’ایسا لگتا ہے حالات قابو میں رکھنے کے لیے پورا بھارت کشمیر پہنچ گیا‘

مظاہرین کے زبردست احتجاج کے بعد حکام نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں عوامی نقل و حرکت پر دوبارہ پابندیاں عائد کردیں۔

عوامی نقل و حرکت پر پابندی کی وجہ سے کشمیر کی فضا بظاہر پرسکون لیکن بے چینی سے لبریز ہے(دی انڈپینڈنٹ)

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حکام نے عوامی نقل و حرکت پر دوبارہ پابندیاں عائد کردی ہیں۔ اس قدم سے پہلے لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر متنازع علاقے کی خود مختاری کی خاتمے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

مظاہرین کشمیر کے علاقوں میں بڑی تعداد میں اکٹھے ہوئے، کچھ نے بھارتی سکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کیا، جنہوں نے انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس پھینکی اور پیلٹ گنوں سے فائرنگ کی۔

بھارتی حکومت کے ترجمان روہیت کنسال کے مطابق ہفتے کو ہونے والی جھڑپوں میں سات شہری زخمی ہوئے تھے۔

اتوار کو بھارتی فوج نے لوگوں کو گھر واپس جانے کا حکم دیا اور دفعہ 144 کے دوبارہ نفاذ کا اعلان کر دیا، جس کے تحت چار سے زائد افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی ہے۔

پابندیوں کے خاتمے سے کشمیر کے لوگوں کو بھارتی حکومت کے پانچ اگست کے اقدام کے خلاف غصے کے اظہار کا موقع مل گیا۔

کشمیر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول کے قریب شمالی کشمیر کے علاقے پتن کے رہائشی 24 سالہ شاہد مہراج نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا:’ہمارے علاقوں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر کے ہمیں اپنے گھروں کے اندر بند کر دیا گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے علاقے میں حالات قابو میں رکھنے کے لیے پورا بھارت کشمیر پہنچ گیا ہے۔‘

لوگوں کو گھروں میں محصور کر دیا گیا ہے اورعوامی نقل و حرکت پر پابندی کی وجہ سے کشمیر کی فضا بظاہر پرسکون لیکن بے چینی سے لبریز ہے۔

بعض کشمیریوں کی رائے میں بھارتی حکام کی طرف سے پابندیوں میں نرمی کا مقصد جھوٹا تاثر دینا تھا کہ امن بحال کر دیا گیا۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے سب سے بڑی شہر سری نگر کے رہائشی شاہ نواز حسین کے کہا ’بھارت کشیدگی کے شکار علاقے کو پُرامن بنا کر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن ہمیں اپنی شناخت، ثقافت، ایمان اور زمین پر حملے کے خلاف اٹھنا ہوگا۔‘

انہوں نے الزام لگایا بھارتی حکومت سیاسی رہنماؤں کی بڑی پیمانے پر گرفتاریوں اور علاقے میں بھاری تعداد میں سکیورٹی تعینات کر کے لوگوں کا غصہ دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ’جب پابندیاں مکمل طور پر اٹھا لی جائیں گی اورہرچیز واضح ہو جائے گی۔ آپ صرف اس صورت میں حقیقی صورت حال دیکھ سکیں گے۔‘

بھارتی حکام نے کشمیر کے 35 تھانوں کی حدود میں پابندیاں اٹھائیں۔ان علاقوں میں سے اکثر میں احتجاج شروع ہو گیا جس سے بعد دوبارہ پابندی لگا دی گئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بھارتی سکیورٹی فورسز کے نئے کریک ڈاؤن کی وجہ سے کشمیریوں کا اپنے معمولات زندگی میں واپس آنا ایک بار پھر رکاوٹ بن گیا ہے۔

سری نگر کے 35 سالہ رہائشی ہلال رشید سکوٹر پر سوار ہو کر اپنی بہن کو دیکھنے گئے جو ایک میٹرنٹی ہسپتال میں داخل تھیں۔ گھر واپسی پر انہوں نے کہا کہ انہیں کسی سے ایسی بائیک مانگنے پر مجبور کیا گیا جسے سڑکوں پر بند کرنے کے لیے ان پر رکھے گئے درختوں کے تنوں پراٹھا کر گزارا جا سکے۔

حکومت نے تاحال نہیں بتایا کہ موبائل فون سروسز کب تک بحال کی جائیں گی جو مواصلاتی بلیک آؤٹ کے حصے کے طور پر 14 روز پہلے معطل کر دی گئی تھیں۔

52 سالہ عبدالحمید نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا انہیں سری نگر کے ضلعی مجسٹریٹ کے آفس آنے جانے کے لیے 15 میل کا سفر کرنا پڑا، جس میں پیدل سفر بھی شامل ہے۔

انہوں نے مجسٹریٹ آفس سے بیٹی کو ٹیلی فون کال کی جو نئی دہلی میں پڑھتی ہیں۔ایک گھنٹے سے زیادہ دیر تک قطار میں کھڑے رہنے کے بعد جب انہوں نے کال ملائی تو انہیں بیٹی کا فون بند ملا۔وہ مایوسی کے عالم میں گھر لوٹے۔

حکام نے دعوی کیا کہ انہوں نے لینڈ لائن فون نظام کو مرحلہ وار بحال کرنا شروع کر دیا ہے اور پہلے مرحلے میں 23 ہزار فون بحال کیے گئے۔

اس ہفتے کے آغاز میں بھارت کے دوسرے علاقوں سے رابطے کے لیے کشمیر میں چار سو ٹیلی فون بوتھ قائم کیے گئے تاہم لوگوں نے شکایت کی کہ حکومت نے ٹیلی فون بوتھ کے مقامات کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں بتایا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا