خضدار: مینگل قبائل میں تصادم، ہندو برادری کی بھی نقل مکانی

وڈھ شہر میں سابق وزیراعلیٰ سردار اختر مینگل اورشفیق مینگل کے قبیلوں کے درمیان گذشتہ کئی مہینوں سے مسلح جھڑپیں جاری تھیں، تاہم سول انتظامیہ کے مطابق فائرنگ صرف دور دراز علاقوں تک محدود ہو گئی ہے۔

وڈھ میں قائم کیا گیا مینگل قبائل کا ایک مورچہ (مجاہد/مقامی شہری)

بلوچستان کے ضلع خضدار میں مینگل قبائل کے دو گروہوں کے درمیان ایک تنازعے کے باعث فائرنگ کا تبادلہ کئی دنوں سے جاری ہے۔ اس مسلح تصادم کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والوں میں ہندو برادری کے کئی گھرانے بھی شامل ہیں۔ 

مسلح تصادم کے باعث نقل مکانی کرنے والے خضدار کے وڈھ بازار میں ایک ہندو دکاندار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انڈپیندنٹ اردو کو بتایا کہ ’حالات بہت زیادہ خراب تھے۔ ساری رات فائرنگ ہوتی تھی، گولیاں گھر کے اوپر سے ہر وقت گزرتی تھیں، راکٹ اور دوسرا بھاری اسلحہ بھی استعمال ہو رہا تھا۔‘ 

انہوں نے مزید بتایا کہ علاقے میں حالیہ کشیدگی کو شروع ہوئے نو دن ہو گئے ہیں اور تب سے وڈھ بازار بند ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی برادری کے تقریباً تمام لوگ وڈھ سے نکل گئے ہیں۔ ’کچھ لوگ خضدار اور کچھ دوسرے ضلع لسبیلہ کی طرف چلے گئے ہیں۔‘

دوسری جانب ایس ایس پی خضدار فہد کھوسہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ وڈھ میں اس وقت صورت حال نارمل ہے، تاہم کشیدگی برقرار ہے اور دور دراز علاقوں میں فائرنگ کا امکان موجود ہے۔

ایس ایس پی فہد نے کہا کہ ’انتظامیہ جنگ بندی کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور اس سلسلے میں دونوں فریقین سے رابطے بھی برقرار ہیں۔‘

انہوں کا مزید کہنا تھا کہ مختلف وفود خاص طور پر نواب اسلم رئیسانی سے رابطہ کیا جا رہا ہے تاکہ وہ فریقین کو جنگ بندی پر قائل کر سکیں۔ ان ہی کی کوششوں سے پہلے بھی جنگ بندی ہوئی تھی۔

پولیس افسر نے فریقین کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں اموات اور کسی کے زخمی ہونے سے متعلق اطلاعات کی تردید کی ہے۔

صوبہ بلوچستان کا شہر وڈھ مینگل قبیلے کا مسکن اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ سردار اختر مینگل کا آبائی علاقہ ہے، جہاں ان کے مخالف شفیق مینگل بھی آباد ہیں۔

شہر کے دو بااثر خاندانوں کے درمیان یہ مسلح جھڑپیں گذشتہ کئی مہینوں سے جاری ہیں، جنہیں بند کروانے کے لیے دوسری سیاسی شخصیات کی کوششوں کے باعث امن کمیٹیاں بنیں اور فائر بندی بھی ہوئی تاہم تنازعے کا مستقل حل نہیں نکالا جا سکا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وڈھ میں مسلح تصادم کے باعث کوئٹہ کراچی شاہرہ (این 25) کو بھی مسافر گاڑیوں کے لیے بند کر دیا گیا تھا، تاہم ایس ایس پی نے دعویٰ کیا کہ اب ٹریفک کھول دی گئی ہے۔

’تین، چار گھروں میں صرف مرد رہ گئے ہیں‘

نقل مکانی کرنے والے ہندو تاجر کا کہنا ہے کہ 50 ہزار آبادی کے وڈھ شہر میں رہائش پذیر ہندوؤں کی تعداد 300 کے قریب ہے، جبکہ مرکزی بازار کی تین ہزار دکانوں میں 60 سے 70 ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والوں کی ہیں۔

’اب اس وقت وہاں محض تین چار گھروں میں صرف مرد رہ گئے ہیں۔  صورت حال یہ ہے کہ مارکیٹ بند تھیں، اشیا خورد و نوش کی چیزیں دستیاب نہیں ہیں۔‘

ہندو تاجر کا کہنا تھا کہ وڈھ میں 2013 میں بھی حالات اسی طرح خراب ہوئی تھے اور ڈیڑھ ماہ تک بازار بند رہے تھے۔ ’لیکن تب گولہ باری نہیں تھی اور کسی کو نقل مکانی کی ضرورت پیش نہیں آئی تھی۔‘

سینیئر سیاستدان اور سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی لشکری خان رئیسانی نے وڈھ میں کشیدگی کے حوالے سے بلدیہ ریسٹ ہاؤس خضدار میں دو اگست کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ’19جولائی کو سوشل میڈیا کے ذریعے ہمیں معلوم ہوا کہ وڈھ میں شدید کشیدگی اور مسلح تصادم ہورہا ہے، جس کے بعد چیف آف سراوان نواب محمد اسلم خان رئیسانی اور نوابزادہ حاجی لشکری خان رئیسانی کے درمیان مشاورت ہوئی کہ وڈھ میں مسلح تصادم کو رکوانے میں ہم اپنا کردار ادا کریں گے۔‘

وڈھ تنازع کیا ہے؟

وڈھ تنازعہ کے حوالے سے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ زمین کی ملکیت کا تنازع ہے۔

 مقامی افراد کے مطابق وڈھ میں ایک زمین ہے جس پر شفیق مینگل اور سردار اختر مینگل دونوں ہی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’دو سال قبل مینگل قبائل کی شاخ شیخ کا ایک فرد اغوا ہوا تھا جس کا الزام شفیق مینگل کے بھائی عطا الرحمان مینگل پر لگایا گیا تھا، جسے بعد میں مذاکرات کے بعد بازیاب کروایا لیا گیا تھا۔‘

مقامی افراد کہتے ہیں کہ اس طرح اس تنازعے نے جنم لیا۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان