شمالی کوریا نے’نامعلوم‘ نوعیت کا بیلسٹک میزائل سمندر میں داغ دیا

جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے کہا کہ شمالی کوریا کی جانب سے داغے گئے میزائل نے جزیرہ نما کوریا اور جاپان کے درمیان پانیوں پر پرواز کی۔

جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق شمالی کوریا نے جمعرات کو جزیرہ نما کوریا اور جاپان کے درمیان سمندر کے اوپر ایک ’نامعلوم‘ بیلسٹک میزائل داغ دیا جس کے بعد جاپان نے ایک جزیرے کے رہائشیوں کومحفوظ مقامات تک منتقل ہونے کے لیے خبردار کیا تاہم حکام کو بعد میں اس نوٹس کو واپس لینا پڑا۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے کہا کہ شمالی کوریا کی جانب سے داغے گئے میزائل نے جزیرہ نما کوریا اور جاپان کے درمیان پانیوں پر پرواز کی۔

تاہم سیئول نے اس میزائل کے حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں جیسے کہ پیانگ یانگ کے اس میزائل نے کتنی دور تک فاصلہ طے کیا اور یہ کہ یہ کس قسم کے ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

جاپان نے کہا کہ میزائل اس کے پانیوں کے قریب گرا تاہم ٹوکیو نے بھی اس کی فوری وضاحت نہیں کی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سیئول کی ملٹری کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا نے ’نامعلوم بیلسٹک میزائل مشرقی سمندر میں داغا ہے۔‘

اے پی کے مطابق میزائل داغے جانے کے بعد جاپان کے شمالی جزیرے ہوکائیڈو میں پناہ لینے کے لیے الرٹ جاری کیے گئے۔ تاہم بعد میں حکومت نے مقامی حکومتوں کو جاری الرٹ اور ہنگامی نوٹس یہ کہتے ہوئے واپس لے لیا کہ ہوکائیڈو میں میزائل کے گرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

یہ تجربہ شمالی کے رہنما کم جونگ اُن کی جانب سے اپنے جوہری ہتھیاروں کو مزید ’عملی اور جارحانہ‘ طریقوں سے بڑھانے کے عزم کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔

رواں سال شمالی کوریا نے جنوبی کوریا اور امریکی کی مشترکہ فوجی مشقوں کے جواب میں تقریباً 30 میزائل داغے ہیں۔

جنوبی کوریا اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی مشقیں دفاعی نوعیت کی ہیں اور جن کو شمالی کوریا کے بڑھتے ہوئے جوہری اور میزائل خطرات کا جواب دینے کے لیے عمل میں لایا گیا۔

اے ایف پی کے مطابق اس لانچنگ سے قبل پیر کو شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے سینٹرل ملٹری کمیشن کے اجلاس میں شرکت کی تھی۔

پیانگ یانگ کی کورین سنٹرل نیوز ایجنسی نے بتایا کہ کم جونگ اُن نے اس اجلاس میں حکم دیا تھا کہ ملک کی ڈیٹرنس صلاحیتوں کو ’تیز رفتار‘ کے ساتھ مضبوط کیا جائے۔

شمالی کوریا نے گذشتہ سال خود کو ایک ’ناقابل واپسی‘ جوہری طاقت قرار دیا تھا جس سے خطے کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے مذاکرات کے امکان تقریباً ختم ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اے پی کے مطابق اس کے جواب میں جنوبی کوریا نے شمالی کوریا پر الزام لگایا کہ وہ تقریباً ایک ہفتے سے ہاٹ لائنز پر کالوں کا جواب نہیں دے رہا ہے۔ شمالی کی جانب سے مواصلاتی چینلز پر پیغامات کے تبادلے کی مبینہ معطلی تشویشناک ہو سکتی ہے کیونکہ ہاٹ لائنز کا ایک کردار حریفوں کی متنازعہ مغربی سمندری حدود کے ساتھ حادثاتی جھڑپوں کو روکنا ہے۔

اے ایف پی نے رپورٹ کیا کہ رواں سال کے شروع میں کم نے فوج کو حکم دیا تھا کہ وہ ’حقیقی جنگ‘ کی تیاری کے لیے مشقیں تیز کرے۔

اس کے جواب میں، واشنگٹن اور سیئول نے دفاعی تعاون کو بڑھا دیا ہے جس میں جدید سٹیلتھ جیٹ طیاروں اور اعلیٰ امریکی سٹریٹجک ہتھیاروں کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کی جا رہی ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپان میں اگلے ماہ ہونے والے گروپ آف سیون کے اجلاس میں عالمی رہنماؤں سے شمالی کوریا پر سفارتی دباؤ برقرار رکھنے کے لیے ڈالے گا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس معاملے پر مستقل ارکان کے درمیان محاذ آرائی کے باعث اس مسئلے پر کچھ کرنے سے قاصر ہوگئی ہے۔ بیجنگ اور ماسکو نے گذشتہ سال شمالی کوریا کے کچھ بڑے میزائل تجربات پر سلامتی کونسل کی پابندیوں کو سخت کرنے کے لیے امریکی قیادت میں چلنے والی مہم کو ویٹو کر دیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا