بجلی بلوں میں کچرا ٹیکس: ’سیاسی مخالفین مسئلہ بنا رہے ہیں‘

کراچی کے شہریوں کے مطابق کراچی میں صارفین سے بجلی کے بلوں میں میونسپل یوٹیلٹی چارجز کی مد میں ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کے الیکٹرک اس ٹیکس کے نفاذ سے پہلے بھی بجلی کے بلوں میں سیلز ٹیکس کی مد 17 فیصد وصول کر رہی ہے(تصویر: اے ایف پی فائل)

گذشتہ چند روز سے پاکستان میں سماجی رابطے کی ویب سائٹس فیس بک اور ٹوئٹر پر ایسی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جن میں صوبہ سندھ کے شہر کراچی کے شہریوں کو کے الیکٹرک کی گاڑیوں میں کچرا پھینکتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

ان ویڈیوز میں شہریوں کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ جب کے الیکٹرک شہر سے کچرا اکٹھا کرنے کا ٹیکس وصول کر رہی ہے تو پھر شہر کا کچرا اٹھا کیوں نہیں رہی۔

کراچی کے شہریوں کے مطابق کراچی میں صارفین سے بجلی کے بلوں میں میونسپل یوٹیلٹی چارجز کی مد میں ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ جس کے تحت 200 یونٹ استعمال کرنے پر والے صارفین سے 50 روپے، 700 یونٹ تک استعمال کرنے والے صارف سے 150 روپے، 700 سے اوپر یونٹ استعمال کرنے والوں پر 200 روپے جبکہ صنعتوں کو پانچ ہزار روپے ٹیکس دینا ہوگا۔

اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ کراچی مرتضیٰ وہاب نے بجلی کے بل میں ٹیکس شامل کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’بل میں یوٹیلٹی ٹیکس شامل کرنے کا مقصد بلدیہ عظمیٰ کراچی کو معاشی طور پر مضبوط کرنا ہے۔ تاکہ شہر میں سڑکوں کی تعمیر سمیت انفرا سٹرکچر کے لیے بلدیہ کے پاس اپنے اکاؤنٹ میں پیسے ہوں۔‘

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا: ’بلدیہ عظمیٰ کراچی چھوٹے موٹے کاموں کے لیے کیوں وزیراعظم یا وزیراعلیٰ سندھ کو درخواست دے۔ یہ کوئی نیا ٹیکس نہیں ہے۔ بلکہ پرانا ٹیکس ہے، جس کو نجی کمپنی کئی گنا زیادہ وصول کرتی رہی ہے۔ ہم نے اس ٹیکس کو انتہائی کم کرکے صرف بجلی کے بل میں شامل کیا ہے۔‘

ان کے مطابق ’اس پر عوام کو مسئلہ نہیں، بس سیاسی مخالفین اس کو ایشو بنا کر پیش کررہے ہیں۔ یہ ٹیکس 50 روپوں سے 200 روپے تک ماہانہ ہوگا۔ اور اس ٹیکس کی مد میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کو ہر سال سوا تین ارب روپے وصول ہوں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ریکارڈ کے مطابق کراچی میں فائر اینڈ کنزروینسی ٹیکس، واٹر ٹیکس کے ساتھ 1979 سے وصول کیا جارہا تھا۔ 2001 میں نئے بلدیاتی نظام کے تحت کراچی میں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کا نظام نافذ کرکے مئیر کو ناظم کا درجہ دیا گیا۔ جس نظام کے تحت نعمت اللہ خان ناظم کراچی بن گئے۔

 مرتضی وہاب کے مطابق: ’اس وقت کے ناظم کراچی نعمت اللہ خان کے دور میں مختلف ٹیکس وصول کیے جاتے تھے۔ یہ مختلف اقسام کے ٹیکسز تھے۔ جنہیں بعد میں آنے والے ناظم مصطفیٰ کمال کے دور میں یک جا کرکے ایک ٹیکس بنا دیا گیا۔ جس کا نام ’میونسپل یوٹیلیٹی کنزروینسی ٹیکس‘ یا ایم یو سی ٹی رکھا گیا۔‘

مرتضی وہاب کا کہنا ہے کہ ’اس کے بعد آنے والے میئر کراچی وسیم اختر کے دور میں یہ ایم یو سی ٹی ٹیکس ایک نجی کمپنی وصول کرتی تھی۔ اس وصولی کا بڑا حصہ اس کمپنی کو دیا جاتا تھا۔ اب ہم نے ٹیکس کی رقم کو انتہائی کم کرکے 50 سے 200 روپے تک کردیا ہے۔‘

’کے الیکٹرک کی جانب سے اس ٹیکس کی وصولی شفاف رہے گی، کیوں کہ کے الیکٹرک پاکستان سٹاک ایکسچینچ کی ایک لسٹڈ کمپنی ہے۔ اب کسی نجی کمپنی یا فرد کے بجائے ایک شفاف طریقے سے ٹیکس وصول ہوگا اور رقم بلدیہ عظمیٰ کو ملے گی، جس سے انفراسٹرکچر کا کام کرایا جا سکے گا۔‘

ان کے مطابق ’اب میونسپل یوٹیلیٹی کنزروینسی ٹیکس یا ایم یو سی ٹی ایک بار پھر نافذ کردیا گیا۔ جس کی وصولی کے الیکٹرک بجلی کے بلوں کے ساتھ کرے گی۔ جس کے خلاف شہری احتجاج کررہے ہیں۔ جبکہ اس ٹیکس پر متحدہ قومی مومینٹ (ایم کیو ایم) پاکستان اور جماعت اسلامی احتجاج کرنے کے ساتھ اس ٹیکس کے نفاذ کو رد کرچکی ہیں۔‘

تفصیلات کے مطابق کے الیکٹرک اس ٹیکس کے نفاذ سے پہلے بھی بجلی کے بلوں میں سیلز ٹیکس کی مد 17 فیصد وصول کر رہی ہے۔

اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر کے الیکٹرک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’میونسپل یوٹیلیٹی کنزروینسی ٹیکس یا ایم یو سی ٹی یا دیگر کوئی بھی ٹیکس لگانے یا ختم کرنے کا اختیار وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے پاس ہے۔ بجلی کی تقسیم کار تمام کمپنیاں بشمول کے الیکٹرک ٹیکسوں کے نفاذ سے متعلق حکومتی ہدایات پر عمل کرنے کی پابند ہیں۔‘

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کے الیکٹرک کے ڈائریکٹر کمیونیکیشن عمران رانا نے کہا : شہریوں کی جانب سے کے الیکٹرک کے خلاف کچرا پھینک کر کیا جانے والا احتجاج نامناسب اور غلط سمت میں کیا جا رہا ہے۔ کیوں کہ اس ٹیکس کا نفاذ ہم نے نہیں کیا۔ ہم صرف قانون کے تحت حکومت کی ہدایت پر یہ ٹیکس وصول کررہے ہیں۔‘

عمران رانا کے مطابق ’اس انوکھے احتجاج سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ کچرا ہمارے شہر کے رہنے والوں کو شدید متاثر کرتا ہے کہ انہیں ایسا راستہ اپنانا پڑا۔ بطور ادارہ اپنی کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے تحت ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کے الیکٹرک کیا مثبت کردار ادا کر سکتی ہے۔‘

یاد رہے کہ کراچی میں چھ فوجی چھاونیاں ہیں۔ جن میں کراچی چھاونی، کلفٹن کنٹونمنٹ، فیصل کنٹونمنٹ، کورنگی کریک کنٹونمنٹ، ملیر چھاونی اور منوڑہ کنٹونمنٹ شامل ہیں۔ ان تمام چھاونیوں کی حدود میں آنے والے تمام رہائشی علاقے، ڈی ایچ اے سٹی، بحریہ ٹاؤن سے یہ میونسپل یوٹیلیٹی کنزروینسی ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا۔

عمران رانا نے تصدیق کرتے ہوئے کہا: ایم یو سی ٹی کے حوالے سے یہ جاننا ضروری ہے کہ اسے صرف کراچی میونسپل کارپوریشن کے زیر انتظام علاقوں سے ہی وصول کیا جائے گا۔ میونسپل ٹیکس کے استعمال کے حوالے سے مزید معلومات کے لیے کراچی میونسپل کارپوریشن سے رابطہ کیا جائے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان