منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے

یہ بات اب صاف ظاہر ہو گئی ہے کہ ہم ایک کنٹرولڈ جمہوریت چاہتے ہیں جس کی جب چاہے آسانی سے بانہیں مروڑی جاسکیں۔

انڈپینڈنٹ اردو

سینیٹ میں یکم اگست 2019 کو جمہوریت کے سینے میں ایک اور خنجر گھونپا گیا۔ اس گھاؤ نے احمد فراز مرحوم کی روح کو خاص طور پر تکلیف پہنچائی ہوگی کیونکہ ان کے بیٹے اس حملے کی قیادت کر رہے تھے اور کامیابی پہ خوشی سے سینیٹ میں اپنا ڈیسک بجا رہے تھے۔

خوشی کے اسی عالم میں صادق سنجرانی کو گلے بھی لگا لیا۔ یہ منظر احمد فراز کی روح کو تڑپا رہا ہو گا۔ وہ شخص جس نے ساری عمر جمہوری جدوجہد میں گزاری اور اس کے لیے قید و بند اور جلاوطنی کی صحبتیں بھی سہیں۔

احمد فراز سے ان کے بینکار بیٹے نے بظاہر کچھ نہیں سیکھا اور اس جمہوریت پرور شاعر کا سفر اپنے گھر کی حد تک رائیگاں گیا۔

یقیناً بینکار کو نفع اور نقصان سے مطلب ہوتا ہے نہ کہ ملک میں جمہوری روایات کی مضبوطی سے۔ پاکستان کی تاریخ میں کئی بڑے لوگوں کے بچوں نے عموماً قوم کو مایوس ہی کیا ہے اور شبلی فراز اس فہرست میں نیا نام ہے۔

اپوزیشن اس معرکے میں ہارنے کے باوجود کامیاب رہی اور حکومت جیت کر بھی ہار گئی۔ اپوزیشن نے کامیابی سے عوام کے سامنے سینیٹ میں حکومت کی اس ناشائستہ کامیابی کا راز فاش کر دیا اور ساتھ ساتھ اپنے اس بیانیہ کو بھی مضبوط کر دیا کہ 2018 کے الیکشن میں بھی غالبا یہی کچھ ہوا۔

حکومت کی فہم سے عاری ترجمان نے انتہائی ڈھٹائی سے اعلان کیا کہ سینیٹ میں کامیابی سے عمران خان کا بیانیہ جیت گیا۔ انہیں اس کے ساتھ یہ بھی واضح کرنا چاہیے تھا کہ کیا ہارس ٹریڈنگ عمران خان کا بیانیہ تھا؟

عمران خان ہارس ٹریڈنگ کے سخت مخالف رہے ہیں اور پچھلے سال اسی ناپسندیدہ حرکت پہ اپنی ہی پارٹی کے ارکان کو پارٹی سے نکال چکے تھے، لیکن اب محسوس ہوتا ہے وہ اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے اقدار کا سودا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہیں تاریخ کا سبق یاد رکھنا چاہیے کہ جیسا وہ بوئیں گے ویسا ہی کاٹیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سنجرانی صاحب کے لیے بھی یہ ایک تاریخی موقع تھا کہ وہ جمہوریت کو مضبوط کرتے اور تاریخ میں اپنا نام رقم کرتے مگر وہ بھی اپنے شخصی مفادات سے آگے نہ جا سکے۔ 

انہیں ’غیبی امداد‘ پر کامل یقین تھا اس لیے 64 اراکین کے ابتدا میں کھڑا ہو کر ان کے خلاف عدم اعتماد کے اظہار کے باوجود انہوں نے خفیہ رائے شماری کا انتظار کیا۔

خفیہ رائے شماری میں بھی ایوان میں موجود اکثریت نے ان پر عدم اعتماد کا اظہار کیا لیکن وہ اس اخلاقی شکست کے باوجود مبارک باد وصول کرتے رہے، حتیٰ کہ وزیر اعظم نے انہیں اپنے دفتر میں طلب کر کے مبارک باد دی۔

کیا ہمیں ایسی تبدیلی کا انتظار تھا؟ لگتا ہے تبدیلی خود تبدیلی کا شکار ہو گئی ہے۔ سینیٹ میں ووٹنگ سے ثابت ہوا کہ موجودہ حکومت اور سابق حکمرانوں میں اب کوئی فرق نہیں رہا۔

نیا پاکستان پرانے پاکستان سے زیادہ بدصورت دکھائی دینے لگا ہے۔ یہ ایسی جیت ہے جس سے باضمیر لوگوں کو شرمندہ ہونا چاہیے۔ یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ ان 14 ضمیر کے متوالوں کو کس نے قابو کیا اور کیا دکھا کے قابو کیا اور قابو کرنے والوں کا جمہوریت پہ یقین بھی ہے کہ نہیں۔

پی ٹی آئی اس جمہوریت کُش حملے میں برابر کی شریک ہے کیونکہ اس نے ضمیر کے ان متوالوں کو نئے پاکستان کا معمار قرار دیا ہے۔ پی ٹی آئی کو اندازہ نہیں اس غیرجمہوری قدم سے عوام کے، جو کہ پہلے سے مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، غصے میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ غصہ ان کے خلاف بھی بڑھتا جا رہا ہے جو حقیقی ڈور ہلا رہے ہیں۔ حکومت کی سینیٹ میں کامیابی موجودہ سیاسی انتظام کو مزید انتشار کی طرف لے جائے گی۔

سنجیدہ تجزیہ کار اداروں کی سینیٹ کی حکمت عملی کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ سنجرانی کی تبدیلی سے کوئی قیامت نہیں آنی تھی، حکومت پہلے سے ہی کوئی خاص قانون سازی نہیں کر پا رہی ہے تو اس مشق سے انہیں سینیٹ میں کون سی برتری حاصل ہونی تھی۔

یہ ایک انتہائی ناپختہ قدم تھا جو پاکستانی سیاست میں اداروں کی مسلسل مداخلت کا ایک اور ناقابل تردید ثبوت تھا۔ اس قدم سے یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ غیر جمہوری قوتیں اب اپنی مداخلت کو خفیہ بھی نہیں رکھتیں اور نہ ہی اپنے اقدامات پر شرمندہ ہوتی ہیں۔

مسخرے اینکرز جو پرانے نظام کو گلا سڑا اور اسے تیزاب سے غسل دینے کی باتیں کرتے تھے وہ اس دھوکے بازی کو ضمیر کی آواز سے ملا رہے ہیں۔

یہ صورتحال ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا ہمیں ایک جمہوری ریاست رہنا بھی چاہیے یا نہیں؟ ہمیں اس دھوکے میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت بھی ہے کہ نہیں؟

ہر سال ان نام نہاد جمہوری اداروں پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں کیا ہمیں اس مصنوعی اور دھوکے پر مبنی نظام پر خرچ کرنے کی ضرورت ہے؟ ہم من حیث القوم اور ہمارے ادارے جمہوریت چاہتے بھی ہیں؟ کیا ہمیں لنگڑی لولی جمہوریت، آمریت یا صرف خالص جمہوریت چاہیے؟

ایسا لگتا ہے مقتدر ادارے اور بعض سیاسی قوتیں آمریت اور جمہوریت کے درمیان میں کوئی چیز چاہتے ہیں جسے وہ اپنے مقاصد کے لیے حسب ضرورت استعمال کر سکیں۔ بہرحال یہ بات اب صاف ظاہر ہو گئی ہے کہ ہم ایک کنٹرولڈ جمہوریت چاہتے ہیں جس کی جب چاہے آسانی سے باہیں مروڑی جاسکیں۔ اس لیے اب اس جمہوری ڈوھنگ کو ختم ہونا چاہیے۔

جمہوریت کو بدنام کرنے کے لیے اسے بار بار بقائی جھٹکے دیے جا رہے ہیں اور پھر الزام لگایا جاتا ہے کہ ہمارے لیے جمہوری نظام ٹھیک نہیں اور ہمارے ان پڑھ عوام میں مناسب رہنما منتخب کرنے کی صلاحیت ہی نہیں۔

حالانکہ انہی ان پڑھ لوگوں نے 1970 میں ملک کے واحد منصفانہ انتخاب میں مغربی اور مشرقی پاکستان میں بڑے بڑے زمینداروں اور صنعتکاروں کو ووٹ کے ذریعے شکست دی تھی اور ایک بہت بڑا بالغ جمہوری فیصلہ کیا۔

اس جمہوری فیصلے کے بعد یہ طے کر لیا گیا کہ اِن ان پڑھ سمجھ دار لوگوں کو جمہوری فیصلے نہ کرنے دیے جائیں اور اس کا انجام ہم پچھلے 30 سالوں کے سیاسی عدم استحکام کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔

موجودہ سیاسی عدم استحکام کو اب صرف منصفانہ اور شفاف تازہ مینڈیٹ سے ہی ختم کیا جاسکتا ہے۔ سینیٹ کے ووٹ نے 2018 کے الیکشن کو بھی مشکوک کر دیا ہے اور اس کا واحد حل ووٹرز سے دوبارہ رجوع کرنا ہے۔

اگر ایسا نہ کیا گیا تو ملک ایک بہت بڑے سیاسی بحران کی طرف بڑھے گا۔ شاید یہ بحران اس قدر شدید ہو کہ موجودہ سیاسی قوتیں اسے شاید ہی سنبھال سکیں اور ہمیں ایک غیر جمہوری دور کا سامنا کرنا پڑے۔

اس لیے اب ضروری ہے کہ حکومت سمیت ساری سیاسی قوتیں مل بیٹھ کر اس بحران سے نکلنے کے لیے واضح حکمت عملی ترتیب دیں۔ کچھ سیاسی قوتوں کو سیاسی میدان سے مصنوعی طور پر باہر رکھنے سے ملک کو اساسی نقصان پہنچے گا جو کسی بھی شریک اقتدار کے لیے سودمند نہیں ہوگا۔

خصوصی طور پر ان مشکل حالات میں جب ہماری سرحدوں پر حالات کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں، اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ملک میں سیاسی ہم آہنگی اور استحکام ہو۔ ایک سیاسی طور پر کمزور حکومت بیرونی خطرات کا کبھی بھی موثر مقابلہ نہیں کر سکتی۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر