سجل علی کے ڈرامے میں فلم جوائے لینڈ کی تصویر پر ماریہ بی کی تنقید

فیشن ڈیزائنر ماریہ بی نے ڈرامہ ان کہی کے ایک سین کا سکرین شاٹ شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ : ہمارے پاس ایسے ڈرامے بھی ہیں جو ٹرانسجینڈرز کو فروغ دیتے ہیں۔‘

پاکستانی فیشن ڈیزائنر ماریہ بی نے سجل علی کے نئے ڈرامے ’کچھ ان کہی میں جوائے لینڈ کے فروغ پر تنقید کی ہے(تصویر: سجل علی/انسٹاگرام، ماریہ بی/انسٹاگرام)

پاکستانی فیشن ڈیزائنر ماریہ بی نے سجل علی کے نئے ڈرامے ’کچھ ان کہی‘ کے ایک منظر میں فلم جوائے لینڈ کا پوسٹر دکھانے پر اسے فلم کی تشہیر قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کی ہے۔

فیشن ڈیزائنر ماریہ بی نے ڈرامہ ’کچھ ان کہی‘ کے ایک سین کا سکرین شاٹ شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ : ہمارے پاس ایسے ڈرامے بھی ہیں جو جوائے لینڈ/ٹرانسجینڈرز کو عام طور پر فروغ دیتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید لکھا کہ ’ہم بے وقوف نہیں ہیں ہم سب سمجھتے ہیں۔ جاگو پاکستان اور دیکھو نیا ایجنڈا۔‘

اپنی پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کو بچانے کی بجائے ہم اپنے مذہبی تشخص کو بیچ رہے ہیں۔‘

اس سے قبل ماریہ بی نے جوائے لینڈ فلم پر پابندی لگانے پر اس وقت کی پنجاب حکومت کی تعریف کی اور لکھا تھا کہ ’جس نے بھی یہ کیا ہے اس نے اس ملک کے بچوں کے لیے ایک امید جگائی ہے۔‘

 

ماریہ بی مسلسل فلم جوائے لینڈ کے خلاف سوشل میڈیا پر سرگرم رہی ہیں اور اس پر انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا اور اس بار بھی سوشل میڈیا پر ان کے خلاف تبصرے ہو رہے ہیں۔

ماریہ بی پر تنقید کرتے ہوئے سعدیہ بخاری نے لکھا کہ ’ماریہ بی کون ہوتی ہیں یہ فیصلہ کرنے کے لیے کہ اسلام میں کس چیز کی اجازت نہیں ہے۔‘

ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ میں اب تک یہ سوچنے کی کوشش کر رہی ہوں کہ ماریہ بی کا ٹرانس جینڈر کے خلاف کون سا ذاتی ایجنڈا ہے۔

جہاں کچھ لوگ ماریہ بہ پر تنقید کر رہے ہیں وہاں کچھ لوگ ان کی حمایت میں بھی نظر آئے۔

انعم رضوان نے لکھا کہ ’جوائے لینڈ کے خلاف اپنی آواز بلند کرنے پر ہم آپ کے ساتھ ہیں۔‘

ایک اور ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ ’اسلامی اقدار کے خلاف ایجنڈا کرنے والوں کے خلاف بولنے پر ماریہ بی کے موقف کی تائید کرتے ہیں۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل