جیسنڈا آرڈرن اور سنا مارین سے عمر اور صنف کے متعلق ’عجیب‘ سوال

جیسنڈا آرڈرن اور سنا مارین سے صحافی نے سوال کیا کہ ’کیا آپ دونوں اس لیے مل رہی ہیں کہ آپ ہم عمر اور ہم صنف ہیں؟‘

فن لینڈ اور نیوزی لینڈ کے وزرائے اعظم نے بدھ کو آکلینڈ کے گورنمنٹ ہاؤس میں اپنی پہلی دوبدو ملاقات کی (اے ایف پی)

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن اور فن لینڈ کی رہنما سنا مارین کو مشترکہ پریس کانفرنس میں ایک غیر متوقع سوال کا سامنا کرنا پڑا جس میں پوچھا گیا تھا کہ کیا دونوں اس لیے مل رہی ہیں کہ وہ ’ہم عمر اور ہم صنف‘ ہیں۔

فن لینڈ اور نیوزی لینڈ کے وزرائے اعظم بدھ کو آکلینڈ کے گورنمنٹ ہاؤس میں اپنی پہلی دوبدو ملاقات کے موقع پر مشترکہ پریس کانفرنس کر رہی تھیں جب ایک رپورٹر نے ملاقات کے محرکات پر سوال اٹھایا۔

ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے یوکرین کی جنگ اور افغانستان کی صورت حال سمیت عالمی امور اور جمہوریت کو درپیش خطرات پر تبادلہ خیال کیا۔

رپورٹر نے سوال کیا کہ ’بہت سے لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ کیا آپ دونوں صرف اس وجہ سے ملاقات کر رہی ہیں کہ آپ ہم عمر ہیں اور جب آپ سیاست میں آئیں تو دونوں کے درمیان بہت ساری چیزیں مشترک تھیں۔‘

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کا کہنا تھا کہ ’مجھے حیرت ہے کہ کیا کبھی کسی نے براک اوباما اور (نیوزی لینڈ کے سابق وزیراعظم) جان کی سے پوچھا تھا کہ کیا ان ملاقات کی وجہ ہم عمر ہونا تھا۔‘

ان کی ہم منصب سنا مارین نے کہا: ’ہم ملاقات اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ ہم وزیراعظم ہیں۔‘

اگست میں ایک ہاؤس پارٹی میں ان کے رقص کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد سنا مارین کو ’پارٹی وزیر اعظم‘ کہا جانے لگا تھا۔

ان ویڈیوز کی وجہ سے ان کی دفتری اور نجی زندگی کے متعلق بحث چھڑ گئی تھی۔ ویڈیوز کے بعد انہوں نے روتے ہوئے اپنی نجی زندگی کے حق کا دفاع کیا تھا۔

دنیا کے سب سے کم عمر سربراہان حکومت میں سے ایک سنا مارین نے وبائی مرض کے دوران کلب جانے اور کوویڈ کیس کے ساتھ قریبی رابطے میں آنے پر معافی مانگی تھی۔

اس کانفرنس کے دوران نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے سیاست میں صنفی امتیاز پر سوالات اٹھائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جیسنڈا آرڈرن کا کہنا تھا کہ ’یقیناً ہمارے ہاں سیاست میں مردوں کی تعداد زیادہ ہے۔ دو خواتین آپس میں صرف اس لیے نہیں ملتیں کہ وہ ہم صنف ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’خواتین رہنما ہونے کی حیثیت سے ان دونوں پر جو ذمہ داریاں ہیں، وہ ان پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے ممالک میں متعدد خواتین کو سنگین حالات کا سامنا ہے، جہاں انسانی حقوق کی سب سے بنیادی چیزوں کو دبایا جارہا ہے اور ان کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔‘

انہوں نے خاص طور پر ایران کو ایسے حالات کی ’بہترین مثال‘ قرار دیا جہاں ملک کے سخت ڈریسنگ قانون کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔

سنا مارین نے کہا کہ ’وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ساتھ ہیں کہ دنیا بھر میں ہر عورت اور لڑکی کو مردوں کے برابر حقوق اور مواقع حاصل ہوں۔‘

یوکرین پر روس کے حملے کے بارے میں بات کرتے ہوئے، جیسنڈا آرڈرن نے تشویش کا اظہار کیا کہ جنگ ’تقریباً فن لینڈ کی دہلیز پر ہے۔‘

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے مزید کہا کہ ’میں جنگ کے بارے میں وزیراعظم کے بصیرت افروز نقطہ نظر اور یورپ اور عالمی سلامتی پر اس کے ممکنہ اثرات کو سراہتی ہوں۔‘

(ترجمہ: محمد العاص)

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا