مرد جنسی ہراسانی کی شکار عورت پر الزام کیوں لگاتے ہیں؟

اس موضوع پر ہونے والی تحقیق میں مرد طلبہ کو کہا گیا کہ وہ جنسی ہراسانی کی ایک واضح مثال بیان کریں لیکن  وہ ایسا نہ کر سکے۔ زیادہ تر مردوں نے ہراسانی کی شکار خواتین کے مقابلے میں ہراساں کرنے والے مردوں کے لیے زیادہ ہمدردی محسوس کی۔

یہ تحقیق دنیا بھر میں خواتین کے اپنے ساتھ ہونے والے جنسی ہراسانی کے واقعات اور ان کی زندگی پر مرتب کردہ اثرات بیان کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔(اے ایف پی)

 

تحقیق کے مطابق عام طور پہ مرد ہراسانی کا سامنا کرنے والی خواتین کو الزام دیتے ہیں اور ہراسانی کرنے والے مردوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ عورتیں اور مرد دونوں ہی جنسی ہراسانی کا شکار خاتون کے لیے ایک  جتنا احساس رکھتے ہیں لیکن مرد  اس معاملے کو زیادہ ترہراساں کرنے والے مردوں کے زاویے سے دیکھتے ہیں۔ ایسا حال ہی میں ہونے والی دو تحقیقی رپورٹس میں سامنے آیا ہے۔

تحقیق کرنے والوں میں ایکسٹر یونیورسٹی، باتھ اور کوئینز لینڈ سے تعلق رکھنے والے ماہرین شامل تھے ،ان کے مطابق یہ تحقیق اس احساس کی منفی سمت کو سامنے لائی ہے۔

مرد طلبہ کو کہا گیا کہ وہ جنسی ہراسانی کی ایک واضح مثال بیان کریں لیکن  وہ ایسا نہ کر سکے۔ زیادہ تر مردوں نے ہراسانی کی شکار خواتین کے مقابلے میں ہراساں کرنے والے مردوں کے لیے زیادہ ہمدردی محسوس کی۔

تحقیق کرنے والوں کے مطابق  ایسے معاملات میں شفافیت  کم ہونے سے ہراسانی میں ملوث مردوں سے ہمدردی میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ ہراسانی کا الزام خواتین کو دینے کے رجحان میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

یہ تحقیق دنیا بھر میں خواتین کے اپنے ساتھ ہونے والے جنسی ہراسانی کے واقعات اور ان کی زندگی پر مرتب کردہ اثرات بیان کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تدریسی شخصیات کا کہنا ہے کہ:’ سماجی حیثیت میں کسی گروہ پر الزامات  لگائے جانا  (جیسے کسی مرد پر کسی خاتون کو جنسی ہراساں کرنے کا الزام ) اس گروہ  کی اخلاقی اہمیت خطرے میں ڈالتا ہے۔ اسی خطرے کو کم کرنے کے لیے ہراسانی میں مردوں کو شک کا فائدہ دے کر واقعات کو ایسے توڑ موڑ کر پیش کیا جاتا ہے کہ جس سے ہراسانی میں ملوث مردوں کو فائدہ مل سکے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ مرد اب  یہ بھی  ماننے لگے ہیں کہ ہراساں کرنے والے مرد کوئی نقصان پہنچانے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے اور جو ہوا وہ محض ایک غلط فہمی تھی اور ایسے تمام الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں۔

سائیکالوجی آف ویمن کوارٹرلی میں شائع ہونے والے اس مقالے کے مطابق خواتین الٹا اپنے آپ کو قصوروار ٹھہرائے جانے کے خوف سے  جنسی ہراسانی کے واقعات کو کم رپورٹ کرتی ہیں۔ اس تحقیق کی سربراہی کرنے والی ڈاکٹر ریناتا بونگیورنو کا کہنا ہے کہ:’ می ٹو جیسی تحریکوں کے باوجود خواتین ابھی بھی جنسی ہراسانی کے تجربات کو بیان کرنے سے گھبراتی ہیں۔ کئی خواتین کو الزام تراشی کا سامنا کرنا پڑتا ہے خاص طور پر مردوں کی طرف سے۔‘

سٹڈی میں یہ بھی دیکھا گیا  کہ پرانے زمانے سے چلے آ رہے  خیالات جیسے کہ خواتین خود مردوں کو  ہراساں کرنے پر مجبور کرتی ہیں،  یا جنسی ہراسانی کے حوالے سے جھوٹ بولتی ہیں، ایسے خیالات کو بدلنا ہی ہراسانی میں ملوث لوگوں سے ہمدردی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

اس مقالے میں تنظیموں پر زور دیا گیا کہ وہ تربیت کے دوران اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ عام آدمی کو اس بات کا احساس کرایا جائے کہ وہ ہراسانی  میں ملوث افراد کے غیر ضروری اثر رسوخ میں آنے اور ان کے لیے ہمدردی محسوس  نہ کریں۔

ڈاکٹر بونگیورنو کا کہنا ہے کہ:’ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ متاثرہ خاتون  سے ہمدردی نہ ہونے کی وجہ سے لوگ ان پر ہی الزام دھر دیتے ہیں لیکن تحقیق میں اصل وجہ یہ سامنے آئی  کہ یہ سب کچھ ہراسانی میں ملوث مردوں سے  ہمدردی محسوس کرنے کے جذبے کے تحت کیا جاتا ہے۔  اسی وجہ سے متاثرہ خواتین پر الزام دھر دیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں اپنے ردعمل کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ مرد اس بات کا خیال رکھیں کہ ہراسانی میں ملوث  مردوں سے ان کی ہمدردی اس بات کا الزام خواتین کو دینے کا باعث بن سکتی ہے۔‘

© The Independent

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق