پی ٹی آئی نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کو چیلنج کردیا

درخواست میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ترمیمی قانون کو کالعدم قرار دینے اور آئینی درخواست کے فیصلہ تک دونوں قوانین کو معطل کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

(اے ایف پی)

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ترمیمی قانون کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے آئینی درخواست دائر کی ہے۔ 

درخواست میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ترمیمی قانون کو کالعدم قرار دینے اور آئینی درخواست کے فیصلہ تک دونوں قوانین کو معطل کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ آرمی ترمیمی ایکٹ اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ پر صدر پاکستان نے دستخط نہیں کیے اور یہ دونوں قوانین آرٹیکل 10 اے، آرٹیکل آٹھ اور آرٹیکل 19 کے منافی ہیں۔

شعیب شاہین کے ذریعے دائر درخواست میں صدر، سیکریٹری قومی اسمبلی، وزارت قانون اور داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے۔

آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل کیا ہے؟

آفیشل سیکرٹ ترمیمی بل کے مطابق کوئی شخص جو جان بوجھ کر امن عامہ کا مسئلہ پیدا کرتا ہے، ریاست کے خلاف کام کرتا ہے، ممنوعہ جگہ پر حملہ کرتا یا نقصان پہنچاتا ہے جس کا مقصد براہ راست یا بالواسطہ دشمن کو فائدہ پہنچانا ہے تو وہ جرم کا مرتکب ہو گا۔

اس کے علاوہ ترمیمی بل کے تحت الیکٹرانک یا جدید آلات کے ساتھ یا ان کے بغیر ملک کے اندر یا باہر سے دستاویزات یا معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے والا شخص مجرم تصور ہو گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان کے اندر یا باہر ریاستی سکیورٹی یا مفادات کے خلاف کام کرنے والے کے خلاف بھی کارروائی ہو گی اور ان جرائم پر تین سال قید، 10 لاکھ روپے جرمانہ یا پھر دونوں سزائیں ہوں گی۔

آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملزم کا ٹرائل خصوصی عدالت میں ہو گا اور خصوصی عدالت 30 دن کے اندر سماعت مکمل کر کے فیصلہ کرے گی۔

آرمی ایکٹ ترمیمی بل کیا ہے؟

 قومی اسمبلی نے پاکستان آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2023 منظور کیا تھا، سینیٹ پہلے ہی یہ بل پاس کر چکا تھا، بل سابق وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا۔

آرمی ایکٹ کے مطابق کوئی بھی فوجی اہلکار ریٹائرمنٹ، استعفے یا برطرفی کے دو سال بعد تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا جبکہ حساس ڈیوٹی پر تعینات فوجی اہلکار یا افسر ملازمت ختم ہونے کے پانچ سال تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا۔

اس بل کا اطلاق سویلین پر نہیں ہو گا، آرمی ایکٹ ترمیمی بل2023 کا سپریم کورٹ میں جاری مقدمے پر کوئی اثر نہیں ہو گا، دہری شہریت رکھنے والے افواج پاکستان میں شمولیت اختیار نہیں کر سکیں گے۔

آرمی ایکٹ ترمیمی بل کے مطابق ملکی سلامتی اور مفاد میں حاصل معلومات کے غیر مجاز انکشاف پر سزا ہو گی، متعلقہ شخص کو پانچ سال تک قید کی سزا دی جائے گی۔ پاکستان اور افواج کے خلاف کسی قسم کے انکشاف پر بھی کارروائی ہو گی۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست