چینی صدر چھ سال بعد سعودی عرب کا دورہ کریں گے

صدر شی جن پنگ مملکت میں ہونے والے سعودی چینی سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

16 مارچ، 2017 کو بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ اور  سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز ایک تقریب میں موجود ہیں (اے ایف پی)

عوامی جمہوریہ چین کے صدر شی جن پنگ بدھ  کو تین روزہ سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ رہے ہیں۔

عرب نیوز کے مطابق سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے صدر شی جن پنگ کو سات سے نو دسمبر تک مملکت میں ہونے والے سعودی چینی سربراہی اجلاس میں مدعو کیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی نے دورے کی تصدیق کی لیکن چین کی جانب اس دورے کی تصدیق نہیں کی گئی۔

عرب نیوز کے مطابق سعودی چینی سربراہی اجلاس کی صدارت شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کریں گے۔

اجلاس میں خلیج تعاون کونسل اور عرب ممالک کے چین کے ساتھ تعلقات کا جائزہ لیا جائے گا۔

توقع ہے کہ معیشت اور ترقی میں مشترکہ تعاون کی مضبوطی بات چیت کا محور ہو گی۔

صدر شی جن پنگ نے آخری بار 2016 میں سعودی عرب کا دورہ کیا تھا، جس سے ایک سال قبل شہزادہ محمد بن سلمان تخت نشین ہوئے تھے، اس دورے کے دوران وہ مصر اور ایران بھی گئے تھے۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے 2019 میں چین کا دورہ کیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت کے سربراہ شی جن پنگ چھ رکنی خلیج تعاون کونسل کے حکمرانوں کے ساتھ ایک سربراہی اجلاس میں شرکت اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کے رہنماؤں سے بات چیت کریں گے۔

چین سعودی عرب کے خام تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے جو سعودی تیل کی برآمدات کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ خریدتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان توانائی کے علاوہ مستقبل کے ممکنہ معاہدوں پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔

ان منصوبوں میں مستقبل کا 500 ارب ڈالر کا میگاسٹی نیوم بھی شامل ہے۔

(ایڈیٹنگ: بلال مظہر | ترجمہ: العاص)

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا