ناروے سے لنڈی کوتل تک کا سفر کرنے والے پاکستانی کی کہانی

59 سالہ ضیا الدین کے مطابق وہ اس سفر میں ناروے سے یورپ، ترکی اور ایران سے ہوتے ہوئے پاکستان آئے، جو نہایت شاندار رہا اور اس دوران انہوں نے 16 ممالک کا سفر کیا۔

پاکستانی نژاد نارویجین شہری ضیا الدین شنواری نے ناروے کے شہر اوسلو سے اپنی ہیوی بائیک پر پاکستان تک کا سفر 22 دن میں مکمل کیا ہے۔

بنیادی طور پر لنڈی کوتل سے تعلق رکھنے والے ضیا نے بتایا کہ انہوں نے اپنے سفر کا آغاز دو مئی سے شروع کیا تھا۔

59 سالہ ضیا کے مطابق وہ اس سفر میں ناروے سے یورپ، ترکی اور ایران سے ہوتے ہوئے پاکستان آئے، جو نہایت شاندار رہا اور اس دوران انہوں نے 16 ممالک کا سفر کیا۔

انہوں نے بتایا کہ دوران سفر انہیں کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوا اور وہ امن کے پیغام کے ساتھ یہاں آئے ہیں۔

 

ضیا الدین نے کہا کہ وہ دنیا کو ایکسپلور کرنا چاہتے ہیں اور انہیں تاریخی اور سیاحتی مقامات دیکھنے کا بچپن سے شوق ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے بائیک کا انتخاب کیوں کیا تو انہوں نے بتایا کہ ’یہ ایک سستی اور آسان سواری ہے، لیکن اس کے لیے مناسب انتظامات کا ہونا لازمی ہے۔ اس کا خرچ کم ہے جبکہ یہ سیاحوں کے لیے بھی بہت مفید ہے۔‘

ضیا کے پاس بی ایم ڈبلیو جی سی اے ایڈونچر نامی بایئک ہے جس میں انہوں نے سنسر ٹریکر اور کیمرے نصب کیے ہیں، جو ان کے بقول انہوں نے ایک کروڑ روپے سے زائد میں خریدی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے سفر میں نو ہزار کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ طے کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی