شیخوپورہ میں سرکس سے مفرور شیر پکڑے گئے: پولیس

شیخوپورہ پولیس کے مطابق گذشتہ رات چلنے والی تیز آندھی سے سرکس کے شیروں کا پنجرہ الٹ کر کھل گیا اور شیر پنجرے سے نکل کر بھاگ کھڑے ہوئے۔

شیخوپورہ میں لکی ایرانی سرکس سے بدھ کی شب فرار ہونے والے شیر سرکس کے عملے اور ریسکیو سروس نے پکڑ لیے۔ شیروں کی تعداد کے حوالے سے متضاد اطلاعات ہیں۔

شیخوپورہ پولیس کے مطابق گذشتہ رات چلنے والی تیز آندھی سے سرکس کے شیروں کا پنجرہ الٹ کر کھل گیا اور چار شیر پنجرے سے نکل کر بھاگ کھڑے ہوئے۔

پولیس کی جانب سے دی جانے والی معلومات کے مطابق چار شیر موقعے سے فرار ہوئے، جن میں سے تین کو سرکس ملازمین نے گھیرا ڈال کر پکڑا جبکہ ایک شیر ہائی وے کالونی کے گھر میں گھس گیا تھا۔

پولیس کے مطابق اس ایک شیر کو پکڑنے کے لیے ڈی ایس پی سمیت پولیس کی بھاری نفری اور ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچے اور دو گھنٹے کی مسلسل جدوجہد کے بعد وہاں سے شیر کو جال کے ذریعے پکڑا گیا۔

تاہم شیخوپورہ کے صحافی محمد شاہد خان، جو اس واقعے کی کوریج بھی کر رہے تھے، نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ موقعے پر موجود عینی شاہدین اور سرکس کے ملازمین نے انہیں بتایا کہ سرکس کے لیے لائے گئے اور پنجرہ کھلنے سے بھاگ جانے والے شیروں کی تعداد چار نہیں چھ تھی۔

عینی شاہدین کے مطابق سرکس اور ضلعی انتظامیہ نے یہ تعداد کم بتائی کیوں کہ دونوں غلطی پر تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شاہد خان کے مطابق علاقے میں دفعہ 144 کے باوجود لکی ایرانی سرکس اور ضلعی انتظامیہ نے اسے نظر انداز کرتے ہوئے علاقے میں سرکس لگانے کی اجازت دی۔

انڈپینڈنٹ اردو نے اس حوالے سے شیخوپورہ کے ڈپٹی کمشنر سرمد تیمور سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی لیکن ان کی جانب سے خبر چھپنے تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

شاہد کے مطابق پانچ شیروں کو تو اسی وقت سرکس انتظامیہ اور ریسکیو سروس کی ٹیموں نے گھیرا ڈال کر بے ہوش کر کے پکڑ لیا تھا جبکہ ایک شیر بھاگنے میں کامیاب ہو گیا تھا جسے بعد میں ہائی وے کالونی سے پکڑا گیا۔

پانچ شیر سرکس کی جگہ کے قریب ایک بیسمنٹ میں چلے گئے تھے، جہاں سے انہیں پکڑا گیا تھا۔

ہائی وے کالونی سے پکڑے جانے والے شیر نے اپنے ٹرینر پر حملہ کر کے اسے زخمی بھی کیا تھا۔

شاہد خان نے بتایا کہ شیروں کا یوں نکلنا کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا تھا لیکن  تیز ہوا اور آندھی کے سبب بچت ہو گئی کیوں کہ سڑکوں پر لوگوں کی پیدل آمدورفت نہیں تھی۔

مقامی صحافی کے مطابق شیروں کا پنجرہ کھلنے کے بعد شیخوپورہ پولیس اور ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی کی اور موقعے پر پہنچ کر شیروں کو پکڑنے میں بھرپور مدد فراہم کی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان