نئے آرمی چیف کے لیے اندرونی سکیورٹی چیلنجز

اندرونی اور بیرونی چیلنجوں کی بھیڑ کے ساتھ ساتھ پاکستان کی بگڑتی ہوئی داخلی سلامتی کی صورت حال جنرل عاصم منیر کی فوری توجہ کا مرکز بنے گی۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر 30 نومبر 2022 کو ایوان وزیر اعظم میں شہباز شریف سے ملاقات کر رہے ہیں (تصویر: پی ایم او)

پاکستان کے نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے 29 نومبر کو سیاسی اور اقتصادی بحرانوں کے درمیان فوج کی قیادت کا منصب سنبھالا۔ پاکستان کے  ذرِمبادلہ کے کم ہوتے ذخائر اور مسلسل بڑھتا ہوا سیاسی انتشار بھی آنے والے ہفتوں میں اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار اور رویے کو چیلنج کرے گا۔

اندرونی اور بیرونی چیلنجوں کی بھیڑ کے ساتھ ساتھ پاکستان کی بگڑتی ہوئی داخلی سلامتی کی صورت حال جنرل عاصم منیر کی فوری توجہ کا مرکز بنے گی۔

جنرل عاصم کے منصب سنبھالنے سے ایک دن قبل کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے جنگ بندی ختم کر دی اور اپنے جنگجوؤں کو پورے پاکستان میں حملے کرنے پر ابھارا۔

30 نومبر کو ٹی ٹی پی کے ایک خودکش بمبار نے بلوچستان میں پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیم کی حفاظت کرنے والی پولیس وین کو نشانہ بنایا۔ اگرچہ ٹی ٹی پی نے جولائی میں امن مذاکرات کی معطلی کے بعد سے انتقامی کارروائیوں کی آڑ میں حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، حالیہ خودکش حملہ پاکستان میں دہشت گردی کے ایک نئے دور کی نشاندہی کرتا ہے۔

ابھی تک ٹی ٹی پی کے زیادہ تر حملے سابق فاٹا کے علاقے اور خیبر پختونخوا تک ہی محدود تھے لیکن نئی حکمتِ عملی یہ ہے کہ پاکستان بھر میں اہداف کو نشانہ بنایا جائے اور دفاعی سے جارحانہ حکمتِ عملی کی طرف منتقل ہوا جائے۔

افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد سے پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں 52 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ طالبان کی اقتدار میں واپسی نے پاکستانی عسکریت پسند گروپوں، خاص طور پر ٹی ٹی پی پر نئے اثرات مرتب کیے ہیں۔

پچھلے ایک سال میں ٹی ٹی پی کے ساتھ پاکستان کی دو امن کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ پہلی جنگ بندی گذشتہ سال نومبر میں ہوئی تھی جو ایک ماہ تک جاری رہی۔

پاکستان میں سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کے درمیان پاکستان فوج میں قیادت کی تبدیلی نے ملک کی انسداد دِہشت گردی کی پالیسی کے حوالے سے کافی ابہام پیدا کر دیا۔ اب جب کہ جنرل عاصم نے عہدہ سنبھالا ہے، تمام نظریں ان پر ہوں گی کہ وہ ٹی ٹی پی کے ساتھ امن مذاکرات یا متحرک کارروائیوں کے بارے میں پاکستان کے موقف کو واضح کریں۔

مذاکرات دو بار ناکام ہوچکے ہیں اور فوجی کارروائیوں نے ملے جلے نتائج برآمد کیے ہیں۔ افغانستان میں طالبان کی چھتری تلے ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں نے پاکستان کی داخلی سلامتی کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ یہ پہلو متحرک  کارروائیوں کی حکمت عملی کی افادیت کو مزید کم کر دے گا کیوں کہ ٹی ٹی پی افغانستان فرار ہو جائے گی اور آپریشن کے سست یا رک جانے پر دوبارہ حملے شروع کر دے گی۔

مزید برآں یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا جنرل عاصم منیر متحرک جارحیت کے لیے کوئی نیا نام پیش کریں گے یا پرانے والے کو برقرار رکھتے ہیں۔ سابق آرمی چیف جنرل (ریٹائرڈ) اشفاق پرویز کیانی نے سوات میں آپریشن راہِ راست اور جنوبی وزیرستان میں آپریشن راہِ نجات  شروع کیا جبکہ جنرل (ریٹائرڈ) راحیل شریف کے شمالی وزیرستان میں کلیرنس آپریشن کو ضربِ عضب  کا نام دیا تھا۔

اسی طرح جنرل (ریٹائرڈ) قمر جاوید باجوہ کے آپریشن ردالفساد کا مقصد دہشت گردی اور انتہا پسندی کے بقیہ خطرے کو ختم کرکے گذشتہ آپریشنز کے ثمرات کو مستحکم کرنا تھا۔

بدقسمتی سے جب جنرل باجوہ نے آرمی چیف کا عہدہ سنبھالا تو پاکستان میں دہشت گردی کم تھی لیکن جیسے ہی وہ عہدہ چھوڑ چکے ہیں، دہشت گردی کا خطرہ پھر سے سر اٹھانے لگا ہے۔

لہٰذا یہ دیکھنا بہت اہم ہوگا کہ جنرل عاصم منیر اپنے متحرک جارحیت کے مینڈیٹ اور منطق کی وضاحت کس طرح کریں گے، کیوں کہ خطرہ بیرونی طور پر افغانستان سے ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس وقت پاکستان میں انسداد دہشت گردی کی پالیسی تعطل کا شکار ہے۔ اگرچہ ستمبر میں پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی نے مختلف ریاستی اداروں کے درمیان انسدادِ دہشت گردی کی بہتر کوآرڈینیشن کے لیے ایپکس کمیٹیوں (جو 2015 میں تشکیل دی گئی تھیں) کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کو اہم پالیسی رول دینے کے ساتھ ساتھ کاؤنٹر ٹیرر ازم کے بنیادی ڈھانچے کو وفاقی اور صوبائی سطح پر  مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا ہےتاہم نئے آرمی چیف کی پالیسی اس بات کا تعین کرنے میں کلیدی ہو گی کہ ردعمل کس طرح تیار ہو گا۔

دوسری طرف بلوچستان میں نسلی علیحدگی پسند بغاوت کم شدت سے ایک طویل خطرے میں تبدیل ہو گئی ہے جو پورے بلوچستان اور اس سے باہر خصوصاً کراچی میں خودکش اور کمانڈو طرز کے گوریلا حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

بلوچ علیحدگی پسندوں کی نئی نسل زیادہ بنیاد پرست ہے، وہ بلوچ قوم پرستی کے زیادہ سخت ورژن پر یقین رکھتی  ہے اور بات چیت کی طرف مائل نہیں ہے۔

شورش کا مرکز حیربیار مری اور براہمداغ بگٹی جیسے بلوچ قبائلی سرداروں سے ہٹ کر غیر قبائلی متوسط ​​طبقے سے تعلق رکھنے والے بلوچ علیحدگی پسند لیڈروں تک پھیل گیا ہے جن میں بلوچ لبریشن فرنٹ کے ڈاکٹر اللہ نذر اور بلوچ لبریشن آرمی میں اپنے دھڑے کے سربراہ بشیر زیب شامل ہیں۔

فوج کے نئے سربراہ کو بلوچستان میں موجودہ خلا کو پر کرنے کے لیے انسدادِ بغاوت کی مہم پر نظرثانی کرنا ہوگی۔

بلوچستان میں جاری کلیئرنس آپریشن کو مزید بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ سابق فاٹا کے علاقے اور جنوبی خیبر پختونخواہ میں ٹی ٹی پی کے دوبارہ تشکیل پانے والے نیٹ ورکس کے علاقوں کو صاف کرنے کے لیے جہاں ایک تازہ فوجی آپریشن کی ضرورت ہے، وہیں غیر متحرک ردعمل پر بھی یکساں زور دیا جانا چاہیے۔

دہشت گردی کے حوالے سے بڑی آپریشنل  کامیابی کے باوجود انسدادِ دہشت گردی پالیسی میں جو پہلو گمشدہ ہے وہ غیر متحرک ردِعمل ہے جو انتہا پسند گروہوں کے نظریاتی بیانیے کو چیلنج کرتا ہے اور مضبوط جوابی بیانیہ فراہم کرتا ہے۔

نئے آرمی چیف کو دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے عفریت سے نمٹنے کے لیے فوری فیصلے کرنے ہوں گے۔ تاہم اس ضمن میں قومی آہنگی  بنیادی اہمیت کی حامل ہو گی جس کے لیے ان کو پارلیمنٹ کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔

مصنف ایس راجا رتنم سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز، سنگاپور میں محقق ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ