ناکام سیٹلائٹ: شمالی کورین حکمران جماعت کی ذمہ داران پر تنقید

شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے کے مطابق ایک اہم اجلاس میں حکمران جماعت نے مصنوعی سیارہ خلا میں بھیجنے کی تیاریوں کو ’غیر ذمہ دارانہ طریقے سے انجام دینے والے عہدیداروں‘ پر تنقید کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔

شمالی کوریا کی سرکاری کورین سینٹرل نیوز ایجنسی کی جانب سے 19 جون 2023 کو جاری کی گئی اس تصویر میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان (درمیان) کو پیانگ یانگ میں حکمران جماعت ورکرز پارٹی آف کوریا کی مرکزی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے (تصویر: کے سی این بذریعہ کے این ایس/ اے ایف پی)

شمالی کوریا کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے پیر کو رپورٹ کیا ہے کہ ملک کی حکمران جماعت نے اپنے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں حال ہی میں فوجی جاسوس سیٹلائٹ خلا میں بھیجنے میں ناکامی کے ذمہ دار حکام کو ’سخت‘ تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شمالی کوریا نے 31 مئی کو اپنا پہلا فوجی جاسوس سیٹلائٹ مدار میں بھیجنے کی کوشش کی تھی، لیکن راکٹ اور اس پر موجود مصنوعی سیارہ چھوڑنے جانے کے تھوڑی دیر بعد سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا۔ پیانگ یانگ نے اس واقعے کو راکٹ کی ناکامی قرار دیا تھا۔

شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے کا کہنا ہے کہ ورکرز پارٹی آف کوریا کی مرکزی کمیٹی کے اجلاس کی رپورٹ میں حکمران جماعت نے ’ان عہدیداروں پر شدید تنقید کی جنہوں نے مصنوعی سیارہ خلا میں بھیجنے کی تیاریوں کو غیر ذمہ دارانہ طریقے سے انجام دیا،‘ ساتھ ہی پارٹی نے ’سنگین‘ ناکامی کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔

کمیٹی نے جلد ہی اپنے جاسوس سیٹلائٹ کو کامیابی سے لانچ کرنے کے عہد کا اعادہ کیا۔ پیانگ یانگ پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اسے خطے میں بڑھتی ہوئی امریکی فوجی موجودگی کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان نے 31 مئی کو شمالی کوریا کی طرف سے مصنوعی سیارہ خلا میں بھیجنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ شمالی کوریا نے اقوام متحدہ کی ان قراردادوں کی خلاف ورزی کی ہے جن میں جوہری ہتھیار رکھنے والے ملک کو بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے کسی بھی قسم کے تجربے سے روکا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بین البراعظمی بیلسٹک میزائل  بنانے کی ٹیکنالوجی اور مصنوعی سیارہ خلا میں بھیجنے کی ٹیکنالوجی ایک جیسی ہیں۔

سیٹلائٹ لانچ کرنے کی کوشش سمیت شمالی کوریا نے اس سال پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے متعدد تجربات کیے، جن میں اس کے سب سے طاقتور بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ بھی شامل ہے۔

شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان تعلقات کم ترین سطح پر ہیں۔ سفارت کاری ٹھپ ہو چکی ہے اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں سمیت دیگر ہتھیاروں کی تیاری میں تیزی لانے پر زور دیا ہے۔

دوسری جانب جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں اس نے شمالی کوریا کے تباہ شدہ راکٹ کا ایک بڑا حصہ سمندر کی تہہ سے کامیابی سے نکال لیا ہے۔

جنوبی کوریا سمندر سے راکٹ کا ملبہ نکالنے کے لیے دو ہفتے سے زیادہ عرصے سے کام کر رہا تھا۔ یہ ملبہ سائنس دانوں کو پیانگ یانگ کے بیلسٹک میزائل اور سیٹلائٹ نگرانی کے پروگراموں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا