جولائی2019 انسانی تاریخ کا گرم ترین مہینہ

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ:’ ہم 2015 سے 2019 تک تاریخ کے گرم ترین سالوں کے ریکارڈ کی راہ پر ہیں۔‘

دسیوں ہزاروں لوگ وقت سے پہلے ان گرمی کی لہروں کی وجہ سے ہلاک ہو سکتے ہیں اور مستقبل میں ایسے واقعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں جب تک اس ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں نہیں کی جاتی جو موسمیاتی تبدیلی کے لیے بہت ضروری ہے(اے ایف پی)۔

ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن  کی ابتدائی معلومات کے مطابق جولائی 2019 تاریخ کا گرم ترین مہینہ قرار پایا ہے۔ ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) کا کہنا ہے کہ:’ جولائی 2019 گرمی کے اعتبار سے شاید گذشتہ گرم ترین مہینے جولائی 2016 کے برابر یا شاید اس سے زیادہ گرم ہو سکتا ہے۔‘ یہ اعداد و شمار ڈبلیو ایم او کو کوپرنیکس کلائمیٹ چینج پروگرام کی جانب سے مہیا کیے گئے ہیں۔ اس میں جولائی کے پہلے 29 دن کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ جولائی میں درجہ حرارت صنعتی سطح سے پہلے کے مقابلے میں 1.2 سیلسیس زیادہ ہو چکا ہے۔ اس بارے میں آفیشل ڈیٹا سوموار 5 اگست کو جاری کیا جائے گا۔

جولائی 2016 کے برابر درجہ حرارت بھی بہت اہم سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جولائی 2016 میں عالمی درجہ حرارت میں اضافہ غیر معمولی صورتحال کے طور پر دیکھا گیا۔ جس کی وجہ سے وسطی اور وسط مشرقی بحرالکاہل میں پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حالانکہ یہ 2019 میں اتنا زیادہ مضبوط  نہیں ہے۔

جولائی کی اس غیر معمولی گرمی نے جولائی جون 2019 میں شدید ترین گرمی کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ جون 2019 نے بھی دنیا کی تاریخ میں گرم ترین جون کا ریکارڈ توڑ دیا تھا۔ 2019 میں اب تک چار مہینوں نے اپنے ماضی کے مقابلے میں گرم ترین مہینے ہونے ریکارڈ بنا دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ:’ ہم 2015 سے 2019 تک تاریخ کے گرم ترین سالوں کے ریکارڈ کی راہ پر ہیں۔‘ ان کہنا تھا یہ ’ہماری زندگی کی دوڑ ہے اور یہ ہماری زندگی کے لیے دوڑ ہے۔ صرف اس سال ہی ہم نے دہلی سے ساحل سمندر تک ، پیرس سے سینتاگو تک، ایڈیلیڈ سے قطب شمالی تک درجہ حرارت کے ریکارڈز ٹوٹتے دیکھے ہیں۔ اگر ہم ابھی موسمیاتی تبدیلی پر کچھ نہیں کریں گے تو یہ شدید موسم بڑی تباہی کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔

 ڈبلیو ایم او کے سیکرٹری جنرل پیٹری تالاس کا کہنا ہے کہ :’ گرمی کی حالیہ شدید لہر نے پوری دنیا کے ماحول کا بہت نقصان پہنچایا ہے۔ گرمی کی یہ غیرمعمولی لہر آئس لینڈ ، قطب شمالی اور یورپی گلیشئیرز میں ڈرامائی انداز میں برف کے پگھلنے کا باعث بنی ہے۔ تاریخ میں پہلی بار قطب شمالی میں لگاتار دوسرے ماہ لگنے والی آگ نے قدیم جنگلات کو جلا کر خاکستر کر دیا ہے۔ یہ سائنس فکشن نہیں۔ یہ موسمیاتی تبدیلی کی حقیقت ہے۔ یہ ابھی ہو رہا ہے اور یہ مستقبل میں اس سے بھی زیادہ خطرناک صورت اختیار کرے گا اگر ہم موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کوئی اقدامات نہیں کرتے۔‘

جولائی نے دنیا بھر میں موسمی نقشے اور تاریخ بدل کے رکھ دی ہے۔ فرانس نے اس سے قبل قائم گرمی کے ریکارڈز کو جولائی میں ٹوٹتے دیکھا ہے جب درجہ حرارت 25 جولائی کو 42.7 سیلیس ریکارڈ کیا گیا۔ یہ جولائی میں بغداد کے درجہ حرارت جیسا ہی ہے۔ شمالی شہر للی میں 41.6 ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ ریکارڈ سے 4 درجے زیادہ تھا۔ جبکہ شمالی فرانس کے جنگلات میں آگ لگنے جیسے غیر معمولی واقعات بھی دیکھے گئے۔

نیدرلینڈز میں 75 سالہ پرانے سب سے زیادہ  درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ گلوے رجن میں 40.7 سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ جبکہ جرمنی کے شہر لنگن میں 42.6، برطانیہ کے شہر کیمرج میں 37.7 ریکارڈ کیا گیا۔ بیلجیم میں 41.8 درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا جو کہ ایک قومی ریکارڈ تھا۔ فن لینڈ کے شہر ہیلسنکی میں درجہ حرارت 33.2 تک چلا گیا۔ جبکہ امریکہ کے کچھ حصوں میں گرمی نے کئی ریکارڈ توڑ ڈالے۔

بڑھتی گرمی نے گرین لینڈ میں بھی برف کو پگھلا ڈالا ہے۔ جہاں اس سال 11 سے 20 جولائی کے درمیان برف پگھلنے کی رفتار میں بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ قطب پر تحقیق کرنے والے  سائنسدانوں کا ماننا ہے 2019 گرین لینڈ میں برف کی سب سے زیادہ مقدار کے پگھلنے کا ریکارڈ قائم کر سکتا ہے۔ قطب شمالی اور گرین لینڈ میں اس گرمی کی وجہ سے جنگلات میں بڑی آگ لگ رہی ہے۔جس کی وجہ سے کولمبیا میں 2017 کے دوران پیدا ہونے والی کاربن کے برابر سی او ٹو گیس خارج ہو رہی ہے۔ سینکڑوں کی تعداد میں جنگلات میں لگنے والی آگ جو خلا سے بھی دیکھی جا سکتی ہے نے سائبیریا کو اجاڑ کے رکھ دیا ہے جہاں تین ملین ایکڑ زمین اس کی زد میں آچکی ہے۔

ماہرین کے مطابق گرمی کی یہ لہر انسانی اقدامات سے جڑی ہے۔ کچھ علاقوں میں انسانوں کی تعداد پہلے کے مقابلے میں دگنی سے بھی زیادہ ہ چکی ہے۔ ڈبلیو ایم او کے کلائمیٹ اینڈ واٹر ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جوہانس کلمین کا کہنا ہے کہ:’اتنی شدت اور پھیلنے والی آگ کی وجہ انسان کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی کا باعث بننے والے اقدامات  ہیں‘

یونیورسٹی آف برسٹل میں ماحولیاتی سائنس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر، پروفیسر ڈن میچل کہتے ہیں کہ:’ بڑھتی گرمی کا رجحان اور سائنسی ثبوت اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس کی وجہ موسمیاتی تبدیلی پر اثر انداز ہوتی انسانی سرگرمیاں ہیں۔‘

موسمیاتی تبدیلی پر بنائے جانے والے بین الحکومتی پینل کا کہنا ہے کہ 1.5 درجہ حرارت کا اضافہ گلوبل وارمنگ سے جڑے صحت کے مسائل کا خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ رہن سہن، خوراک اور پانی کی فراہمی ۔ انسانی حفاظت اور معاشی ترقی اس کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

دسیوں ہزاروں لوگ وقت سے پہلے ان گرمی کی لہروں کی وجہ سے ہلاک ہو سکتے ہیں اور مستقبل میں ایسے واقعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں جب تک اس ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں نہیں کی جاتی جو موسمیاتی تبدیلی کے لیے بہت ضروری ہے۔

ستمبر میں ڈبلیو ایم او 2015 سے 2019 تک موسمیاتی تبدیلی کی رپورٹ یو این کلائمیٹ ایکشن سمٹ کو پیش کرے گی۔

اس رپورٹ میں خبررساں ایجنسیوں کی معاونت شامل ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات