سعید آباد جہاں سندھی ٹوپیاں بنتی ہیں

مٹیاری کے علاقے سعید آباد میں بننے والی سندھی ٹوپیاں پاکستان سمیت دنیا بھر میں سپلائی ہوتی ہیں۔

سندھی ٹوپی کو صوبہ سندھ میں بڑی حیثیت اور مرتبہ حاصل ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں رہنے والے سندھی اپنی ثقافت کو زندہ رکھتے ہوئے یہ مخصوص پہناوا ضرور استعمال کرتے ہیں۔

سندھ کے ضلع مٹیاری میں نیو سعید آباد کو سندھی ٹوپی بنانے والا شہر کہا جاتا ہے، جہاں سندھی ٹوپیوں کی تقریباً 30 دکانیں ہیں۔

ان میں تقریباً دو ہزار کاریگر اور مزدور کام کرتے ہیں۔

سعید آباد سندھی ٹوپی ایسوسی ایشن کے صدر وسیم احمد میمن نے بتایا کہ یہاں بننے والی سندھی ٹوپی پورے پاکستان اور دنیا میں سپلائی کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری، جنہوں نے سندھی ٹوپی اور اجرک کا دن منانے کا اعلان کیا تھا، ان کی دکان سے سندھی ٹوپی بنواتے ہیں۔

’ہم ان کے لیے ٹوپی ہاتھ سے بناتے ہیں۔‘

وسیم میمن کے مطابق آصف علی زرداری کے والد حاکم علی زرداری کے لیے سندھی ٹوپی ان (وسیم میمن) کے والد بنایا کرتے تھے جبکہ مخدوم خاندان کے علاوہ سندھ کے بڑے بڑے زمیندار اور سرمایہ دار بھی سندھی ٹوپیاں خریدنے انہی کے پاس آتے ہیں۔

وسیم میمن مہینے میں 20 سے 30 ٹوپیاں بنا لیتے ہیں، جو بیرون ملک کے علاوہ حیدرآباد ڈویژن، کراچی، کوئٹہ اور بلوچستان میں جاتی ہیں۔

دم توڑتا فن

تاہم انہوں نے بتایا کہ سندھی ٹوپی بنانے کا کام دن بہ دن کم ہوتا جارہا ہے جس کی بڑی وجہ مہنگائی ہے۔

’لوگ کہاں سے 10 ہزار کی ٹوپی خریدیں گے۔ اب تو کاری گروں کو اجرت دینا مشکل ہو گیا ہے۔‘

گذشتہ تین دہائیوں سے سندھی ٹوپی بنانے والے کاریگر احسان اللہ نے بتایا کہ مشین نے ہاتھ کے کاری گر کو نقصان پہنچایا ہے کیونکہ ہاتھ کے کام میں محنت زیادہ اور معاوضہ کم ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ ہاتھ سے سندھی ٹوپی بنانے میں ایک سے دو مہینے لگ سکتے ہیں لیکن معاوضہ اس حساب سے نہیں ملتا۔

’اب یہ فن دم توڑنے لگا ہے کیونکہ نئی نسل اس کام میں آنا نہیں چاہتی اور پرانے کاری گر صحت کی وجوہات کی بنا پر یہ کام کرنے کے قابل نہیں رہے۔‘

احسان اللہ نے سندھی ٹوپی بنانے کے طریقے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے درزی بکرم سے ٹوپی کی شکل کی سلائی کرتا ہے، جس کے بعد کالے پٹے بنائے جاتے ہیں، اور پھر چھپائی پر کام، جبکہ آخر میں شیشہ لگایا جاتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا