کانوں میں کرنٹ دوڑانے سے بوڑھے ہونے کی رفتار میں کمی: تحقیق

سائنسدانوں کے مطابق کان کے اندر ویگس رگ کو ہلکا سا سٹیمولیٹ کرنے سے انسانی زندگی کا معیار، موڈ اور نیند کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔

محققین کے مطابق اس طریقہ علاج سے بڑھاپے سے جڑی بیماریاں جیسے دل کے امراض اور بلڈ پریشر سمیت دوسرے کئی طبی مسائل کی شدت میں کمی ہو سکتی ہے(سکرین گریب)

ایک نئی تحقیق کے مطابق بہت ہلکا سا کرنٹ اگر کانوں کے اندر سے گزارا جائے تو 55 برس سے زیادہ عمر کے لوگوں میں اعصابی نظام کو دوبارہ سے متحرک کر کے بوڑھے ہونے کی رفتار کو کم کیا جا سکتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق کان کے اندر موجود ویگس نامی رگ، جو انسانی جسم کے مرکزی اعصابی نظام سے جڑی ہوتی ہے، کو ہلکا سا سٹیمولیٹ کرنے سے انسانی زندگی کا معیار، موڈ اور نیند کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔

یونیورسٹی آف لیڈز کی اس ریسرچ کے دوران شرکا کے کانوں میں ہر روز دو ہفتوں تک ہلکا کرنٹ گزارا گیا۔ 

’ایجنگ‘ نامی سائنسی جریدے میں چھپی اس تحقیق کے مطابق یہ برقی رو والا طریقہ علاج بڑھاپے کے اثرات قابل ذکر حد تک کم کرنے کے ساتھ صحت بہتر رکھنے میں بھی معاون ثابت ہو گا۔

محققین کے مطابق اس طریقہ علاج سے بڑھاپے سے جڑی بیماریاں جیسے دل کے امراض اور بلڈ پریشر سمیت دوسرے کئی طبی مسائل کی شدت میں کمی ہو سکتی ہے۔

اس تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر بیٹرس بریدرٹن کا کہنا ہے: ’کان ایک ایسا دروازہ سمجھ لیجیے جس کے ذریعے ہم  بغیر دواؤں یا سرجری کے نظام ہضم کو متوازن اور صحت مند رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سامنے آنے والے یہ نتائج ان اصل فائدوں سے بہت کم ہیں جنہیں اس طریقہ علاج کے بعد میڈیکل سائنس کی دنیا دیکھ رہی ہو گی۔

تاہم ابھی اس پر مزید کام کی ضرورت ہے تاکہ انسانی صحت پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔

اعصابی نظام دو حصوں میں تقسیم ہے۔ سانس لینے، کھانا ہضم کرنے یا دوران خون کو بہتر بنانے میں یہ دونوں حصے مل کر کام کر رہے ہوتے ہیں۔

جب انسان بوڑھا ہوتا ہے تو ان دو حصوں کا آپس میں توازن خراب ہو جاتا ہے۔ پہلا حصہ (سمپ تھیٹک) جو بیماریوں کے خلاف مدافعت پیدا کرتا ہے، وہ دوسرے حصے (پیرا سمپ تھیٹک) پر غلبہ پا لیتا ہے۔ 

مدافعتی نظام کی یہ کھینچا تانی بوڑھے لوگوں میں نت نئی بیماریوں کا سبب بنتی ہے اور جسم کے روزمرہ نظام میں توڑ پھوڑ بھی اسی وجہ سے زیادہ ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

لیڈز یونیورسٹی کی اس تحقیق میں سائنسدانوں نے یہ دیکھا کہ اعصابی نظام کے دونوں حصوں کا آپس میں توازن بہتر ہوا اور اس کے نتیجے میں زیر تجربہ بوڑھے افراد پر خوش گوار اثرات مرتب ہوئے اور جو لوگ اس تحقیق کے شروع میں سب سے زیادہ توازن کے مسائل کا شکار تھے انہی میں سب سے زیادہ مثبت تبدیلی دیکھی گئی۔ 

پہلے کے تجربات میں سائنسدانوں نے یہ بھی معلوم کیا تھا کہ کان میں موجود ویگس نامی یہ رگ اگر مستقل بنیادوں پر سہلائی بھی جائے تو 30 برس کی عمر کے نوجوانوں میں انسانی جسم کے توازن سے متعلق مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ 

تحقیق کی مصنف ڈاکٹر سوزن ڈیشر کے مطابق یہ تحقیق لوگوں کی زندگیاں تبدیل کر سکتی ہے۔ ان کا ارادہ ہے کہ مستقبل میں دیگر بیماریوں کے علاج میں بھی یہ طریقہ آزمایا جائے۔ 

یہ تحقیق لیڈز یونیورسٹی اور ڈن ہل میڈیکل ٹرسٹ کے تعاون سے مکمل ہوئی۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس