متروکہ جائیدادیں فروخت کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے: چیف جسٹس

اقلیتوں کے حقوق سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’متروکہ املاک کو فروخت کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔اس طرح تو متروکہ وقف املاک بورڈ کو بنانے کا مقصد ہی فوت ہوگیا ہے۔‘

28 نومبر 2019 کو لی گئی سپریم کورٹ آف پاکستان کی عمارت کی ایک تصویر (فائل فوٹو: اے ایف پی)

سپریم کورٹ میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے متروکہ وقف املاک کی غیر قانونی فروخت کا نوٹس لیتے ہوئے استفسار کیا کہ یہ املاک کس قانون کے تحت فروخت کی گئیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے پیر کو مذکورہ کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’متروکہ وقف املاک بورڈ نے ساری جائیدادیں فروخت کر دی ہیں۔۔۔متروکہ جائیدادیں کیسے فروخت کی جا سکتی ہیں۔‘

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ ’متروکہ وقف املاک کے افسران نے اقلیتی پراپرٹی کو ذاتی ملکیت بنایا ہوا ہے۔‘

واضح رہے کہ متروکہ وقف املاک کے زیرانتظام وہ زمینیں یا جائیدادیں ہیں جو 1947 کی تقسیم کے وقت سکھوں اور ہندوؤں کی ملکیت تھیں۔ ان کے جانے کے بعد بورڈ نے ان زمینیوں، جائیدادوں اور مذہبی مقامات کو اپنے زیرنگرانی لے لیا تاکہ پاکستان میں موجود اقیلیتوں کے حقوق کا تحفظ ہو سکے۔

تاہم مذکورہ کیس کی سماعت کے دوران ہندو اقلیتی رہنما رمیش کمار نے عدالت کو بتایا کہ ’متروکہ بورڈ نے بہت سی املاک کو مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیز کو بیچ دیا ہے۔‘

خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں بھی اس حوالے سے ایک کیس زیر سماعت تھا، جس میں متروکہ املاک ڈی ایچ اےکو دیے جانے کا انکشاف ہوا تھا۔

آج کی سماعت میں متروکہ املاک وقف بورڈ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ’یہ درست ہے کہ متروکہ املاک کو فروخت کیا گیا ہے۔‘

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’متروکہ املاک کو فروخت کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔اس طرح تو املاک بورڈ کو بنانے کا مقصد ہی فوت ہوگیا ہے۔ متروکہ املاک وقف بورڈ اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔‘

چیف جسٹس نے وکیل سے کہا کہ چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ کو فوری بلائیں، تاہم جب انہیں آگاہ کیا گیا کہ چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ لاہور میں ہیں تو چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’جب معلوم ہے کہ کیس فکس ہے تو چیئرمین لاہور کیوں گئے؟‘

عدالت نے 30 منٹ کی سماعت کے پہلے حصے میں ڈی جی ایف آئی کو طلب کیا۔ سماعت میں وقفہ کرکے دس بجکر 45 منٹ پر ڈی جی ایف آئی اے عدالت میں پیش ہوئے تو عدالت نے فوراً انہیں روسٹرم پر طلب کرکے استفسار کیا کہ ’ڈی جی صاحب یہ متروکہ وقف املاک کا معاملہ ہے۔ املاک بورڈ کے پاس ہندوؤں اور سکھوں کی اور کچھ دیگر جائیدادیں ہیں۔ متروکہ وقف املاک نے بہت ساری جائیدادیں بیچ دی ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈی جی ایف آئی اے ثنااللہ عباسی خاموشی سے چیف جسٹس کو سنتے رہے۔ اس پر چیف جسٹس نے متروکہ املاک کی تفصیلات طلب کر لیں اور ڈی جی ایف آئی اور چیئرمین متروکہ املاک کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت کو کل بروز منگل (16 نومبر) تک کے لیے ملتوی کر دیا۔

دوران سماعت پیٹرن ان چیف ہندو کونسل رمیش کمار نے اپنے اوپر ہونے والے حملے کا تذکرہ بھی کیا اور عدالت کو بتایا کہ ’کراچی میں نامعلوم افراد نے مجھ پر حملہ کیا تھا۔‘

جس پر عدالت نے نوٹس لے کر آئی جی سندھ سے رمیش کمار پر ہونے والے حملے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے حکم دیا کہ آئی جی سندھ کل تک رمیش کمار پر  حملے کی رپورٹ جمع کرائیں۔ عدالت نے مزید کہا کہ ’آئی جی سندھ یقینی بنائیں کہ مستقبل میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔‘

کرک مندر کی تعمیر نو کا معاملہ

دوران سماعت کرک مندر کی تعمیر کے حوالے سے چیف جسٹس نے استفسار کیا تو ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے عدالت کو بتایا کہ کرک مندر کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے جبکہ مندر پر حملہ کرنے والے شر پسندوں سے ریکوریاں کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 123 میں سے 23 افراد نے 31 لاکھ 77 ہزار کی رقم ادا کردی ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ریکور کیا گیا پیسہ کہاں جمع کرایا گیا؟ تو ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے جواب دیا کہ ’ریکور کی گئی رقم خزانے میں جمع کروائی گئی ہے۔‘

عدالت نے کرک مندر کے حوالے سے ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ ’کرک مندر کے اطراف کے مکینوں کو پانی کی سہولت فراہم کرنے کے لیے پائپ لائن بچھائی جائے۔ اس کے علاوہ مندر کے علاقے میں نکاسی آب کے لیے سیوریج سسٹم بھی فراہم کیا جائے۔ یقینی بنایا جائے کہ علاقے میں صفائی ستھرائی ہو اور نکاسی آب کا پانی کھڑا نہ ہو۔‘

خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں گذشتہ برس دسمبر میں مشتعل افراد نے حملہ کرکے ایک ہندو مندر میں توڑ پھوڑ کی تھی جس پر سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس بھی لیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کرک مندر کے معاملے پر نوٹس لیتے ہوئے حکم دیا تھا کہ ملزمان سے ایک کروڑ 30 لاکھ وصول کیے جائیں اور مندر کو جلد از جلد اصل حالت میں بحال کیا جائے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان