کہیں یوم تشکر تو کہیں یوم سیاہ

پاکستان میں ایک جانب حکومت وزیر اعظم عمران خان کے بقول اس کے کامیاب دورے کے بعد یومِ تشکر کے طور پر منا رہی ہے تو دوسری جانب حزب اختلاف نے حکومتی پالییسیوں کے خلاف ملک بھر میں یوم احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔

پشاور کے احتجاجی جلسے کا اہتمام رنگ روڈ پر ہوا۔(اے این پی)

پاکستان میں ایک جانب حکومت وزیر اعظم عمران خان کے بقول اس کے کامیاب دورے کے بعد یوم تشکر کے طور پر منا رہی ہے تو دوسری جانب حزب اختلاف نے حکومتی پالییسیوں کے خلاف ملک بھر میں یوم احتجاج کے جلسے منعقد کیے ہوئے ہیں۔

حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف نے وزیراعظم عمران خان کے امریکہ کے دورے سے واپسی پر ان کا استقبال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل عامر محمود کیانی نے ایک بیان میں کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے لیڈر کا استقبال کرنے کے لیے بڑی تعداد میں اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچیں۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے ملک بھر میں احتجاجی جلسے منعقد کیے جا رہے ہیں جہاں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، جمعیت علمائے اسلام (ف)، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) سمیت دیگر جماعتوں کے رہنما خطاب کریں گے۔

پشاور:

پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں نے متحدہ اپوزیشن کے پلیٹ فارم سے’یوم سیاہ‘ منانے کے حوالے سے پشاور کے رنگ روڈ پر تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا۔جلسے میں عوامی نیشنل پارٹی،قومی وطن پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی ،بلوچستان نیشنل پارٹی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور جمعیت علماءاسلام ف کے رہنماؤں نے شر کت کی۔جلسہ گاہ میں مختلف اپوزیشن جماعتوں کے کارکنان نے اپنے سیاسی پارٹیوں کے جھنڈے ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے تھے۔ 


پشاور میں تیز ہواؤںکی وجہ سے پنڈال کے شامیانے بھی گر گئے جبکہ ساؤنڈ سسٹم کے لیے لایا  گیا سامان بھی ہوا کی وجہ سے نیچے گر گیا۔  جلسہ چونکہ اپوزیشن پارٹیوں کے کارکنان پر مشتمل تھا اس لیے لوگوں کی تعداد اتنا زیادہ دکھائی نہیں دیا جتنی امید کی جاتی تھی۔ جلسہ گاہ میں سیکورٹی کے خاطر خواہ اقدامات کیے گئے تھے جبکہ جلسہ گاہ کے داخلی راستوں پر لوگوں کی تلاشی لی جا رہی تھی۔ جلسہ گاہ میں جمعیت علماء اسلام کی جانب سے پارٹی کے رضاکاران بھی سیکورٹی کے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ نواز کے رہنما احسن اقبال نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ایک سال میں معیشت کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ عمران خان قرض لینے کی مخالفت کرتے تھے لیکن انہوں نے ایک سال میں کسی دوست ملک کو نہیں چھوڑا جس سے قرض نہ لیا ہو۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

قومی وطن پارٹی کے چئیرمین آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے بھی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ متحدہ اپوزیشن قوم کے اشارے پر احتجاج کر رہی ہے جبکہ موجود ہ حکمران دھاندلی کی پیداوار ہیں۔
جلسے سے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان اور جمیعت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی خطاب کیا۔
مولانا فضل الرحمان نے اپنے مختصر خطاب میں حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے حکومت کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کو نہیں مانتے اور اگر ضرورت پڑی تو وہ پورے ملک میں جیلوں کو بھر دیا جائے گا۔
عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے ان پر کرپشن کا جھوٹا الزام عائد کیا ہے۔ میری اگر ملک سے باہر کوئی جائیداد نکل آئے تو مجھے پھانسی لگا دیا جائے۔انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک جانب حکومت اسلام آباد میں سستے گھر بنا رہی ہے لیکن قبائلئ علاقوں میں جہاں گھر تباہ ہوئے وہاں توجہ نہیں دی جا رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہزار بار پابندی لگائیں لیکن موجودہ حکومت “سلیکٹڈ”، “سلیکٹڈ” اور سلیکٹڈ ہے۔ رانا ثناء اللہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ رانا ثناء خوش قسمت تھے کہ ان کے گاڑی سے ہیروئن نکلا لیکن معلوم نہیں میری اور مولانا فضل الرحمان کی گاڑی سے کیا برامد ہوگا۔مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں زاک روڈ پشاور پر ملین مارچ بھی کیا گیا۔

کوئٹہ:

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں اپوزیشن جماعتوں کا یوم سیاہ کے حوالے سے جلسہ ایوب اسٹیڈیم کے فٹبال گراؤنڈ میں منعقد کیا جا رہا ہے جس کی میزبانی پختون خوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) اور نیشنل پارٹی (این پی )کر رہی ہے۔ اس گراؤنڈ میں ہزاروں کرسیاں لگادی گئی ہیں۔ مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز شریف بھی اس جلسے میں شرکت کے لیے لاہور سے کوئٹہ پہنچی۔ مریم نواز کے علاوہ اس جلسے سے پی کے میپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور این پی کے سربراہ حاصل بزنجو بھی خطاب کریں گے۔

لاہور:

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں مسلم لیگ نواز کی جانب سے مال روڈ پر احتجاجی جلسہ منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس جلسے سے صدر مسلم لیگ نواز شہباز شریف خطاب کریں گے۔ ان کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی، جمعیت علما اسلام (ف)، جمیعت اہل حدیث اور اے این پی کے رہنما بھی اس جلسے میں شرکت کریں گے۔ ڈپٹی کمشنر لاہور کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں کو جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی تاہم لیگی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انہیں اجازت ملے یا نہ ملے لیکن یہ احتجاجی جلسہ ضرور ہوگا۔ جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کا احتجاج ناکام ہو چکا ہے۔ صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال کا کہنا تھا کہ اپوزیشن سے بندے اکٹھے نہیں ہو رہے اور ماڈل ٹاؤن پر ٹریفک معمول کے مطابق جاری ہے۔

کراچی:

کراچی میں اپوزیشن جماعتیں باغ جناح میں جلسہ کریں گی جس کے وسیع و عریض میدان میں کرسیاں لگ گئی اور اسٹیج بھی سج گیا ہے ۔ جلسے سے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری خطاب کریں گے۔ اپوزیشن کے جلسے کے تمام انتظامات مکمل کرلیے گئے جبکہ مزارِ قائد پر جلسہ گاہ کے اطراف اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے استقبالیہ کیمپ لگادیے گئے۔ جلسے میں شرکت کے لیے کراچی کے 6 اضلاع سے ریلیاں اور جلوس مزار قائد پہنچیں گے۔ پیپلزپارٹی، جے یو آئی (ف)، مسلم لیگ (ن)، اے این پی، جے یو پی سمیت دیگر تنظیموں کی طرف سے ریلیاں نکالی جارہی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست