گوگل اب ذاتی معلومات آن لائن ظاہر ہونے پر الرٹ کرے گا

ذاتی تصاویر کے حوالے سے نئے قوانین کا مطلب ہے کہ صارفین یہ درخواست کر سکیں گے کہ ’سرچ ریزلٹس‘ سے ان کی واضح تصاویر ہٹا دی جائیں۔

گوگل نے کہا ہے کہ نئے ٹولز کا مقصد لوگوں کو آن لائن ظاہر ہونے والی ان کی ذاتی معلومات اور تصاویر پر زیادہ کنٹرول دینا ہے (اے ایف پی)

سرچ انجن گوگل اب لوگوں کو ان کی ذاتی معلومات کے آن لائن ظاہر ہونے پر الرٹ کرے گا جس سے ان کے لیے یہ معلومات ہٹانا آسان ہو جائے گا۔

امریکی کمپنی نے کہا ہے کہ نئے ٹولز کا مقصد لوگوں کو آن لائن ظاہر ہونے والی ان کی ذاتی معلومات اور تصاویر پر زیادہ کنٹرول دینا ہے۔

ذاتی تصاویر کے حوالے سے نئے قوانین کا مطلب ہے کہ صارفین یہ درخواست کر سکیں گے کہ ’سرچ ریزلٹس‘ سے ان کی واضح تصاویر ہٹا دی جائیں۔

یہ نیا ٹول ان حالات میں بھی کام کرے گا جہاں کسی نے اپنی مرضی سے ذاتی مواد اپ لوڈ کیا ہو اور پھر بعد میں وہ اسے سرچ ریزلٹس سے ہٹانا چاہے۔

یہ پالیسی عام طور پر ذاتی معلومات پر لاگو ہو گی یعنی وہ بھی نہ صرف گوگل کے ٹولز میں ظاہر ہوگی بلکہ اسے ہٹانا بھی آسان ہوگا۔

گوگل طویل عرصے سے ایسی پالیسیاں متعارف کروا رہا ہے جن کا مقصد لوگوں کی مدد کرنا ہے تاکہ غیر متفقہ واضح تصویروں کو سرچ ریزلٹس سے ہٹا دیا جائے۔ لیکن ان تبدیلیوں کا مطلب یہ ہے کہ لوگ اس مواد کو بھی ہٹا سکتے ہیں یہاں تک کہ جب انہوں نے اسے اپنی مرضی سے اپ لوڈ کیا ہو۔

اپ ڈیٹ میں گوگل نے اس بات پر زور دیا کہ وہ صرف گوگل سرچ سے مواد کو ہٹانے کے قابل ہے تاہم ایسا کرنے سے دوسری ویب سائٹس یا سرچ انجنز پر اس کی دستیابی متاثر نہیں ہوگی۔ لیکن سرچ ریزلٹس سے کسی بھی ناپسندیدہ تصویر کو ہٹانے سے انہیں تلاش کرنا زیادہ مشکل ہو جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نیا فیچر گوگل کے ’آباؤٹ یو‘ ٹول کی توسیع کا حصہ ہے جسے کمپنی نے پہلی بار گذشتہ سال متعارف کرایا تھا۔

جب ٹول لانچ کیا گیا تھا تو اس کا مقصد لوگوں کے لیے تلاش کے نتائج کو ہٹانے کی درخواست کرنا آسان بنانا تھا جس میں ذاتی معلومات جیسے فون نمبر یا گھر کے پتے شامل ہیں۔

اب اس ٹول میں بہتری لائی گئی ہے تاکہ معلومات پر مشتمل سرچ کے نتائج تلاش کرنے میں فعال ہو۔ صارفین ڈیش بورڈ تک رسائی حاصل کر سکیں گے اور کسی بھی ویب کے نتائج کو دیکھ سکیں گے جس میں رابطے کی معلومات شامل ہو۔

اس کے بعد صارفین پہلے سے بہتر ایک فارم تک رسائی حاصل کر سکیں گے تاکہ ان کو ہٹانے کی درخواست کی جا سکے۔

ڈیش بورڈ ابھی صرف امریکہ اور انگریزی زبان میں دستیاب ہے۔ گوگل نے کہا کہ وہ جلد ہی اسے نئی زبانوں اور دنیا کے دیگر حصوں تک لانے کے لیے کام کر رہا ہے۔  

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی