عمران خان اگر مگر چھوڑیں اور اسمبلیاں توڑیں: وزیر داخلہ

وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے مطابق الیکشن کا اعلان ہوتے ہی نواز شریف وطن واپس آئیں گے اور آج سے ان کے استقبال کی تیاریاں شروع کی جا رہی ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان اگر مگر چھوڑیں اور اسمبلیاں توڑیں۔

لاہور میں جمعے کو ایک پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ عمران خان پنجاب کی صوبائی اسمبلی توڑیں اور الیکشن کروائیں۔

انہوں نے کہا کہ ’میرا عمران خان کو چینلج ہے کہ اگر مگر چھوڑیں اور اسمبلیاں توڑیں۔ آپ اسمبلی توڑیں اور پنجاب کا الیکشن کرائیں۔ ہم اس الیکشن میں بھرپور حصہ لیں گے اور آپ کو پنجاب میں شکست دیں گے۔‘

’ہم نے پنجاب میں صوبائی اسمبلی کے الیکشن لڑنے اور اس کی تیاری کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم نے پنجاب کی نو ڈویژنز کو تین حصوں میں تقسیم کیا اور وہاں کے کمیٹیاں بنائی جائیں گی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’وہ کمیٹیاں دو ہفتوں کے اندر ہر صوبائی حلقے میں لوگوں کو ملنے کے بعد ہر حلقے میں دو دو  امیدواروں کو نامزد کر کے بھیجیں گے۔‘

رانا ثنا اللہ نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی صدر عارف علوی سے ملاقاتوں کے بارے میں کہا کہ ملک کا جو معاشی بحران ہے اس کو کوئی ایک جماعت درست کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ شہباز شریف نے کہا تھا کہ چارٹر آف اکانومی کریں۔ اسحاق ڈار نے بھی یہی تجویز رکھی ہے۔

مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد نواز شریف کی وطن واپسی کے حوالے سے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ الیکشن کا اعلان ہوتے ہی وہ (نواز شریف) وطن واپس آئیں گے اور آج سے ان کے استقبال کی تیاریاں شروع کی جا رہی ہیں۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ یونین کونسل لیول تک کمیٹیاں بنیں گے اور ہر یونین کونسل سے لوگ نوازشریف کے استقبال کے لیے لاہور پہنچیں گے۔ وہ استقبال الیکشن کا فیصلہ بھی کر دے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’جنرل الیکشن اکتوبر میں ہی ہوگا اور اگر اسمبلیاں ٹوٹتی ہیں تو ان کا الیکشن 90 دن میں ہوگا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آف شور کمپنیوں کے خلاف کارروائی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہاں تک پانامہ کا تعلق ہے تو وہ نوازشریف کی حکومت کے خلاف ایک ایول پراجیکٹ تھا اور مقصد حاصل کرنے کے بعد اس پر بات نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف، ان کی حکومت اور اہلخانہ پر کرپشن کا الزام لگایا گیا اور پھر ڈیلی میل نے  اپنی غلطی تسلیم کی۔

’یہ غلطی ان سے کس نے کروائی۔ یہ خبر جولائی 2019 میں شائع ہوئی تھی۔ اس سے پہلے ڈیلی میل کے نمائندہ ڈیوڈ روز کو پاکستان بلایا گیا، عمران خان نے ان سے ملاقات کی اور ’جعلی کاغذات‘ حوالے کیے اور شہزاد اکبر نے جیل میں لوگوں سے ان کو ملاوایا۔‘

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ’یہ ملک کے خلاف سازش تھی تاکہ کوئی ملک کو گرانٹ نہ دے۔ شہباز شریف نے ان کو نوٹس بھجوایا اور انہوں نے پانچ بار وقت لیا ثبوت پیش کرنے کا لیکن وہ پیش نہیں کر سکے۔‘

’میرا عمران خان اور شہزاد اکبر سے مطالبہ ہے کہ وہ شریف خاندان سے نہیں بلکہ پوری قوم سے معافی مانگیں۔ وہ شریف خاندان کو نقصان پہنچانے کے لیے پاکستان کو نقصان پہنچانے سے بھی بعض نہیں آئے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست