شمالی کوریا کا جاسوس سیٹلائٹ ’سمندر میں گر کر تباہ‘، تصاویر جاری

شمالی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ سیٹلائٹ لانچ میں سامنے آنے والے سنگین نقائص کی مکمل چھان بین اور ان پر قابو پانے کے لیے فوری سائنسی اور تکنیکی اقدامات کریں گے اور جلد از جلد دوسری لانچنگ شروع کی جائے گی۔

شمالی کوریا نے کہا ہے کہ بدھ کو لانچ کیا جانے والا اس کا فوجی سیٹلائٹ پرواز کے دوران ’حادثہ‘ پیش آنے کے بعد سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیانگ یانگ کے پاس اس وقت خلا میں کوئی سیٹلائٹ نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ ملک کے سپریم لیڈر کم جونگ اُن نے اپنی حکومت کے لیے ایک فوجی جاسوس سیٹلائٹ تیار کرنے کو اولین ترجیح بنا رکھا تھا اور وہ ذاتی طور پر لانچ کی تیاریوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔

شمالی کوریا کی سرکاری کورین سینٹرل نیوز ایجنسی (کے سی این اے) کے مطابق ملک کے خلائی پروگرام سے منسلک حکام نے ’مالگیونگ-ون‘ نامی ایک فوجی جاسوسی مصنوعی سیارہ تیار کیا تھا، جسے ایک نئے قسم کے کیریئر راکٹ ’چولیما-ون‘ پر نصب کیا گیا تھا۔

کے سی این اے کے مطابق اس راکٹ کو شمالی فیونگان صوبے میں سوہائے سیٹلائٹ لانچنگ گراؤنڈ سے مقامی وقت کے مطابق بدھ (31 مئی) کی صبح چھ بجکر 27 منٹ پر لانچ کیا گیا، تاہم راکٹ ’نارمل‘ پرواز کے دوران پہلے مرحلے کے الگ ہونے کے بعد دوسرے مرحلے کے دوران انجن میں غیر معمولی نقص کے باعث سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا۔

پیانگ یانگ کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ سیٹلائٹ لانچ میں سامنے آنے والے سنگین نقائص کی مکمل چھان بین اور ان پر قابو پانے کے لیے فوری سائنسی اور تکنیکی اقدامات کریں گے اور جلد از جلد دوسری لانچنگ شروع کی جائے گی۔

دوسری جانب سیئول میں جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے کہا کہ جنوبی کوریا کی فوج نے سیٹلائٹ کی لانچنگ کا پتہ لگایا تھا، جو ریڈار سے جلد غائب ہو گیا اور غیر معمولی پرواز کی وجہ سے سمندر میں گر گیا۔

شمالی کوریا نے منگل کو اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اس نے 11 جون سے پہلے اپنے پہلے فوجی جاسوسی سیٹلائٹ کو لانچ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کے لیے جاپان کو نوٹس بھی دیا گیا تھا۔

تاہم جاپان نے شمالی کوریا کی جانب سے جاسوس سٹیلائٹ کی لانچنگ پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے سیٹلائٹ کی آڑ میں میزائل تجربہ قرار دیا تھا اور اپنے سیلف ڈیفنس کے محکمے کو تیار رہنے کا حکم دیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شمالی کوریا کے زمین کا مشاہدہ کرنے والے مصنوعی سیاروں کو مدار میں بھیجنے کے عمل کو ماضی میں میزائل تجربے کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔

ٹوکیو اور سیئول نے اس لانچنگ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی ہے، جس نے شمالی کوریا پر بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی کے کسی بھی تجربے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

ادھر جنوبی کوریا کی فوج نے بدھ کو شمالی کوریا کے جاسوس سیٹلائٹ کے ایک تباہ ہونے والے حصے کی تصاویر بھی جاری کیں جو راکٹ کی ناکامی کی وجہ سے لانچ کے فوراً بعد گر کر تباہ ہو گیا۔

اے ایف پی کے مطابق جنوبی کوریا کی فوج نے یہ ملبہ تلاش کر کے اسے سمندر سے نکال لیا تھا۔

سیئول کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر میں ایک بڑے بیرل نما دھات کا ڈھانچہ دکھایا گیا ہے جس کے نیچے کچھ پتلے پائپ اور تاریں بھی دکھائی دے رہی ہیں۔

جنوبی کوریا کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ملبے کو ایوچیونگ جزیرے کے مغرب میں 200 کلومیٹر دور سمندر سے اسے نکالا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا