’یہ ہیوی بائیک نہیں، ہمارا فیملی ممبر ہے‘

فیصل آباد آٹو شو میں دوسری عالمی جنگ میں برطانیہ کو فتح دلوانے میں اہم کردار ادا کرنے والی ہیوی بائیک کے چرچے رہے، جس کے مالک کو اس سے خاص قسم کی انسیت ہے۔

فیصل آباد آٹو شو 2022 میں دوسری عالمی جنگ میں برطانیہ کو فتح دلوانے میں اہم کردار ادا کرنے والی ہیوی بائیک کے چرچے رہے۔

نومبر کے آخری ہفتے میں منعقد ہونے والے اس آٹو شو میں سٹینڈرڈ، ونٹیج، کلاسک، سپورٹس، موڈی فائیڈ، آف روڈ اور لگژری گاڑیوں اور بائیکوں کی الگ الگ کیٹیگریز میں درجنوں گاڑیاں اور ہیوی بائیکس نمائش کے لیے لائی گئی تھیں۔

تاہم اس آٹو شو میں دوسری عالمی جنگ میں برطانیہ کو فتح دلوانے میں اہم کردار ادا کرنے والی ہیوی بائیک بی ایس اے- ڈبلیو ایم 20 (BSA WM20) کو جو توجہ حاصل ہوئی، وہ کم ہی گاڑیوں اور ہیوی بائیکس کو میسر آتی ہے۔

اس ہیوی بائیک کے مالک صدام حسین نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ انہوں نے یہ 550 سی سی بائیک لاہور کے رہائشی اپنے ایک دوست سے 25 ہزار روپے میں خریدی تھی اور اب تک اس پر ان کا دو سے ڈھائی لاکھ روپے خرچہ آچکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ابھی بھی اس کا کچھ کام باقی ہے اور جیسے جیسے انہیں اوریجنل پارٹس ملتے جا رہے ہیں، وہ اس میں لگا رہے ہیں۔

’ونٹیج بائیک سب سے پہلے میرے دادا ابو لے کر آئے تھے۔ والد صاحب بتاتے تھے کہ ان کے پاس ٹرانس موٹرسائیکل تھی، 350 سی سی تھری ایس ڈبلیو۔ ان کی باتیں سن سن کر مجھے بھی شوق ہوا۔‘

صدام کے مطابق ان کے والد کے پاس بھی ہیوی بائیک ہوتی تھی، جس کی دھندلی دھندلی سی تصویریں انہیں یاد ہیں۔

’اس بائیک پر میں نے ابھی تک اتنا لمبا سفر نہیں کیا ہے، لیکن جب بھی میں اس بائیک کو چلاتا ہوں مزا بہت آتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ونٹیج ہیوی بائیکس کے شوقین اکثر دوست انہیں کہتے ہیں کہ یہ بائیک وہ انہیں فروخت کر دیں، لیکن وہ اسے فروخت نہیں کرنا چاہتے۔

’یہ میری ڈریم بائیک ہے۔ یہ ہمارا فیملی ممبر ہے اور جب تک میں زندہ ہوں یہ میرے پاس ہی رہے گا۔ آگے ماشااللہ میرا ایک بیٹا ہے اس کو بھی ہیوی بائیک کا شوق ہے وہ اس کے ساتھ کھیلتا ہے تو انشا اللہ یہ میں اس کو دے دوں گا۔‘

صدام کا کہنا تھا کہ ان کے پاس مزید تین ونٹیج ہیوی بائیکس ہیں، جن میں سے دو بائیکس روس کی تیار کردہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ انڈسٹری میں استعمال ہونے والے بڑے جنریٹرز کی مرمت و تیاری کا کام کرتے ہیں اور تھوڑے تھوڑے پیسے جمع کرکے اپنا شوق پورا کرتے رہتے ہیں۔

دوسری جنگ عظیم میں استعمال ہونے والی ڈبلیو ایم 20 ہیوی بائیک پاکستان کیسے پہنچی؟

برطانیہ کی کمپنی بی ایس اے موٹرسائیکل بنانے والی دنیا کی بڑی کمپنیوں میں شامل ہے۔ اس نے یہ موٹرسائیکل 1937 میں متعارف کروائی تھی اور اس کی پروڈکشن 1950 کی دہائی کے آخر تک جاری رہی۔

اس ماڈل کے نام ڈبلیو ایم 20 (WM20) میں ’ڈبلیو‘ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ خاص طور پر ایک فوجی موٹر سائیکل کے طور پر تیار کی گئی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ ماڈل کاسٹ آئرن ٹاپ اینڈ کے ساتھ سائیڈ والو (فلیٹ ہیڈ) 550 سی سی ایئر کولڈ سنگل تھا۔

اس کے آہنی فریم پر موجود ہر چیز فوجی استعمال کے لیے زیادہ پائیدار اور بھاری بنائی گئی تھی۔

ابتدائی طور پر جب اسے برطانوی فوج کو جانچ کے لیے بھیجا گیا تو اسے بھاری ہونے کی وجہ سے مسترد کر دیا گیا تھا لیکن بعد میں یہی ماڈل اپنی پائیداری اور مرمت میں آسانی کے باعث فوج کی پہلی پسند بن گیا۔

اس ماڈل کی مجموعی طور پر ایک لاکھ 25 ہزار سے زائد ہیوی بائیکس تیار کی گئی تھیں، جو برطانوی فوج کے استعمال میں رہیں اور یہ ماڈل برطانیہ کی ملٹری موٹرسائیکلنگ کی تاریخ میں سب سے طویل سروس کرنے والا ماڈل بن گیا، جس نے برطانیہ کی فتح میں اہم کر دار ادا کیا۔

جنگ میں اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس بائیک کی تیاری روکنے کے لیے جرمنی نے 1940 میں بی ایس اے کی سمال ہیتھ فیکٹری پر بمباری بھی کی لیکن انگلینڈ کے دیگر علاقوں میں قائم اس کے مختلف پروڈکشن یونٹس میں اس کی پیداوار تیزی سے دوبارہ شروع  کر دی گئی تھی۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد برطانوی فوج نے سویڈن، جنوبی افریقہ اور ہندوستان میں بھی اس کا استعمال کیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا