پنجاب میں خواتین جائیداد میں اپنا حصہ کیسے لے سکتی ہیں؟

پنجاب انفورسمنٹ آف ویمنز پراپرٹی رائٹس ایکٹ 2021 موجود ہے جس پرعمل درآمد خاتون محتسب کرواتی ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ وراثت میں خواتین کے حصے کو یقینی بنایا جائے۔

پاکستان بھر میں خواتین کی بڑی تعداد مردوں کے ساتھ ساتھ کھیتی باڑی کا کام کرتی ہیں (اے ایف پی/ فائل فوٹو)

ہر سال صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف ایک 16 روزہ بین الاقوامی مہم چلائی جاتی ہے جس کے اندر خواتین کی جائیداد سے منسلک معاملات بھی شامل ہوتے ہیں۔

یہ مہم ہر سال 25 نومبر کو خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن سے شروع ہوتی ہے اور 10 دسمبرکو عالمی انسانی حقوق کے دن تک جاری رہتی ہے۔ 

پنجاب میں ڈپارٹمنٹ آف ویمن ڈیویلپمنٹ کی سیکریٹری سمیرا صمد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کا شعبہ بھی صنفی بنیاد پر ہر قسم کے تشدد کے خلاف آگاہی مہم چلا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اس مہم میں معاشی بنیاد پر کیے جانے والا تشدد، نفسیاتی تشدد، ہراسانی، کم عمری کی شادیاں اور جائیداد میں حصہ جیسے مسائل سب شامل ہیں۔‘  

سمیرا نے بتایا، ’پنجاب انفورسمنٹ آف ویمنز پراپرٹی رائٹس ایکٹ 2021 موجود ہے جس پرعمل درآمد خاتون محتسب (اومبڈز پرسن) کرواتی ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ وراثت میں خواتین کے حصے کو یقینی بنایا جائے۔‘

ان کا کہنا تھا، ’پاکستان میں بورڈ آف ریوینیو کے سسٹم میں خواتین کا حق اکثر مارا جاتا ہے۔ ان پر خاندان کی طرف سے دباؤ ڈال کر ڈرایا دھمکایا جاتا ہے کہ وہ خود ہی اپنا حصہ اپنے بھائیوں کے حق میں چھوڑ دیتی ہیں۔ اس چیز کو ختم کرنے کے لیے یہ مخصوص ایکٹ بنایا گیا ہے۔ اس میں چاہے خاتون خود آئیں یا ان کی جگہ کوئی بھی شخص آ کر ان کی جگہ شکایت کر سکتا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس ایکٹ کے سیکشن چار کے تحت کوئی بھی خاتون جو کسی بھی طریقے سے جائیداد کی ملکیت سے محروم ہیں، محتسب کو شکایت درج کروا سکتی ہیں۔ محتسب اس معاملے کو ڈپٹی کمشنر کے پاس بھیج سکتا ہے، جو انکوائری کرنے کا پابند ہو گا اور 15 دنوں کے اندر محتسب کو رپورٹ پیش کرے گا جس کے بعد محتسب شکایت کنندہ اور اس کے مخالفوں کی طرف سے مزید ریکارڈ یا اعتراضات جمع کرانے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔

سمیرا نے بتایا کہ محتسب شکایت موصول ہونے کے 60 دن کے اندر اندر ترجیحی طور پر آرڈر جاری کرنے کا پابند ہو گا۔  

’بیٹی وکیل تھی تو کیس میں آسانی ہو گئی‘

فہیمہ شیرازی ضلع بھکر سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے والد کا انتقال 2018 میں ہوا تو ان کی چھوڑی ہوئی جائیداد ایک مسئلہ بن گئی۔

فہیمہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا: ’میرے والد کا انتقال ستمبر 2018 میں ہوا۔ ہم تین بہنیں اور ایک بھائی ہیں۔ اسی سال دسمبر میں والد کی جائیداد ہم سب بہن بھائیوں کے نام پر منتقل ہوئی۔‘

ان کے مطابق کُل جائیداد میں 18 دکانوں والی ایک مارکیٹ، اس کے پیچھے ان کا دس مرلے کا ایک کمرشل پلاٹ، اس پلاٹ سے ملحقہ ان کا ایک گھر، بینک میں موجود والد کے پیسے، ان کے کاروبار میں سرمایہ کے طور پر لگائے گئے دس لاکھ روپے وغیرہ شامل تھے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ ساری پراپرٹی بھکر میں تھی جبکہ وہ خود اپنے بچوں کے ساتھ اسلام آباد میں رہتی تھیں۔ فہیمہ کے مطابق جب جائیداد تقسیم ہوئی تو ان کے بڑے بھائی جو بھکر میں ہی رہتے تھے انہوں نے سب چیزوں کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی۔

’میری دو بہنیں ہیں جن میں سے ایک کراچی اور ایک راولپنڈی میں رہتی ہیں۔ انہوں نے مجھے کہا کہ وہ بھائی پر جائیداد کا کیس کرنا چاہتی ہیں۔ میں نے بھی کہا کہ ٹھیک ہے۔‘

انہوں نے اپنی طرف سے سول کورٹ میں جائیداد کی تقسیم کا کیس دائر کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے بھائی پر کل ملا کر 11 کیس بنے اور کیونکہ یہ مشترکہ جائیداد تھی اس لیے سول کورٹ نے ہی اس کا فیصلہ کرنا تھا۔

’میرے بھائی نے 2020 میں بھکر میں میرے گھر پر بھی قبضے کی کوشش کی جو میں نے کرائے پر دیا ہوا تھا۔ جس کے بارے میں مجھے کرایہ داروں نے بتایا تب میں  اسلام آباد سے بھکر پہنچی۔‘

فہیمہ نے بتایا کہ ان کی بیٹی وکیل ہیں اس لیے انہوں نے وہاں عدالت میں ان تمام کیسوں میں جانا شروع کیا۔ 2020 میں ان کی بہنیں بھی بھکر آ گئیں۔

’لیکن انہوں نے بھی میرے بھائی سے ایک معاہدہ کیا کہ وہ میرے دس مرلے کے کمرشل پلاٹ میں سے چار چار مرلے دونوں بہنوں کو دے دیں گے جس پر میری بہنیں راضی ہو گئیں۔ مجھے جب اس بات کا معلوم ہوا تو میں نے اپنی بہنوں کو سمجھایا کہ وہ ایسا نہ کریں لیکن وہ نہیں مانیں۔‘

انہوں نے کہا کہ لاہور میں محتسب عدالت ہے جو خواتین کی جائیداد کی مسائل کو حل کرتی ہے۔

’میں فوراً لاہور آئی جہاں میں نے اپنی وکیل بیٹی کے ذریعے وہاں اپنے پلاٹ کا کیس فائل کیا۔ وہاں سماعتیں ہوئیں، عدالت نے بھکر کے ڈپٹی کمشنر اور سول عدالت سے رپورٹیں منگوائیں جس کے بعد جنوری 2022 میں اپنے پلاٹ کا قبضہ مل گیا اس کے بعد اسی مہینے میں باقی وراثتی جائیداد کے حوالے سے بھی وہیں کیس کیا۔

’عدالت نے متعلقہ ثبوتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جون 2022 میں اس کیس کا فیصلہ بھی میرے حق میں کر دیا۔‘ 

فہیمہ کہتی ہیں کہ تین برس اپنے حق کے لیے عدالتوں کے چکر لگانے میں ان کا معاشی نقصان بہت زیادہ ہوا۔

ان کا کہنا ہے کہ خواتین میں اتنی آگاہی بھی نہیں کہ وہ ایسی صورت حال میں کہاں جائیں۔ ان کے ساتھ تو ان کی وکیل بیٹی تھیں جنہوں نے والدہ کی مدد کی۔

فہیمہ کی بیٹی ایڈووکیٹ مریم کے خیال میں محتسب عدالتیں اگر ہر ضلعے میں قائم ہوں تو شاید خواتین کو وراثتی جائیداد میں اپنا حصہ لینے کے لیے اتنی دشواریوں کا سامنہ نہ کرنا پڑے۔  

فہیمہ شیرازی جیسے کیسوں کے حوالے سے سمیرا صمد نے بتایا کہ ڈپارٹمنٹ آف ویمن ڈیویلپمنٹ کی ایک ہیلپ لائن ہے 1043 جس پر کالز آتی ہیں۔ صرف اکتوبر کے مہینے میں ہمیں 11 فیصد کالز پراپرٹی کے حوالے سے موصول ہوئیں۔ ان میں یا تو شکایات ہوتی ہیں یا آگاہی کے لیے لوگ کال کرتے ہیں۔

’شکایات والی کالز کو ہم محتسب کی جانب موڑ دیتے ہیں۔ بہت سی خواتین سول عدالت یا ریوینیو کے دفتر میں جانے سے گھبراتی ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ ان کی شنوائی نہیں ہو گی۔ محتسب ایک بااختیار ادارہ ہے اور ان کا کام خواتین کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے اس لیے وہ پھر ان خواتین کے لیے متعلقہ اداروں سے رابطے میں آتے ہیں۔‘

سمیرا نے بتایا کہ ان کے شعبے کے رابطے مختلف لا چیمبرز اور این جی اوز کے ساتھ ہوتے ہیں اور ایسے کیسوں میں جہاں خاتون کے پاس قانونی مدد لینے کی سکت نہ ہو تو ہمارا شعبہ اس سلسلے میں بھی انہیں مدد فراہم کرتا ہے۔ 

’پنجاب انفورسمنٹ آف ویمنز پراپرٹی ایکٹ 2021‘ مزید کیا کہتا ہے؟ 

اس ایکٹ کے سیکشن پانچ کے مطابق محتسب پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے اہلکاروں کو شکایت کنندہ کو جائیداد کا قبضہ بحال کرنے کی ہدایت دے کر حکم کے نفاذ کو یقینی بنائے گا۔ 

سیکشن نو کے تحت محتسب متعلقہ ڈپٹی کمشنر سمیت ریاست کے کسی بھی ایگزیکٹو کو ہدایت دے سکتا ہے کہ جہاں شکایت کنندہ کی جائیداد واقع ہے، وہاں جاری کردہ آرڈرز پر حرف بہ حرف عمل کروائیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سیکشن 11 کے مطابق کوئی بھی عدالت یا اتھارٹی محتسب کے احکامات کی منظوری کے بعد کی گئی کارروائی کی صداقت پر سوال نہیں اٹھا سکے گی یا اس پر سٹے یا عبوری حکم دے سکے گی۔ 

جائیداد میں حصہ نہ دینے کی سزائیں کیا ہیں؟ 

ایڈووکیٹ احمر مجید نے خواتین کے وراثت میں حصے کے تنازعوں کے حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا: ’خاتون کو جائیداد میں حصہ دینے سے پہلے دیکھا جائے گا کہ وہ کس مذہب سے تعلق رکھتی ہیں اور پھر اس میں بھی اگر مسلمان ہے تو اس میں ان کا فقہ دیکھا جائے گا کیونکہ کچھ فقہوں میں جائیداد کی تقسیم تھوڑی فرق ہے، خاص طور پر اگر وراثت کے حصے میں اگر بیٹا نہ ہو تو۔‘

احمر نے بتایا کہ کسی بھی خاتون کو اگر وراثت میں منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد میں سے حصہ نہیں دیا جاتا تو اس کے لیے پاکستان پینل کوڈ 1860 کے سیکشن 498 اے کے تحت سزائیں ہیں جن میں پانچ سے دس سال تک کی قید ہو سکتی ہے یا دس لاکھ جرمانہ یا دونوں ہو سکتی ہیں۔  

ان کا کہنا تھا مختلف طریقوں سے خاتون کو وراثت میں حصے سے محروم کر دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ بعض اوقات قرآن سے شادی کرا دی جاتی ہے۔ ایسے کیس زیادہ تر سندھ اور جنوبی پنجاب سے رپورٹ ہوتے ہیں۔ یہ عمل پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 498 سی تحت ایک سنگین جرم ہے جس کی تین سے سات سال تک کی قید کی سزا پانچ لاکھ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے۔

’جائیداد کے بٹوارے کے وقت کہا جاتا ہے کہ خاتون کو شادی پر جہیز دے دیا گیا ہے اس لیے اب باقی جائیداد میں حصہ نہیں بنتا، یا جب وراثت جب تقسیم ہوتی ہے تو گھر کے بڑے خاتون کو پٹواری کے پاس لے جا کر زور زبردستی یا جذباتی بلیک میل کر کے وراثت اپنے نام کروا لی جاتی ہے، اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ لڑکیوں کی شادی کسی عمر سے بہت چھوٹے یا ذہنی مریض سے زبردستی کر دی جاتی ہے تاکہ جائیداد گھر میں ہی رہے۔ یہ بھی پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 498 بی اور سی کے تحت جرم ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ تینوں سیکشن بدقسمتی سے ناقابل دست اندازی پولیس جرم ہے اس میں پولیس ایف آئی آر درج نہیں کر سکتی۔

احمر نے بتایا: ’ہمارے پاس اکثر ایسے ہی کیس آتے ہیں کہ لڑکیوں کو والد کے انتقال کے بعد جائیداد سے حصہ نہیں مل رہا ہوتا۔ بھائیوں کے پاس قبضہ ہوتا ہے۔ ایسے کیسز زیادہ تر لاہور اور دیگر بڑے شہروں سے آتے ہیں۔ ایسی خواتین جب آتی ہیں تو ان کا کیس سول عدالت میں چلا جاتا ہے، صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم پولیس میں بھی درخواست دے دیتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ پوچھتے ہیں ان کے پاس ثبوت کیا ہے ان کا فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ میں نام ہے یا نہیں۔ اب گذشتہ برس سے جب سے محتسب کے پاس اختیارات آئے ہیں تو ان کے پاس بھی کیس لے جاتے ہیں۔  

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین