اسلام آباد: بے قابو تیندوا تحویل میں، ’نامعلوم ملزم‘ کے خلاف مقدمہ درج

اسلام آباد پولیس کے مطابق: ’ملزم نے خطرناک جانور رکھ کر شہریوں کی زندگی کو خطرے میں ڈالا۔ ملزم کی تلاش جاری ہے، جلد گرفتار کرکے قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘

وائلڈ لائف بورڈ کی رائنا ستی نے رات گئے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ ان کے بورڈ کے ریسکیو اور ریہیبلیٹیشن کے عملے نے تیندوے کو بے ہوش کر کے تحویل میں لے لیا (رائنا ستی ٹوئٹر)

اسلام آباد پولیس نے ڈی ایچ اے کے رہائشی علاقے میں ایک بے قابو تیندوے کے شہریوں پر حملے کے واقعے کے بعد تیندوے کو گھر میں پالنے والے ’نامعلوم ملزم‘ کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔

اس سے قبل اسلام آباد وائلڈ لائف بورڈ نے ڈی ایچ اے کے رہائشی علاقے میں اس بے قابو تیندوے کو بے ہوش کر کے تحویل میں لیا تھا، جبکہ واقعے میں تین افراد زخمی ہوئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اسلام آباد پولیس نے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بتایا کہ ’ملزم نے خطرناک جانور رکھ کر شہریوں کی زندگی کو خطرے میں ڈالا۔ ملزم کی تلاش جاری ہے، جلد گرفتار کرکے قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘

جمعرات کو سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل ہوئی تھیں، جن میں ایک تیندوے کو ڈی ایچ اے کے رہائشی علاقے میں بھاگتے ہوئے اور لوگوں پر حملہ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا تھا۔ اس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور انتظامیہ کو حرکت میں آنا پڑا۔

اسلام آباد وائلڈ لائف بورڈ کی چیئر پرسن رائنا ستی نے رات گئے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ ان کے بورڈ کے ریسکیو اور ری ہیبیلیٹیشن کے عملے نے تیندوے کو بے ہوش کر کے تحویل میں لے لیا اور واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن نے کہا کہ واقعے میں تین افراد زخمی ہوئے ہیں اور سب کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کا کہنا ہے کہ تیندوے کو پالتو جانور کے طور پر رکھنے پر اس کے مالک کے خلاف ایکشن لیا جائے گا اور ان کی تفصیلات ڈی ایچ اے انتظامیہ سے طلب کی جا رہی ہیں۔

اس موقعے پر رائنا ستی نے اپنے ریسکیو کے عملے کو بھی داد دی اور ان کی تیندوے کو پکڑنے کی کوششوں کو سراہا۔

اس سے قبل سوشل میڈیا پر لوگوں نے تیندوے کے بےقابو ہو کر لوگوں پر حملے کی ویڈیوز بھی شیئر کیں۔

اس کے علاوہ جمعرات کو شام کے اوقات میں بھی تیندوے کو دیوار پھلانگ کر ایک شخص کا تعاقب کرتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

 

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان