انڈیا کی خاتون پائلٹ جن کو دگنی محنت کرنی پڑتی ہے

زویا کہتی ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ دگنی محنت کی تاکہ انڈیا میں ایوی ایشن کے شعبے میں دوسری خواتین کے لیے راستہ بنایا جا سکے۔

زویا اگروال کو بچپن سے ہی آسمانوں میں اڑنے کا شوق تھا لیکن ان کی والدہ چاہتی تھیں کہ وہ ایک ’مناسب لڑکے‘ سے شادی کر لیں۔

زویا انڈیا کی کمرشل ایئرلائن کی اس فلائٹ کے کریو کا حصہ تھیں جس کی تمام اراکین خواتین تھیں۔

اس فلائٹ نے گذشتہ سال پرواز بھری تھی لیکن زویا اس دن کا انتظار 2004 سے کر رہی تھیں۔

انڈیا کے شہر بنگلور سے امریکی شہر سان فرانسسکو تک 17 گھنٹے کی یہ پرواز زویا کے لیے کئی حوالوں سے یاد رہی۔

اس کے بعد انہیں انڈیا کے یوم جمہوریہ پر نیشنل ٹی وی پر دکھایا گیا اور پھر انہیں اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے خواتین کی ترجمان مقرر کر دیا گیا۔

تاہم ان کی یہ زندگی ہمیشہ سے ایسی نہیں تھی۔ ان کے لیے اپنے خواب پورے کرنا کبھی آسان نہیں تھا کیونکہ ان کے پاس کوئی رول ماڈل نہیں تھا جس کو دیکھ کر وہ سیکھ سکتیں۔

اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے زویا کہتی ہیں ’میں یہ پاگل پن پر مبنی خیال سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ مجھے یہ خیال سوچنے کا حق بھی نہیں تھا کہ میں پائلٹ بن سکتی ہوں۔

’میں ایک ایسے زمانے میں پیدا ہوئی تھی جب انڈیا میں لڑکیوں سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ شادی کر کے اپنے خاندان اور بچوں کا خیال رکھیں گی۔‘

زویا کہتی ہیں ’لیکن میں ایسا نہیں کرنا چاہتی تھی۔ میں اپنے پر پھیلانا چاہتی تھی۔‘

انہیں کئی سال صرف کر کے اپنے قدامت پسند والدین کو سمجھانا پڑا کہ وہ شادی اور بچوں سے بڑھ کر بھی زندگی گزارنا چاہتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

زویا کے مطابق ’جب میں نے اپنی والدین کو بتایا کہ میں پائلٹ بننا چاہتی ہوں تو میری والدہ رونے لگی اور کہا کہ خدا نے ہمیں ایسی بیٹی کیوں دی؟‘

زویا نے یونیورسٹی کی فیس اپنی بچت سے ادا کی اور اپنے گھر میں لوڈ شیڈنگ کے باعث انہیں کئی بار اپنا ہوم ورک کسی سڑک کے کنارے کرنا پڑتا۔

اس کے باوجود وہ اپنی کلاس میں ٹاپ کرتی تھیں۔ ان کی اسی کارکردگی کی بدولت ان کے والدین ان کی فلائٹ ٹریننگ کورس کی فیس بھرنے پر رضامند ہوئے تھے۔

انہیں دگنی محنت کرنی پڑتی ہے

زویا، جن کے ایک کاندھے پر ’بورن ٹو فلائی‘ کا ٹیٹو کندہ ہے، ان چند خواتین میں شامل تھیں جنہیں انڈیا کی قومی ایئرلائن کے لیے منتخب کیا گیا۔

انہیں شروع سے ہی خود پر کامیاب ہونے کی ذمہ داری محسوس ہوتی تھی۔

ایسا صرف ان کے لیے نہیں بلکہ ان سے جڑے ماضی کے لیے تھا جس کے لیے انہوں نے محنت کی تھی۔

زویا کہتی ہیں ’میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ میں دگنی محنت کروں کیونکہ میں انڈیا میں ایوی ایشن کے شعبے میں دوسری خواتین کے لیے راستہ بنا رہی ہوں۔‘

انٹرنیشنل سوسائٹی آف ویمن ایئرلائن پائلٹس کے مطابق انڈیا اس وقت خواتین پائلٹس شرح کے لحاظ سے دنیا میں سب سے آگے ہے جہاں ہر آٹھ میں سے ایک پائلٹ خاتون ہے۔

زویا چاہتی ہیں کہ شرح کم سے کم 50 فیصد تک ہونی چاہیے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین