لندن: الطاف حسین ایک کروڑ پاؤنڈز مالیت کی جائیدادوں کی ملکیت سے محروم

ایم کیو ایم پاکستان نے بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کے خلاف شمالی لندن میں سات جائیدادوں کی ملکیت کے حوالے سے کیس جیت لیا ہے۔

ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین 31 جنوری 2022 کو لندن کی کنگسٹن کراؤن کورٹ میں پیشی کے موقعے پر (اے ایف پی)

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے پیر کو ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کے خلاف ایک کروڑ پاؤنڈ مالیت کی سات جائیدادوں کی ملکیت سے متعلق کیس جیت لیا۔

انگلینڈ اینڈ ویلز کی ہائی کورٹ آف جسٹس بزنس اینڈ پراپرٹی کورٹ میں انسولوینسی اینڈ کمپنیز کے جج کلائیو جونز کی جانب سے جاری کیے گئے فیصلے میں قرار دیا گیا کہ ایم کیو ایم پاکستان ہی حقیقی ایم کیو ایم ہے اور اس کے اراکین کی نمائندہ ہے۔

وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی امین الحق نے اس کیس میں ایم کیو ایم پاکستان کی نمائندگی کی۔

جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ ثابت نہیں ہوا کہ 2015 کا ایم کیو ایم کا آئین، ایم کیو ایم پاکستان نے اپنایا تھا۔ مزید کہا گیا کہ یہ اپریل 2016 کا آئین تھا جسے ایم کیو ایم پاکستان نے اپنایا تھا۔

مقدمہ کب شروع ہوا؟

اس مقدمے کی سماعت گذشتہ سال نومبر کے آخر میں شروع ہوئی تھی، جہاں ایم کیو ایم لندن کے بانی الطاف حسین کو اپنی پارٹی کے سابق وفاداروں کے آمنے سامنے دیکھا گیا، جو اب ایم کیو ایم پاکستان کا حصہ ہیں اور جنہوں نے شمالی لندن میں ایک کروڑ پاؤنڈ مالیت کی سات جائیدادوں کی ملکیت کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس مقدمے کی سماعت جنوری کے آخر میں اختتام پذیر ہوئی تھی۔

اگست 2016 میں الطاف حسین کی ایک متنازع تقریر کے بعد کراچی میں تشدد کا آغاز ہوا تھا اور ایم کیو ایم دو دھڑوں ایم کیو ایم لندن اور ایم کیو ایم پاکستان میں تقسیم ہو گئی تھی۔ کراچی کے سابق میئر مصطفیٰ کمال کی قیادت میں ایک گروپ پہلے ہی مارچ 2016 میں پاک سرزمین پارٹی بنا کر الگ ہوگیا تھا۔

اس کے بعد ایم کیو ایم پاکستان نے ایک نیا آئین بنایا، جس کے تحت الطاف حسین سے علیحدگی اختیار کرلی گئی اور اسی دعوے کو ایم کیو ایم پاکستان نے لندن کی جائیدادوں کی ملکیت حاصل کرنے کی بنیاد بنایا۔

ایم کیو ایم پاکستان فیصلے پر خوش

اس فیصلے کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں نے کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا۔

پارٹی کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے اس موقعے پر کہا کہ لندن کی جائیداد کا ایک حصہ ایم کیو ایم کے مقتول رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے اہل خانہ کو دیا جائے گا۔

مایوس کن فیصلہ: ایم کیو ایم لندن

دوسری جانب ایم کیو ایم لندن نے عدالتی فیصلے کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف اپیل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

فیصلے کے بعد لندن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ایم کیو ایم لندن کے وکیل نے کہا کہ ’اس (فیصلے) کے خلاف ہم لوگ اپیل کرنا چاہتے ہیں اور اس کی تیاری میں شام ہونے والے ہیں۔ ہم اس فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں۔ ایسی امید نہیں تھی کہ یہ فیصلہ آئے گا لیکن اب چارہ صرف اپیل کا ہے اور اس کے لیے ہم تیاری کر رہے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا