ایک آئیڈیل امیدوار

یوں لگتا ہے جیسے دنیا کی دیگر قوموں کے مقابلے میں ہمارے اخلاقی معیارات خاصے پست ہو چکے ہیں۔

پہلے ہمارے ہاں صرف سرکاری نوکری کو ہی وظیفہ سمجھا جاتا ہے مگر اب تو پرائیویٹ نوکری کے بارے میں بھی لوگوں کا یہی رویہ بنتا جا رہا ہے (پیکسلز)

’جی، نوجوان، بتائیں میں آپ کے لیے کیا کرسکتا ہوں؟‘

’ہا ہا ہا، بس جی کرنا کیا ہے، آپ کو چوہدری صاحب کا فون تو آیا ہو گا؟‘

’ہاں، فون تو آیا تھا مگر یہ بھی تو بتائیں کہ آپ کو یہاں کیا نوکری دیں، آپ کیا کام کرسکتے ہیں؟‘

’میں سب کچھ کر سکتا ہوں۔‘

’وہ تو ٹھیک ہے، مگر یہ تو ٹی وی چینل کا دفتر ہے، یہاں تو ہمیں میڈیا سے متعلق لوگ چاہییں، ویسے بھی جو پروگرام میں کرتا ہوں اس میں تھوڑی بہت موسیقی ہوتی ہے اور حالات حاضرہ پر بات، کیا آپ کو موسیقی کی کوئی سدھ بدھ ہے؟‘

’یہ سدھ بدھ کیا ہوتا ہے؟‘

’میرا مطلب ہے کہ کیا آپ موسیقی کے بارے میں کچھ جانتے ہیں؟‘

’بالکل جانتا ہوں، بلکہ چودھری صاحب نے آپ کو بتایا ہو گا کہ موسیقی تو ہمارے گھر کی بات ہے۔‘

’اچھا تو پھر بھیرویں میں کچھ سنائیں۔‘

’ارے۔ ۔ ۔ رے رے رے۔ ۔ ۔ نہیں اتنا مجھے نہیں پتہ، یار!‘

’ہمم۔ ۔ ۔ یار۔ ۔ ۔ پھر آپ ہی بتائیں کہ آپ کو کیا جاب دیں؟‘

’کچھ بھی دے دیں، میں نے کہا نا میں سب کچھ جانتا ہوں، دبئی میں رہا ہوں، وہاں میرا رئیل اسٹیٹ کا بزنس تھا۔‘

’بیٹا، میں نے آپ کو بتایا نا کہ یہ چینل کا دفتر ہے، پراپرٹی ڈیلنگ کا نہیں۔‘

’کمال کرتے ہیں آپ، چوہدری صاحب نے آپ کو فون پر کیا کہا تھا؟‘

’انہوں نے کہا تھا کہ آپ کو کوئی مناسب جاب دے دی جائے۔‘

’بس تو پھر دے دیں، بات ختم۔‘

’اچھا یہ بتائیں کہ بالفرض اگر آپ کو جاب دے دی جائے تو آپ کے ذہن میں کیا ہے کہ کتنی تنخواہ ہونی چاہیے؟‘

’آپ بتائیں، کیا آفر کرسکتے ہیں؟‘

’ہمم۔ ۔ ۔ ویسے تو ہمارے پاس کوئی جاب نہیں لیکن پھر بھی اگر ہم آپ کو accommodate کرنے کی کوشش کریں تو زیادہ سے زیادہ 35 ہزار دے سکتے ہیں۔‘

’کیا بات کر رہے ہو یار؟ میرے تین بچے ہیں، گھر میں ماں باپ ہیں، سو خرچے ہیں، مجھے کم از کم دو لاکھ چاہییں۔‘

’ہاں مگر نوکری کی تنخواہ تو قابلیت دیکھ کر دی جاتی ہے نہ کہ اخراجات دیکھ کر، کل کو ہمیں اگر کوئی ایسا شخص مل جائے جو بے انتہا قابل ہو مگر سنگل ہو تو کیا ہم اسے محض اس لیے کم تنخواہ دیں کہ تمہارے خرچے کم ہیں؟‘

’دیکھیں یار، آپ کو چوہدری صاحب۔ ۔ ۔ !‘

’تمہارے چوہدری کو تو رہنے دو۔ ۔ اور یار نہیں ہوں میں تمہارا!‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے پہلے کہ آپ کوئی اندازہ لگائیں، میں پہلے ہی واضح کر دوں کہ اس مکالمے کے تمام مندرجات درست ہیں اور ایک سچے واقعے سے اخذ کیے گئے ہیں۔

جب میں نے یہ واقعہ سنا تو مجھے زیادہ حیرت نہیں ہوئی کیونکہ ایک دو مرتبہ خود میرا بھی ایسے امیدواروں سے پالا پڑ چکا ہے۔

پہلے ہمارے ہاں صرف سرکاری نوکری کو ہی وظیفہ سمجھا جاتا ہے مگر اب تو پرائیویٹ نوکری کے بارے میں بھی لوگوں کا یہی رویہ بنتا جا رہا ہے۔

کسی زمانے میں میرا خیال ہوا کرتا تھا کہ ہم کرہ ارض کی کوئی انوکھی مخلوق ہیں جس کی عادات و اطوار اور کام کرنے کے طور طریقے اور رنگ ڈھنگ نرالے ہیں، مگر پھر یہ خیال تبدیل ہو گیا اور مجھے پتہ چلا کہ دنیا میں ہر طرح کی قومیں آباد ہیں جو ہر قسم کے عروج و زوال کا شکار رہی ہیں۔

ہم پر ابھی برا وقت آیا ہوا ہے مگر یہ دھیرے دھیرے ختم ہو جائے گا۔ تاہم نہ جانے کیوں اپنے ارد گرد کے حالات دیکھ کر مجھے یوں لگتا ہے کہ کہیں مجھے اپنے خیالات سے دوبارہ رجوع نہ کرنا پڑ جائے!

کچھ عرصہ پہلے مجھے کینیا جانے کا اتفاق ہوا، کینیا ایک ترقی پذیر ملک ہے، غربت اور بے ترتیبی سڑکوں پر نظر آتی ہے، نیروبی میں دنیا کی دوسری بڑی کچی بستی ہے، لا اینڈ آرڈر کی صورت حال ہماری جیسی ہے، لوگوں کے کام کرنے کے طور طریقوں سے سست روی جھلکتی ہے، سرکاری دفاتر میں افسران دیر سے آتے ہیں، اور ان سب باتوں کے ساتھ ساتھ کینیا کو ہماری طرح خطے کی لیڈری کا بھی شوق ہے۔

مگر ان تمام قباحتوں کے باوجود مجھے کینیا کی ٹریفک، جو اپنے بےڈھنگے پن کی وجہ سے خاصی بدنام ہے، کم ازکم اپنے ہاں کی ٹریفک سے بہتر لگی، ہارن بجانے کا رواج کم تھا اور لوگ کسی نہ کسی حد تک لین کی پاسداری کر رہے تھے۔

سچ پوچھیں تو مجھے اپنے ملک میں کیڑے نکالنا یا اپنے لوگوں کی عادات کا تمسخر اڑانا بالکل پسند نہیں۔ دنیا میں ہر جگہ لوگ کام چور ہوتے ہیں، جیسے کہ سکینڈی نیوین ممالک میں بھی، جہاں ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لیے بےشمار قوانین موجود ہیں، اگر لوگوں پر کڑی نظرنہ رکھی جائے تو وہ کام میں ہیرا پھیری سے نہیں جاتے۔

مگر اس کے باوجود مجھے یوں لگتا ہے جیسے دنیا کی دیگر قوموں کے مقابلے میں ہمارے اخلاقی معیارات خاصے پست ہو چکے ہیں۔ کاش میری یہ رائے درست نہ ہو مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس رائے کو تقویت ملتی جارہی ہے۔

دیکھا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص، خاص طور سے لکھاری، اختلاف رائے کو زیادہ پسند نہیں کرتا کیونکہ ہمارا عمومی رویہ یہی ہے کہ ہم جو بات منہ سے نکال دیں اس پر ڈٹ جاتے ہیں چاہے وہ کتنی ہی غلط کیوں نہ ہو۔

مگر میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ کہتا ہوں کہ اگر آپ میں سے کسی کے پاس میری رائے کو تبدیل کرنے کے لیے کوئی دلیل ہے تو بسم اللہ، ضرور دیجیے۔ بہترین دلیل دینے والے کو سانگلہ ہل آنے جانے کا ٹکٹ انعام میں دیا جائے گا، دوسرے نمبر پر آنے والے کو دو ٹکٹ انعام میں ملیں گے!

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی رائے پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر