ارب پتی بننے کے لیے صحت داؤ پر لگانے والے گیمرز

ای سپورٹس میں جہاں پیسہ بڑھتا جا رہا ہے، وہیں دیگر حوالوں سے یہ دوسرے پیشہ ور کھیلوں سے اب بھی کافی پیچھے ہے، جس میں سب سے بڑا مگر تیزی سے پھیلنے والا مسئلہ ذہنی دباؤ ہے۔

او جی ٹیم کے اراکین جو 2018 کے مقابلوں میں ڈوٹا 2 کے فاتح تھے منگل کو شنگہائی میں 2019 کے مقابلوں کے آغاز پر اپنی ٹرافی دکھاتے ہوئے۔   (تصویر: اے ایف پی)

چین کے شہر شنگھائی میں رواں ہفتے کے دی انٹرنیشنل مقابلوں میں ساڑھے تین کروڑ امریکی ڈالرز کا انعام میز پر ہے لیکن اس مقابلے میں حصہ لینے والے پیشہ ور ای سپورٹس کھلاڑی خراب بینائی، ہاضمے کے مسائل اور کلائیوں اور ہاتھوں کو نقصان کی صورت میں بھاری قیمت ادا کرتے ہیں۔

پہلی نظر میں ایوجنی ’بلیزی‘ ری اس بات پر حیرانی کا اظہار کرتے ہیں کہ ’یہ ناممکن ہے، جب آپ گیمز کھیلتے ہیں تو آپ کو زخم کیسے آسکتے ہیں؟‘

تاہم پھر کرغستان سے تعلق رکھنے والے اس 24 سالہ نوجوان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ایک ڈاکٹر نے انہیں چھ ماہ کے آرام کی تلقین کی تاکہ ان کی بینائی کی خرابی رُک سکے اور اسے آرام ملے۔

ری ’ناٹس وینسیر‘ یا ’ناوی‘ کے لیے کھیلتے ہیں اور اس ہفتے عالمی مقابلے دی انٹرنیشنل میں حصہ لے رہے ہیں جہاں ای سپورٹس کی تاریخ کا سب سے بڑا انعام جیتے جانے کا منتظر ہے۔

 ناوی اور دیگر 17 ٹیمیں کئی کھلاڑیوں کے ذریعے کھیلی جانے والی گیم ’ڈوٹا ٹو‘ میں ہزاروں شائقین کے سامنے ایک سٹیڈیم کے اندر حصہ لیں گے جبکہ ہزاروں لوگ اسے آن لائن دیکھیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگر ناوی اس اتوار کی فاتح بنی تو ری اور اس کی ٹیم کے دیگر اراکین فوراً ارب پتی بن جائیں گے، لیکن یہ کامیابی بھاری قیمت پر ہوگی۔

روزانہ تقریباً 12 گھنٹے پریکٹس کرنے والے ری کا کہنا ہے کہ ’مجھے اس کی فکر پہلے نہیں تھی لیکن اب مجھے لگتا ہے کہ میں کچھ زیادہ نہیں دیکھ سکتا ہوں۔ میں دس سال سے کمپیوٹر پر کھیلتا رہا ہوں جو کافی طویل وقت ہے۔ اب مجھے لگتا ہے کہ میری بینائی خراب ہوچکی ہے۔‘  

ری کو کہا گیا ہے کہ وہ چشمہ لگایا کریں لیکن وہ انہیں آرام دہ نہیں لگتے۔ وہ کہتے ہیں کہ خراب بینائی سے ان کی کارکردگی پر اثر نہیں پڑتا کیونکہ سکرین قریب ہوتی ہے۔

ایک طبی ماہر نے انہیں آنکھوں کے لیے آسان ورزش تجویز کی ہے جس میں وہ انہیں اوپر نیچے اور دائیں بائیں گھماتے ہیں۔ لیکن وہ اعتراف کرتے ہیں کہ وہ یہ ورزش نہیں کرتے۔ ’دراصل انہوں نے مجھے چھ ماہ تک گیمز نہ کھیلنے کا مشورہ بھی دیا تھا تاکہ میری بینائی لوٹ سکے، لیکن میں نے ان کی کہی ہوئی بات اَن سنی کر دی۔ مجھے کھیلنا ہے۔‘

’میرا جسم دُکھ رہا ہے‘

شنگھائی میں کئی کھلاڑیوں کے مطابق انہیں سب سے زیادہ کارپل ٹنل سینڈروم کی شکایت ہوتی ہے۔ یہ گیمرز میں معمول کی بات ہے جو ہاتھ اور کلائی کو بار بار ایک ہی طرز پر حرکت دیتے ہیں جس سے انگوٹھے، شہادت، درمیان اور چھوٹی انگلی کے سُن ہونے اور سوزش کی شکایت ہوتی ہے جبکہ سنگین حالات میں سرجری کرنی پڑتی ہے۔

کئی گیمرز کلائی اور کمر میں ہر روز کئی کئی گھنٹے بیٹھے رہنے سے درد کی اتنی زیادہ شکایت کرتے ہیں کہ انہیں کھیل چھوڑنا پڑ جاتا ہے۔

نیوبی ٹیم کے کرٹس ’اوئی_2000‘ لنگ کہتے ہیں کہ ’میں کبھی کھیلا کرتا تھا اور مجھے بازو اور کلائی کے مسائل تھے لہذا اب میں تربیت دیتا ہوں اور کھیلتا نہیں کیونکہ میں مزید دباؤ نہیں سہہ سکتا تھا۔‘

ای سپورٹس کا ایک دوسرا بڑا عام مگر تیزی سے پھیلنے والا مسئلہ ذہنی دباؤ ہے، خصوصاً جب میز پر انعام کی بھاری رقم پڑی ہو۔ اکثر کھلاڑی 20 کے پیٹے میں ہوتے ہیں۔ اس مقابلے میں 17 سالہ کھلاڑی بھی ہے اور یہ سب انتہائی سخت مقابلے کے ماحول میں تن مَن دھن داؤ پر لگا دیتے ہیں۔

مینسکی ٹیم کے فلپائن سے تعلق رکھنے والے ریان ’ریجنگ پوٹیٹو‘ جے کوئی کا دعویٰ ہے کہ ان کی نظر ابھی بھی 20/20 ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’بعض اوقات مجھے احساس ہوتا ہے کہ میرا جسم درد سے چُور ہے۔ ایسے مقابلوں میں سب سے زیادہ ذہنی مسائل ہوتے ہیں۔‘ مینسکی ٹیم کو ذہنی مشیر کی خدمات حاصل ہیں جو ان کا حوصلہ بڑھاتا ہے۔

بدلتی عادات

ای سپورٹس میں جہاں پیسہ بڑھتا جا رہا ہے، وہیں دیگر حوالوں سے یہ دوسرے پیشہ ور کھیلوں سے اب بھی کافی پیچھے ہے۔

نیوبی کے کوچ لنگ کہتے ہیں کہ ای سپورٹ اب کہیں جا کر فزیو تھراپسٹ اور ذہنی اور جسمانی بہبود کے ماہرین کی اہمیت سمجھ رہا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اکثر ٹیموں کو یہ سہولت حاصل نہیں ہے۔ اس کی بڑی وجہ مہنگائی ہے۔

ورچس پرو کے جنرل مینیجر رومن ڈوریاکن کہتے ہیں کہ کئی گیمرز کو اس بات کا احساس ہی نہیں کہ اچھا کھانا، ورزش اور کھیلتے وقت درست انداز میں بیٹھنا کتنا اہم ہے۔ ’تمام پیشہ ور ٹیمیں اب کھلاڑیوں کو آگہی دے رہی ہیں کہ وقفہ اور مناسب ورزش کیا کریں۔ تبدیلی آ رہی ہے۔ روزانہ کی عادات تبدیل کرنا آسان نہیں۔‘  

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل