اسلام آباد کے مختلف علاقوں کی بجلی بحال کر دی گئی: وزیر توانائی

وزیر اعظم نے تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے اور وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر سے فوری رپورٹ طلب کی ہے۔

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے توانائی خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ پیر کی رات تک ملک بھر میں بجلی بحال ہونے کی توقع ہے جبکہ اسلام آباد کے مختلف علاقوں کی بجلی بحال کر دی گئی ہے۔

وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے اپنے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ اسلام آباد کے شہری علاقوں میں بجلی بحال ہو گئی ہے جبکہ بلوچستان میں بھی بجلی کی فراہمی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

اس سے قبل وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے نیشنل پاوور کنٹرول سینٹر اسلام آباد سے پیر کی شام ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں بجلی کی بحالی کی کوششیں جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کا ٹرانسمیشن سسٹم محفوظ ہے۔ بجلی کی بحالی کا چیلنج یہ ہے کہ ایک ایک کر کے ہمیں ملک کے تمام بجلی بنانے کے پلانٹ کو شروع کرنا ہے۔ انہیں شروع کرنے کے لیے بھی بجلی کی ضرورت ہوتی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں بجلی کے تعطل کا نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

وزیر اعظم نے تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے اور وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر سے فوری رپورٹ طلب کی ہے۔

وزیراعظم پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں شہباز شریف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’ملک میں بجلی کا اتنا بڑا بحران کس وجہ سے پیدا ہوا، آگاہ کیا جائے، ذمہ داران کا تعین کیا جائے۔‘

پاکستان میں پیر کی صبح ملک بھر میں بجلی کے بریک ڈاؤن کے باعث بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے مختلف شہروں میں بجلی کی فراہمی معطل ہونے کے بعد مختلف شہروں میں بجلی بحالی کا عمل جاری ہے۔

وزیر برائے توانائی خرم دستگیر خان نے ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ’سکھر میں بجلی جزوی طور پر بحال کر دی گئی ہے جب کہ اس حوالے سے ایک مقامی حل بھی نکال لیا گیا ہے۔‘

دوسری جانب ترجمان کے الیکٹرک نے ایک سوشل میڈیا پیغام  میں کہا کہ آئندہ تین سے چار گھنٹوں میں کراچی کے بیشتر حصوں میں بجلی کی بحالی کا امکان ہے۔

پیر کی صبح ساڑھے سات ملک کے مختلف علاقوں میں اس وقت بجلی کی سپلائی اس وقت منقطع ہوئی جب نیشنل گرڈ میں فریکوئنسی کی کمی دیکھی گئی۔

وزارت انرجی  نے بتایا کہ ’ابتدائی اطلاعات کے مطابق آج صبح 7:34 پر نیشنل گرڈ کی سسٹم فریکوئنسی کم ہوئی جس سے بجلی کے نظام میں وسیع بریک ڈاؤن ہوا، سسٹم کی بحالی پر کام تیزی سےجاری ہے۔‘

وزارت انرجی کا مزید کہنا ہے ’وارسک سے گرڈ سٹیشنوں کی بحالی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور پچھلے ایک گھنٹے میں اسلام آباد سپلائی کمپنی اور پشاور سپلائی کمپنی کے محدود تعداد میں گرڈ بحال کر دیے گئے ہیں۔‘

اسلام آباد کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنی آئیسکو نے ٹوئٹر پر بتایا کہ ’آئیسکو کے 117 گرڈ اسٹیشنز کو بجلی کی فراہمی معطل‘ ہو گئی ہے۔

مزید کہا گیا: ’ریجن کنٹرول سینٹر کی جانب سے ابھی تک کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی، آئیسکو انتظامیہ متعلقہ حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔‘

ملتان کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے میپکو کے مطابق ان کے زیرانتظام گرڈ سٹیشنوں میں بھی بجلی کی فراہمی منقطع ہے۔

’پنجاب بھر میں بجلی کے بریک ڈاؤن کے بعد بحالی کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ اسلام آباد الیکٹرک کمپنی کے زیرانتظام کچھ علاقوں میں بجلی کی فراہمی بحال کردی گئی۔ میپکو کے تمام گرڈ اسٹیشنوں کو بجلی کی فراہمی تا حال منقطع ہے۔‘

لاہور میں موجود انڈپینڈنٹ اردو کے نامہ نگار ارشد چوہدری کے مطابق ’لاہور سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں صبح ساڑھے سات بجے کے بعد سے بجلی بند ہونے سے معمولات زندگی متاثر ہیں، بریک ڈاؤن کے باعث بجلی بند ہونے سے شہری پریشانی سے دوچار ہیں۔‘

بلوچستان میں بھی صارفین بجلی سے محروم ہیں۔ کیسکو حکام کے مطابق ’بلوچستان کو بجلی فراہم کرنے والی 220kV اُچ سبّی ،220kV دادو خضدار 220kV ڈیرہ غازی خان، لورالائی اور 220kV ڈیرہ مراد جمالی ٹرانسمیشن لائن ٹرپ کر گئی ہیں۔ صوبہ کے متعدد اضلاع کو بجلی کی فراہمی متاثر ہوگئی ہے۔ بجلی بحالی کے لیے این ٹی ڈی سی کی جانب سے کو ششیں جاری ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وفاقی وزیر برائے توانائی خرم دستگیر خان نے جیو نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ ملک میں بجلی کا کوئی بڑا فالٹ نہیں آیا، امید ہے آئندہ 12 گھنٹوں میں ملک بھر میں بجلی مکمل طور پر بحال ہو جائے گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ آج صبح سات بجے کے قریب ایک ایک کر کے سسٹم کو آن کیا جا رہا تھا تو اس دوران جامشورو اور دادو کے درمیان فریکوئنسی کی کمی کی وجہ سے بجلی کا بریک ڈاؤن ہوا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا بریک ڈاؤن شمال سے جنوب تک آیا ہے اور ہم آہستہ آہستہ جنوب سے شمال کی طرف سسٹم بحال کر رہے، تربیلا اور وارسک سے کچھ سسٹم بحال کرنا شروع کر دیے ہیں۔

اسی حوالے سے ٹوئٹر پر #PowerOutage اور #ElectricityShutDown کے ہیش ٹیگز بھی ٹرینڈ کر رہے ہیں۔

جاوید اقبال نامی صارف نے وزیر توانائی خرم دستگیر کے اس 12 گھنٹوں میں بجلی کی بحالی کے بیان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’12 گھنٹے، یہ تو کوئی بڑی بات نہیں۔‘

زنیرہ امام خان کا کہنا تھا کہ ’ملک بھر میں بجلی کے غیر منقطع ہونے اور (زرمبادلہ کے) ذخائر کم ہونے کے بعد کیا ہمیں اب یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ اہم بہت نیچے جا چکے ہیں اور اپنی سرحد کی حفاظت کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا اگر ملک اندر سے ہی ٹوٹ رہا ہے؟ ہمیں اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنا ہو گی۔‘

 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان