یمنی حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان 900 قیدیوں کا تبادلہ

یمن کی خانہ جنگی کے سینکڑوں قیدیوں کے تبادلے کا تین روزہ آپریشن جمعے کو شروع ہو گیا۔

یمن کی خانہ جنگی کے سینکڑوں قیدیوں کے تبادلے کا تین روزہ آپریشن جمعے کو شروع ہو گیا، جس میں حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان تقریباً 900 قیدیوں کا تبادلہ ہو گا۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سعودی وفد کے جنگ بندی کے کسی نئے معاہدے کے بغیر لیکن مذاکرات جاری رکھنے کے وعدے کے ساتھ روانگی کے چند گھنٹوں بعد قیدیوں کو لے کر پہلا طیارہ باغیوں کے زیر انتظام دارالحکومت صنعا سے حکومت کے زیر انتظام علاقے عدن کے لیے فضا میں بلند ہوا۔

آپریشن میں 887 قیدیوں کو رہا کیا جائے گا اور پہلے دن (جمعے) کو صنعا اور عدن کے درمیان ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے طیاروں میں 322 قیدیوں کو لے جایا گیا۔

آئی سی آر سی کی میڈیا ایڈوائزر جیسیکا موسان نے تین روزہ آپریشن کے آغاز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’صنعا سے پہلی پرواز روانہ ہو چکی ہے۔‘

حکام کا کہنا ہے کہ یمن کے سابق وزیر دفاع میجر جنرل محمود الصبیحی اور سابق صدر میجر جنرل ناصر منصور ہادی کے بھائی بھی حوثی باغیوں کی جانب سے جمعے کو رہا کیے جانے والے قیدیوں میں شامل ہیں۔

2020 کے بعد سے قیدیوں کا یہ سب سے بڑا تبادلہ اس وقت ہو رہا ہے، جب سعودی عرب کے ایک وفد نے جنگ بندی کی خاطر اس ہفتے ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے ساتھ مذاکرات کیے۔

حوثی اور یمنی حکومتی ذرائع کے مطابق سعودی سفیر محمد الجبار کی سربراہی میں سعودی وفد جمعرات کی رات جنگ بندی کے کسی حتمی معاہدے کے بغیر تاہم دوبارہ ملاقات کے معاہدے کے ساتھ صنعا سے روانہ ہوا۔

ایک حوثی عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا: ’جنگ بندی پر ابتدائی معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کا اعلان حتمی شکل دیے جانے کے بعد ہو گا۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’اختلافات کے مزید حل کے لیے مذاکرات کا ایک اور دور منعقد کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔‘

اقوام متحدہ کے مطابق دنیا کے بدترین انسانی بحران کو جنم دینے والی اس جنگ میں بلاواسطہ اور بالواسطہ وجوہات کی بنا پر لاکھوں اموات ہو چکی ہیں۔

تاہم اقوام متحدہ کی ثالثی میں چھ ماہ پر محیط جنگ بندی جو اکتوبر میں باضابطہ طور پر ختم ہو گئی تھی، اب بھی بڑی حد تک برقرار ہے کیونکہ نئے سرے سے جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

قیدیوں کے تبادلے کے دوران حوثی، سعودی اور سوڈانی سمیت 181 قیدیوں کو رہا کریں گے جبکہ حکومتی فورسز کی جانب سے 706 قیدیوں کو آزاد کیا جائے گا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے کہا کہ یمن تنازع میں دونوں فریقوں کی جانب سے تقریبا 900 قیدیوں کی رہائی اور تبادلے کا آغاز جمعے کو ہوا۔

روئٹرز کے ایک عینی شاہد اور حوثیوں کے زیر انتظام المسیرہ ٹی وی کے مطابق قیدیوں کے تبادلے کی پہلی دو پروازیں جمعے کی سہ پہر حکومت کے زیر انتظام شہر عدن اور حوثیوں کے زیر انتظام دارالحکومت صنعا میں اتریں جن میں بالترتیب 35 اور 125 افراد سوار تھے۔

اس عمل کی منتظم آئی سی آر سی نے کہا کہ یہ طیارے آنے والے دنوں میں رہائی پانے والے قیدیوں کو یمن اور سعودی عرب کے چھ شہروں تک لے جانے کے لیے استعمال ہوں گے۔

اقوام متحدہ کے یمن کے ایلچی ہنس گرینڈ برگ نے کہا: ’رہائی کی یہ کارروائی یمن کے لیے امید کے ایک ایسے وقت میں یاد دہانی کے طور پر ہوئی ہے کہ تعمیری مذاکرات اور باہمی سمجھوتے بڑے نتائج حاصل کرنے کے طاقتور ہتھیار ہیں۔‘

دونوں فریقوں نے گذشتہ ماہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں 887 قیدیوں کو رہا کرنے اور مزید رہائی پر تبادلہ خیال کے لیے مئی میں دوبارہ ملاقات کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

آئی سی آر سی کے ریجنل ڈائریکٹر فیبریزیو کاربونی نے کہا، ’ہماری بڑی خواہش ہے کہ ان رہائیوں کی وجہ سے وسیع تر سیاسی حل میں تیزی آئے۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا