گھوٹکی: کیا پولیس کی احترام رمضان قانون کے تحت کارروائی جائز ہے؟

سندھ کے ضلع گھوٹکی میں ایک پولیس افسر نے احترام رمضان آرڈیننس کی خلاف ورزی پر خورد و نوش کی اشیا ضائع کیں اور دکان داروں پر تشدد بھی کیا، تاہم ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد معذرت کر لی۔

گوٹھکی کے پولیس افسر نے کئی شیر فروشوں کا دودھ ضائع کیا (ارشاد احمد سومرو فیس بک پیج)

سندھ کے ضلع گھوٹکی میں پولیس افسر کی احترام رمضان آرڈیننس کی خلاف ورزی کرنے والے دکان داروں کا دودھ ضائع کرنے اور ہندو دکان دار کو مبینہ طور پر سر پر مورتی رکھا کر حلف اٹھوانے کی ویڈیوز پر سوشل میڈیا میں شدید تنقید ہو رہی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سایٹس ٹوئٹر اور فیس بک پر وائرل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں خان پور مہر تھانے کے ایس ایچ او کو ایک دکان میں بریانی بیچنے والے شخص کو باہر نکالتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

دوسری ویڈیو میں پولیس افسر بڑے برتن میں رکھے دودھ کو زمین پر گرا کر ضائع کرتے ہیں، کھانے پینے کی اشیا فروخت کرنے والوں کو پہلے گرفتار کر کے پولیس وین میں بٹھاتے ہیں اور بعد میں ان سے حلف لیا جاتا ہے۔

ایس ایچ او نے سوشل میڈیا پر تنقید کے بعد ایک ویڈیو بیان میں معذرت تو کی ہے مگر ساتھ میں یہ بھی کہا ہے کہ وہ رمضان کے دوران وہ کسی کو کھانے پینے کی اشیا فروخت کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ 

تاہم ماہرِ قانون شوکت حیات کا کہنا ہے کہ پولیس کا یہ اقدام غیرقانونی ہے اور اس پر ان کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔

ایک اور وائرل ایک ویڈیو میں ایک ہندو دکان دار کو مورتی سر پر رکھ کر حلف لیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔  

سوشل میڈیا صارفین نے اس واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مذکورہ ایس ایچ او کو تنقید کا نشانہ بنایا۔   

مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی کھیئل داس کوہستانی نے چھ سیکنڈز کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’مہاپرشوں اور سنتوں کی مورتی سناتن ھندو دھرم والوں کے لیے مقدس ہوتی ہے۔ سندھ  صوفیوں اور اولیاؤں کی دھرتی ہے جب کہ اسلام میں مذاہب کے احترام کا پیغام واضح ہے، یہ خانپور مہر کا تھانیدار بریانی کے دکان دار کی تذلیل اور ان کے مرشد سنت کی کھلم کھلا تضحیک اور توہین کر رہا ہے۔‘  

ساگر مکیش نامی صارف نے فیس بک پوسٹ پر لکھا: ’‏خانپور مہر گھوٹکی میں اس پولیس اہلکار نے پہلی رمضان کو ہوٹل کھلا رکھنے پر ایک غریب ہوٹل مزدور کا سارا دودھ بہا کر ضائع کر دیا اور دین کی توقیر بچا لی اور ڈھیر سارا ثواب کما لیا۔‘

کراچی کے صحافی خاور حسین نے فیس بک میں لکھا: ’سندھ کی پانچ ہزار سال کی تاریخ اپنی سیکیولر روایتوں، غیر معمولی برداشت، فطرت کی رنگینی، ثقافتی تنوع اور کثیرالجہتی فطری رنگوں کی عکاس ہے۔ یہ سندھ کا کون سا افسر ہے جو اپنی ہی تہذیب، تمدن اور تاریخ ہی سے نابلد ہے؟‘  

ارشاد احمد سومرو نامی صارف نے فیس بک پوسٹ میں لکھا کہ ایس ایچ او کسی غریب کا کاروبار تو بند کرا سکتے ہیں، مگر ان کو دودھ گرانے کے کس نے اجازت دی؟

انہوں نے اس عمل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایچ او فوری طور پر معافی مانگیں اور غریب کے نقصان کا معاوضہ ادا کریں۔  

ایس ایچ او کی معذرت

سوشل میڈیا پر واقعے کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد مذکورہ ایس ایچ او کی جانب سے ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے معافی مانگی گئی۔

ایک منٹ 43 سیکنڈ کی اس ویڈیو میں انہوں نے کہا کہ اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو وہ معافی مانگتے ہیں مگر رمضان کے دوران وہ کسی کو کھانے پینے کی اشیا فروخت کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔  

انڈپینڈنٹ اردو سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے قابل بھیو نے کہا: ’احترام رمضان آرڈیننس کا قانون رمضان شریف کے مہینے کے دوران صبح چھ بچے سے شام چھ بجے تک عوامی مقامات پر کھانے پینے کی اشیا کی فروخت کی ممانعت کرتا ہے۔ ہمارے شہر میں کچھ دکاندار رمضان شریف کے دوران کھانے پینے کی اشیا فروخت کر رہے تھے۔

’ایک دکاندار بند شٹر کے پیچھے بریانی کے پارسل بیچ رہا تھا۔ میں نے صرف ہندو دکان داروں کو ہی منع نہیں کیا بلکہ گذشتہ روز کئی مسلمانوں کے خلاف بھی کارروائی کی۔

‘میرے لیے سب مذاہب کے لوگ محترم ہیں۔ اس کے باجود اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں معافی مانگتا ہوں۔ مگر میں قانون پر عمل کروں گا اور کسی کو یہ اجازت نہیں کہ رمضان کے دوران کھانے پینے کی اشیا فروخت کرے۔ میں ایسا نہیں کرنے دوں گا۔

’اگر کوئی پولیس میں میرے نام سے لوگوں سے پیسے لے رہا ہو تو مجھے بتائیں، میں کارروائی کروں گا۔ مگر کھانے پینے کی اشیا بیچنے کی اجازت نہیں دوں گا۔‘

احترام رمضان آرڈیننس

احترام رمضان آرڈیننس سابق فوجی آمر ضیاالحق کے دور حکومت کے دوران 25 جون 1981 کو نافذ کیا گیا تھا۔

اس قانون کا پورا نام ’احترام رمضان آرڈیننس 1981‘ ہے، جس کی خلاف وزری پر کئی لوگوں کو سزائیں ہو چکی ہیں، جبکہ بعد میں اس قانون میں کئی ترامیم کر کے سزا کی مدت اور جرمانے کو کئی گنا بڑھا دیا گیا۔

مذکورہ قانون کے خلاف اعلیٰ عدلیہ میں کئی درخواستیں بھی دائر کی گئی ہیں۔  

کراچی کے معروف قانون دان اور وکیل بیرسٹر صلاح الدین احمد نے کہا کہ احترام رمضان آرڈیننس رمضان کے مہینے کے دوران دن کے وقت روزے کے اوقات میں عوامی مقامات پر کھانے پینے اور کھانے پینے کی اشیا کی فروخت کی ممانعت کا قانون ہے، جس میں سزا کے علاوہ جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کیا ایس ایچ او کو کارروائی کا اختیار ہے؟

احترام رمضان آرڈیننس کی شق سات کے مطابق مجسٹریٹ یا اسسٹنٹ کمشنر کے پاس جب یہ ماننے کی وجہ ہو کہ کسی جگہ پر اس آرڈیننس کی خلاف ورزی ہو رہی ہے تو وہ اس جگہ پر داخل ہو کر اس شخص کو گرفتار کر سکتے ہیں۔

کراچی کے معروف قانون دان، وکیل اور کرمنل لا کے ماہر وکیل شوکت حیات نے واقعے کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’احترام رمضان آرڈیننس کی خلاف ورزی پولیس سے دائرہ کارسے باہر کارروائی ہے۔‘

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت حیات نے کہا کہ احترام رمضان آرڈیننس میں واضح طور پر تشریح کی گئی ہے کہ شٹر بند دکان مین کھانے پینے کی اشیا چلانے سے احترام رمضان آرڈیننس کی خلاف ورزی پر صرف میجسٹریٹ یا سسٹنٹ کمشنر ہی کر سکتا ہے۔ پولیس کا اشیا ضبط کرنا یا ضائع کرنا اور کسی فرد کو اسی بنیاد پر زد و کوب کرنا غیر قانونی ہے۔‘

شوکت حیات کے مطابق ’متاثر فرد بغیر کسی تاخیر کے جوڈیشل میجسٹریٹ کے پاس مذکورہ ایس ایچ او کے خلاف پٹیشن دائر کرکے شکایت درج کروائیں اور ایس ایچ او کی طعبی تشخیص کرانا ضروری ہے کہ وہ کہیں نشے میں نہیں تھا یا ان کی دماغی حالت درست نہیں۔ اس کے بعد ایف آئی آر درج کر کے ایس ایچ او کو گرفتار کرکے کیس چلایا جائے۔‘

عوامی مقام کیا ہے؟

پنجاب حکومت کی آفیشل ویب سائٹ پر موجود اس قانون کی پی ڈی ایف فائل کے مطابق احترام رمضان آرڈیننس 1981 کی کُل دس دفعات ہیں، جن میں ’عوامی مقامات‘ کی بھی تشریح کی گئی ہے۔

احترام رمضان آرڈیننس کی دفعہ دو میں کہا گیا ہے کہ ہوٹل، ریستوران، کینٹین، گھر کا کمرہ، خیمہ، احاطہ، سڑک، پُل یا کوئی بھی ایسی جگہ جہاں عام آدمی کی باآسانی ہو، عوامی مقام ہے۔ 

آرڈینس کی دفعہ تین کے مطابق کوئی بھی فرد جس پر اسلامی قوانین کے تحت روزہ رکھنا لازم ہے، اگر اسے روزے کے اوقات کے دوران عوامی مقام پر کھاتے پیتے یا تمباکو نوشی کرتے پکڑا جائے تو تین ماہ کی قید یا پانچ سو روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ 

آرڈینس کی دفعہ چار کے تحت روزے کے وقت کے دوران کسی ریستوران، کینٹین یا ہوٹل کے مالک، ملازم، مینیجر یا کسی اور فرد نے عوامی مقام پر کسی ایسے فرد کو کھانے کی پیشکش کی یا کھانا پیش کیا جس پر اسلامی قانون کے تحت روزہ رکھنا لازم ہو تو ایسی صورت میں تین مہینے قید یا پانچ سو روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔  

البتہ احترام رمضان آرڈیننس قانون کی دفعہ پانچ میں وضاحت کہ گئی ہے کہ ایسا باورچی خانہ یا کینٹین جہاں ہسپتال میں داخل مریضوں کے لیے کھانا دیا جا رہا ہو پر پابندی نہیں ہو گی۔  

اس کے علاوہ ریلوے سٹیشن، ایئرپورٹ، بندرگاہ، ریل گاڑی کے ڈائننگ کار یا باورچی خانے، جہاز یا بس سٹینڈ پر پابندی نہیں ہے اور پرائمری سکول کے احاطے میں موجود کچن پر بھی اس قانون کے تحت پابندی نہیں عائد نہیں ہوتی۔  

اس کے علاوہ اس قانون کے تحت رمضان کے دوران سنییما ہال، تھیئٹر یا اس قسم کے دیگر مقامات مخصوص اوقات میں بند رہیں گے۔ 

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان