہیں عزت کے ساتھ جو نام ملا ہے، وہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی