جب امول پالیکر ’گول مال‘ کے لیے ’ناں‘ نہ کر پائے

ہدایت کار نے امول پالیکر کو باتوں کے جال میں ایسا پھنسایا کہ وہ بھول ہی گئے کہ وہ فلم میں کام کرنے سے انکار کرنے آئے تھے۔

’گول مال‘ اتنی مقبول ثابت ہوئی کہ اسی کہانی پر کئی دوسری زبانوں میں بھی فلمیں بنیں (این سی سپی)

امول پالیکر نے سوچ لیا تھا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے رشی کیش مکرجی کو فلم ’گول مال‘ کے لیے ’ہاں‘ نہیں کرنی ہے۔ امول پالیکر نے ٹھان لی تھی کہ کوئی بھی بہانہ بنا کر اس فلمی منصوبے سے نجات حاصل کرنی ہے۔

وجہ صرف یہ تھی کہ ہدایت کار رشی کیش مکرجی کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ کسی اداکار کو اپنا پورا سکرپٹ نہیں سناتے، بس حکم دیتے ہیں کہ یہ منظر ایسا کرنا ہے اور اداکار کو کرنا پڑتا۔

فلمی دنیا میں ان کا خاصا دبدبہ اور رعب تھا۔ کسی بھی اداکار کی ہمت نہیں تھی کہ وہ ان کے کہے ہوئے کو نہ مانے۔ یہاں تک کہ وہ سوال بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اب امول پالیکر ٹھہرے اپنی مرضی، بھرم اور اپنا وقار دکھانے والے اداکار۔

ان کے لیے بڑا مشکل تھا کہ وہ ایک ایسے ہدایت کار کے ساتھ کام کریں جو اداکاروں کو واقعی اپنی انگلیوں کے اشاروں پر نچاتا ہے اور ان کی کسی بھی بات یا مشورے کو خاطر میں نہیں لاتا۔

امول پالیکر کو اپنی فلم ’گول مال‘ میں منتخب کرنے کا فیصلہ رشی کیش مکرجی نے ان کی ’رجنی گندھا،‘ چھوٹی سی بات، ’چترچور،‘ ’باتوں باتوں میں‘ اور ’بھومیکا‘ کو دیکھ کر کیا تھا۔

امول پالیکر 70 کی دہائی میں ہدایت کار باسو چیٹرجی کے پسندیدہ ہیرو تھے جنہوں نے کئی فلموں میں امول پالیکر کو بطور ہیرو پیش کیا تھا۔ یہ بھی اپنی جگہ دلچسپی سے خالی نہیں کہ امول پالیکر کی بیشتر فلموں میں ان کا کردار بہت سیدھا سادہ ہوتا۔ یہاں تک کہ ہدایت کار ان کے گیٹ اپ تک کو سادہ رکھتے۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی کہ راجیش کھنہ، امیتابھ بچن، دھرمیندر، ونود کھنہ اور جیتندر جیسے دبنگ، رومانی اور رقاص ہیروز کی موجودگی میں باسو چٹرجی امول پالیکر کو ایک عام سا انسان دکھانا چاہتے تھے جسے دیکھ کر ہر فلم بین کو یہ محسوس ہو کہ پردہ سیمیں پر امول پالیکر نہیں بلکہ وہ خود ہے۔

امول پالیکر اب ہدایت کار رشی کیش مکرجی کے سامنے بیٹھے تھے۔ اداکار کے ذہن میں ایک جنگ چل رہی تھی۔ وہ ان بہانے سے بھرے جملوں کی جوڑ توڑ میں لگے ہوئے تھے جو رشی کیش مکرجی کے سامنے پیش کرنا تھے۔

امول پالیکر کو بس یہی فکر تھی کہ وہ کیسے رشی کیش مکرجی کے ساتھ کام کر سکتے ہیں جو صرف اپنی مرضی چلاتے ہوں۔ کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ بطور ہیرو انہیں پورے سکرپٹ کا پتہ ہونا چاہیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی طرح ہر منظر کو عکس بند کرنے سے پہلے ہدایت کار کے ساتھ گفتگو ہونی چاہیے۔ اب ایسا اگر نہیں ہوگا تو وہ کیسے اپنے کردار کے ساتھ انصاف کر پائیں گے۔ اسی بنا پر امول پالیکر نے ذہن بنا لیا تھا کہ صرف رسمی ملاقات کر کے چلتے بنیں گے۔

رشی کیش مکرجی نے امول پالیکر سے دنیا جہاں کی بات کی۔ انہوں نے امول پالیکر کی اب تک چلنے والی فلموں پر گفتگو کی۔ یہاں تک کہ رشی کیش مکرجی کو یہ بھی معلوم تھا کہ امول پالیکر کی بیٹی بیڈمنٹن کھیلتی ہیں اور اب تک ان کی کارکردگی کس نوعیت کی رہی ہے۔

رشی کیش مکرجی کی دلچسپ باتوں میں کھوئے امول پالیکر یہ بھول ہی بیٹھے تھے کہ وہ ہدایت کار کے پاس کیوں آئے تھے۔ اب یہ رشی کیش مکرجی کی کون سی سی چال تھی کہ انہوں نے ہر موضوع پر گفتگو کر لی لیکن جس مقصد کے لیے امول پالیکر کو طلب کیا تھا، اس پر بات ہی نہیں کررہے تھے۔

بہرحال اس ملاقات کا وہ موڑ آ ہی گیا جس کا انتظار امول پالیکر کو تھا۔

رشی کیش مکرجی نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ امول پالیکر کے ساتھ ایک فلم ’گول مال‘ بنانا چاہتے ہیں۔ اس سے پہلے امول پالیکر کچھ کہتے رشی کیش مکرجی نے فلم کی پوری کہانی سنانا شروع کی۔

ہدایت کار نے اس قدر خوبصورتی کے ساتھ اسے بیان کیا کہ امول پالیکر کو ایسا لگا جیسے ایک ایک منظر ان کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہو۔ امول پالیکر تو ایک بار پھر جیسے رشی کیش مکرجی کی ان باتوں میں کھو گئے۔ ہوش آیا تو ایک زور دار قہقہہ مارا۔

رشی کیش مکرجی نے حیران ہو کر اس کی وجہ پوچھی تو امول پالیکر نے آخر کار دل کی بات کہہ دی کہ وہ ہدایت کار کے پاس صرف ’انکار‘ کرنے کے لیے آئے تھے اور یہی سوچ و بچار میں تھے کہ سینیئر ہدایت کار سے معذرت کیسے کرنی ہے۔ اب ’ناں‘ کرنے کی وجہ بھی امول پالیکر نے بیان کر دی۔

رشی کیش مکرجی تھوڑی دیر کے لیے خاموش رہے اور پھر گویا ہوئے کہ جس شخص کے پاس وقت نہیں ہے پوری کہانی سننے کے لیے، جس کے پاس سوچنے کے لیے وقت نہیں اور جس کے پاس سکرپٹ کو بہتر کرنے کی اہلیت نہیں تو وہ بھلا کیوں اپنا وقت ایسے شخص کے لیے برباد کریں۔ اسی بنا پر وہ اس قسم کے ’مصروف‘ اداکاروں کو پوری کہانی یا سکرپٹ سنا کر اپنا وقت ضائع نہیں کرتے۔

رشی کیش مکرجی کا مزید کہنا تھا کہ وہ امول پالیکر کے کیریئر کو باریک بینی سے دیکھتے چلے آئے ہیں اور جس نوعیت کا امول پالیکر فلموں اور تھیئٹر میں کام کرتے ہیں اس سے متاثر بھی ہوئے ہیں کیونکہ یہی تو وہ تخلیقی کام ہے جو وہ چاہتے ہیں ہر اداکار کرے۔

رشی کیش مکرجی نے امول پالیکر کو یہ خوش خبری بھی دی کہ وہ صرف ’گول مال‘ ہی نہیں پانچ اور فلمیں بھی ان کے ساتھ بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امول پالیکر جو ’ناں‘ کرکے فور گھراً واپس آنا چاہتے تھے، پورا دن رشی کیش مکرجی کے ساتھ رہے جنہوں نے پانچ کی پانچ فلموں کی کہانیاں ایک کے بعد ایک انہیں سنائیں۔

رشی کیش مکرجی کی ’گول مال‘ ایک ایسے نوجوان کی دلچسپ داستان تھی جو نوکری کی خاطر رام پرشاد اور لکشمن پرشاد کے دہرے کردار ادا کرتا ہے۔ فیکٹری مالک کو جھوٹ سے نفرت اور دیسی رسم و رواج سے محبت ہے۔ اب کیسے مالک اپتل دت سے بچنے کے لیے دونوں کردار وں کے درمیان ڈرامائی جدوجہد ہوتی ہے یہی فلم کا خاصہ تھا۔

بہت کم لوگوں کے علم میں ہے ’گول مال‘ صرف 40 دن کے اندر مکمل ہوئی۔ رشی کیش مکرجی نے سرمایہ بچانے کے لیے بمبئی کے اپنے باندرہ کے بنگلے ’بھوانی‘ میں فلم کا سیٹ لگایا۔ بھوانی فلم میں اپتل دت کا نام بھی تھا۔ بنگلے کے ایک حصے میں دفتر اور سیٹھ بھوانی شنکر کا گھر بنایا گیا جبکہ ڈرائنگ روم کو رام پرشاد کے گھر کا روپ دیا گیا۔

ایور گرین کامیڈی فلم ’گول مال‘ کی خاص بات یہ بھی تھی کہ اس میں مہمان اداکاروں کے طور پر امیتابھ بچن، ریکھا، اوم پرکاش، زینت امان سمیت کئی ستارے جھلمائے۔ گلزار کی نغمہ نگاری کو موسیقار راہل دیو برمن نے ایک نیا انداز دیا۔

فلم کے گیت بہت مشہور ہوئے، خاص طور پر ’گول مال ہے بھئی گول مال ہے‘ آج بھی سنا جاتا ہے۔ 20 اپریل 1979 کو نمائش پذیر ہونے والی یہ فلم اپنے دور کی کامیاب ترین رہی جس نے کمائی کے نئے ریکارڈ بنائے۔

اگلے سال جب فلم فیئرایوارڈز کا میلہ سجا تو امول پالیکر نے زندگی کا پہلا اور آخری ایوارڈ برائے بہترین ہیرو کا حاصل کیا۔ اپتل دت کو بہترین کامیڈین جبکہ گلزار کو بہترین نغمہ نگار کا ایوارڈ ملا جبکہ فلم کی مجموعی طو ر پر آٹھ نامزدگیاں ہوئیں۔

رشی کیش مکرجی کی ’گول مال‘ متاثرکن فلم ثابت ہوئی۔ اس کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے اسی موضوع پر بالی وڈ میں ہی نہیں بھارت کی دیگر زبانوں میں بھی فلمیں بنائی گئیں۔

امول پالیکر جس فلم کو مسترد کرنے گئے تھے، اس نے ان کے کیریئر کو بھی ایک نیا مقام دیا۔ رشی کیش مکرجی کے انداز ہدایت کاری سے وہ اس قدر متاثر ہوئے کہ بعد میں ان کی کئی فلموں کے ہیرو بنے، جن میں ’نرم گرم‘ اور ’رنگ برنگی‘ نمایاں ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ