روس پاکستان کو سستا خام تیل فراہم کرنے پر آمادہ: مصدق ملک

مصدق ملک کا کہنا تھا کہ ’روس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ہمیں ڈسکاؤنٹ پر خام تیل دے گا۔ پیٹرول اور ڈیزل دونوں پاکستان کو کم قیمت پر دے گا۔‘

پاکستان کے وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک 5 دسمبر 2022 کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کر رہے ہیں (پی ٹی وی)

پاکستان کے وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک کا کہنا ہے کہ روس پاکستان کو خام تیل کم قیمت دینے پر آمادہ ہو گیا ہے۔

اُنہوں نے یہ بات پیر کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہی ہے۔ مصدق ملک نے وزارت پیٹرولیم کے دیگر اعلیٰ عہدیداروں کے ہمراہ حال ہی میں روس کا دورہ کیا تھا۔

مصدق ملک کا کہنا تھا کہ ’روس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ہمیں ڈسکاؤنٹ پر خام تیل دے گا۔ پیٹرول اور ڈیزل دونوں پاکستان کو کم قیمت پر دے گا۔‘

تاہم اُنہوں نے کہا کہ اس بارے میں معاہدہ آئندہ سال جنوری میں ہو گا۔

’جنوری میں روس کے وزرا کا ایک وفد آ رہا ہے، اس وقت ہماری کوشش ہوگی کہ اس کے بعد ہم ان سے تیل، ڈیزل یا خام تیل لے سکیں جب معاہدے پر دستخط ہوجائیں تو میں آپ کو بتا دوں گا۔‘

روس کی طرف سے اس بارے میں تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

رواں سال وزارت عظمٰی کے منصب سے ہٹائے جانے کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ روس پاکستان کو لگ بھگ 30 فیصد کم قمیتوں پر تیل فروخت کرنے پر تیار تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عمران خان نے رواں سال فروری میں روس کا دورہ کیا تھا اور اس وقت کی حکومت کا کہنا تھا کہ اس دورے کے دوران روس سے سستے تیل کی خریداری پر بھی بات ہوئی تھی، لیکن اس بارے میں کوئی معاہدہ طے نہیں پایا تھا۔

پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیل کا ایک بڑا حصہ درآمد کرتا ہے۔

جنوبی ایشیائی ملک کو زرمبادلہ کے کم ہوتے ذخائر کی وجہ سے ادائیگیوں کے توازن کے بحران کا سامنا ہے، جس کا جزوی طور پر تعلق تیل کی درآمدات کی ادائیگیوں سے بھی ہے۔

مصدق ملک کا کہنا تھا کہ روس جانا اس لیے اہم تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کہہ چکے ہیں کہ ’میرے ذہن میں ایک خاکہ ہے کہ یہاں پر ہر پڑھے لکھے نوجوان کے پاس نوکری ہو، کارخانوں کی چمنیوں سے ہر وقت دھواں نکلنا چاہیے۔‘

اُن کے بقول اگر پاکستان کو معاشی ترقی شرح میں اضافہ کرنا ہے تو اس کے لیے توانائی کے حصول کے ذرائع بھی بڑھانا ہوں گے ’اسی وجہ سے ہم مختلف ممالک کے پاس جا رہے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت