بچے خوشی کا باعث ہیں، لیکن تب جب وہ گھر سے جا چکے ہوں

ایک حالیہ تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ وہ لوگ جن کے بچے بالغ ہونے کے بعد گھر سے چلے جاتے ہیں، اُن کی زندگی زیادہ اطمینان بخش ہوتی ہے اور مایوسی کے آثار کم ہوتے ہیں۔

محققین کو معلوم ہوا ہے کہ ایسے لوگ جو بچوں کے ساتھ باقاعدگی سے رابطہ رکھتے ہیں ان لوگوں سے زیادہ خوش رہتے ہیں جو اب بھی اپنے بچوں کے ساتھ رہتے ہیں یا کبھی ان کے بچے تھے ہی نہیں (تصویر: پکسا بے)

لوگ اکثر کہتے ہیں کہ اولاد ان کے لیے خوشی لاتی ہے لیکن اس سلسلے میں ہونے والی ایک تحقیق کے زیادہ تر حصے سے پتہ چلتا ہے کہ بچے مالی پریشانی، دباؤ اور بے چینی کا سبب بن سکتے ہیں۔ ہاں صرف اُس صورت میں بچے لوگوں کو خوشی دیتے ہیں جب وہ گھر سے جا چکے ہوں۔

جرمنی میں ہائڈل برگ یونیورسٹی میں کرسٹوفر بیکر کی قیادت میں ہونے والی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ وہ لوگ جن کے بچے بالغ ہونے کے بعد گھر سے چلے جاتے ہیں، اُن کی زندگی زیادہ اطمینان بخش ہوتی ہے اور مایوسی کے آثار کم ہوتے ہیں۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ وہ مالی طور پر دیکھ بھال کے اعتبار سے بچوں پر انحصار کرتے ہیں، جس سے انہیں پالنے کے دوران اٹھائی گئی مشقت کا احساس مٹ جاتا ہے۔

محققین کی ٹیم نے 16 یورپی ملکوں کے 55 ہزار ایسے شہریوں سے ملاقات کی، جن کی عمر 50 برس سے زیادہ تھی۔ محققین نے ان سے کہا کہ وہ اپنی زندگی کے اطمینان کو نمبر دیں۔ یہ نمبر صفر (مکمل بے اطمینانی) سے دس (مکمل اطمینان) تک ہوں گے۔

سائنسدانوں کو پتہ چلا کہ ایسے بالغ افراد جن کے بچے بڑے ہو چکے تھے انہوں نے دیئے گئے پیمانے پر 0.02 اور 0.56 کے درمیان زیادہ پوائنٹس حاصل کیے۔

ڈاکٹر بیکر نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’یہ بلاشبہ کوئی بڑا فرق نہیں ہے لیکن یہ ان اعداد و شمار سے ملا ہے جو ہزاروں جواب دہندگان کے سامنے رکھے گئے تھے۔ اس لیے اس صورت میں جب بچے زندگی میں اطمینان اور خوشی کا سب سے بڑا سبب نہ ہوں تو یہ فرق پھر بھی اوسطاً اہم اثر رکھتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

محققین کو معلوم ہوا ہے کہ ایسے لوگ جو بچوں کے ساتھ باقاعدگی سے رابطہ رکھتے ہیں ان لوگوں سے زیادہ خوش رہتے ہیں جو اب بھی اپنے بچوں کے ساتھ رہتے ہیں یا کبھی ان کے بچے تھے ہی نہیں۔

ڈاکٹر بیکر نے کہا: ’ہم نے بڑی حد تک پہلے سے موجود تحقیق پر انحصار کیا اور بچوں کے لیے بالکل نیا اور منفرد نتیجہ نکالنے کی بجائے ہم پہلے سے موجود مواد میں یہ کہہ کر ایک اور شہادت کا اضافہ کیا ہے کہ مخصوص حالات میں بچوں اور زیادہ خوشی کے درمیان تعلق بنتا ہے۔‘

محققین کو یہ بھی پتہ چلا ہے کہ شادی ’مثبت انداز میں فلاح اور مایوسی کی کم علامتوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔‘

تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ خوشی اور فلاح و بہبود کے تعین کے لیے سماجی رابطے کے نیٹ ورکس بھی اہمیت کے حامل ہیں۔ یہاں صرف شادی شدہ اور بچوں کے والدین ہونے کی بات نہیں ہو رہی بلکہ اُن لوگوں کا بھی ذکر ہو رہا ہے جو اپنے جذبات اور خیالات کا تبادلہ بھی کرتے ہیں۔

پلوس ون نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق دونوں باتیں اکٹھی لی جائیں تو ہمارے سامنے آنے والے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ بڑی عمرکے لوگوں کی خوشی اور فلاح و بہبود میں سوشل میڈیا نیٹ ورکس اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ میاں بیوی، ساتھ رہنے اور بچے اکثر اوقات سماجی رابطے کے نیٹ ورکس کے لیے پائیدار بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح معمر افراد کو سماجی سطح پر معاونت میسر آ سکتی ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے: ’ایسی صورت میں جب والدین ہونے کے حوالے سے نتائج متنازع اور زیر مطالعہ رہنے والے لوگوں کی عمر پر منحصر ہو سکتے ہیں، بڑے پیمانے پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ زندگی میں زیادہ اطمینان کا تعلق سماجی مدد پر ہے۔ فرد کی فلاح وبہبود کے لیے سماجی نیٹ ورکس بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق