انتخابات سے انکار نہیں، لیکن معیشت کی بحالی زیادہ اہم: زرداری

آصف علی زرداری نے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہ ’میں انتخابات سے انکاری نہیں، صرف تاریخ کا مسئلہ ہے۔ ابھی بہت جلدی ہے، حالات ٹھیک نہیں۔‘

آصف علی زرداری کے مطابق انتخابات کا التوا ملک میں معاشی ایمرجنسی کے ذریعے ممکن نہیں (اے ایف پی)

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرپرسن اور سابق صدر آصف علی زرداری نے جمعے کو ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ وہ انتخابات سے کبھی انکار نہیں کر سکتے ہیں، لیکن سیاسی جماعتوں کو اکٹھے بیٹھ پر اس پر غور کرنا ہو گا۔

جیو نیوز کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ملک کی معاشی صورت حال بہت خراب ہے اور اس وقت تمام جماعتوں کے نزدیک معیشت کی بحالی سب سے بڑا اور اہم ہدف ہونا چاہیے۔

’میں انتخابات سے انکاری نہیں، صرف تاریخ کا مسئلہ ہے۔ ابھی بہت جلدی ہے، حالات ٹھیک نہیں۔ آئی ایم ایف اور دوست ممالک سے پیسے ملنا ہیں، ان سے صورت حال کو بہتر بنانا ہے۔‘

صدر مملکت عارف علوی کی جانب سے اس سال اکتوبر میں بھی عام انتخابات نہ ہو سکنے کے خدشے سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ایسا ممکن نہیں کہ انتخابات نہ ہو، کوئی بھی سیاسی جماعت ایسا کیسے سوچ سکتی ہے؟

جب ان سے دریافت کیا گیا کہ کیا معاشی ایمرجنسی لگا کر انتخابات ملتوی کیے جا سکتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ ایسا بھی ممکن نہیں ہو سکے گا۔ 

’جتنا جلدی ہو سکے ساری سیاسی جماعتیں بیٹھ کر اتفاق کریں۔ ایک دن الیکشن ہوں اور سب کو لیول پلیئنگ فیلڈ ملے۔‘

انہوں نے دعویٰ کہا کہ وہ ان کے سیاسی مخالفوں کے بھیانک ارادوں سے واقف ہیں اور اسی لیے وہ معیشت کی بہتری سے قبل انتخابات کے حق میں نہیں۔

زرداری نے بغیر کسی کا نام لیے کہا کہ ان کے مخالفین کے اثرات اور اثر رسوخ اب بھی موجود ہیں اور وہ افغانوں اور بلوچوں کو گمراہ کر کے اپنے مقاصد کے لیے ’استعمال‘ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

’ان کی منصوبہ بندی 2035 تک اقتدار میں رہنا تھا اور اس کے لیے پوری تیاری کر رکھی تھی۔

’صرف ایک عمران خان کو نکالا ہے، دوسرے حواری ابھی نہیں نکلے ہیں، وہ موجود ہیں۔ ہم بے وقوف نہیں۔ ہمیں علم تھا کہ مہنگائی ہے اور یہ غیر پاپولر حکومت ہو گی۔‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو احتجاج کرنا چاہیے لیکن اس دوران ہاتھ میں بندوق نہیں اٹھانا چاہیے۔

ایک اور سوال کے جواب میں سابق صدر کا کہنا تھا کہ ان کے اور عمران خان کے ڈومیسائل میں فرق ہونے کی وجہ سے مقدمات کے نتائج میں فرق ہے۔

’میں نے کئی سال جیلوں میں گزارے۔ کئی کئی مہینے تھانوں میں زمین پر سویا۔ انہوں نے ایک رات بھی تھانے میں گزاری؟ یہی فرق ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں کسی سندھی کے وزیراعظم بننے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان مشہور نہیں ہیں بلکہ بچوں کو تنخواہیں دے کر گمراہ کر رہے ہیں۔

’اور دوسرا غربت ہے۔ لوگوں کے چولہے نہیں جلیں گے تو کیا مجھے دعائیں دیں گےے۔ اور پنجاب سے ایک سیاسی جماعت احتجاج کر رہی ہے تو وہ اس میں حصہ لیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد داخل ہونے کے بعد ایک ملاقات میں سابق آرمی چیف جنرل باجوہ نے ملک میں مارشل لا لگانے سے متعلق بات کی تو انہوں (آصف زرداری) اور خالد مگسی نے انہیں ترکی بہ ترکی جواب دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جمہوریت کو کسی قسم کا نقصان پہنچنے کی صورت وہ جمہوریت پسندوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ ’جمہوریت ہی میں پاکستان پیپلزپارٹی کی بقا ہے۔‘

آئندہ انتخابات میں سیاسی اتحاد سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ابھی کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہے کیونکہ ابھی اس متعلق کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

وزیراعظم شہباز شریف سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’میں یہ ماننے کے لیے تیار ہوں کہ شہبازشریف کو وزیراعظم میں نے بنوایا، کیوں کہ ان کے نمبر زیادہ تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کو وزیراعظم بنوانے کے لیے انہیں (آصف زرداری کو) کسی نے حمایت لے کر نہیں دی۔

’یہ سب لوگ مجھے ذاتی طور پر جانتے ہیں۔ عمران خان تو اپنے اراکین پارلیمان کو چھ، چھ مہینے نہیں ملتے تھے۔

’میں منانے کے لیے دوستوں، بھائیوں کے پیروں پر بھی ہاتھ رکھتا ہوں۔ ہم عوامی لوگ ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست