کیا نواز شریف انتخابات کے لیے موقف بدلیں گے؟

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے لندن سے حالیہ بیانات اسی سلسلے کی کڑی سمجھے جا رہے ہیں، جن میں انہوں نے 2017 میں اپنی حکومت کے خلاف مبینہ سازش کا حوالہ دیا تھا۔

 11 مئی 2022 کی اس تصویر میں مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف لندن میں اپنے دفتر سے نکلتے ہوئے (اے ایف پی)
 

پاکستان میں سیاسی جماعتیں اس وقت آنے والے انتخابات کی تیاری میں مصروف ہیں جبکہ بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے انتخابات سے قبل عوام کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی حکمت عملی بنائی جارہی ہے۔

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے لندن سے حالیہ بیانات اسی سلسلے کی کڑی سمجھے جا رہے ہیں، جن میں انہوں نے 2017 میں اپنی حکومت کے خلاف مبینہ سازش کا حوالہ دیا تھا۔

اسی موقف کو ان کا بیانیہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ لہذا اب بھی یہی گمان کیا جا رہا ہے کہ اب بھی وہ یہی بیانیہ لے کر عوام میں جائیں گے۔

لیکن مسلم لیگ ن پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’قائد ن لیگ میاں نواز شریف نے پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہماری حکومت 2017 میں سازش سے ہٹا کر ملکی ترقی روکنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ تاہم اسے ان کا حتمی بیانیہ نہیں کہا جاسکتا۔‘

تجزیہ کار مجیب شامی کے مطابق: ’نواز شریف نے حالیہ بیانات سے ماضی کے مسائل پر بات کی۔آئندہ کا بیانیہ تو وہ ہوگا جسے وہ پاکستان واپسی پر کارکنوں سے خطاب کے دوران قرار دیں گے۔‘

کیا نواز شریف بیانیے سے پیچھے ہٹ گئے؟

مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنااللہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پیغام میں کہا کہ ’نواز شریف وطن واپسی کے بعد مینار پاکستان پر جلسہ کریں گے وہیں حتمی بیانیے کا اعلان کریں گے اور اگلے روز عدالت میں پیش ہوں گے۔‘

مسلم لیگ ن پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’نواز شریف کا بیانیہ تبدیل تو ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ پاکستان کے حالات تبدیل نہیں ہورہے تو بیانیہ تبدیل کیسے ہوگا؟

’میاں صاحب ایک سٹیٹس مین ہیں سب سے سینیئر سیاستدان ہیں اس ملک کے جو مسائل ہیں اور تکالیف ہیں وہ ان سے غافل نہیں رہ سکتے۔‘

ترجمان نے کہا کہ پارٹی رہنما کی جس تقریر کا حوالہ دیا جارہا ہےانہوں نے یہ اپنی پارٹی اجلاس کے اندر تقریر کی، جو کہ عام آدمی کو درپیش مسائل پر تھی۔ ’اس بارے میں بات کرتے کرتے انہوں نے کہا کہ 2017 میں اچھا بھلا پاکستان چل رہا تھا، اگر سازش سے حکومت نہ ہٹائی جاتی تو یہ حالات نہ ہوتے انہوں نے اس تناظر میں احتساب والی بات بھی کی۔‘

عظمیٰ بخاری کے بقول، ’احستاب والی بات کا حل کیا ہے؟ بیانیہ کیا ہونا ہے؟ وہ باتیں کر کے جانے والے لوگوں میں سے نہیں وہ پورا بیانیہ قوم کو دیں گے۔ اس کے لیے 21 اکتوبر کو مینار پاکستان جلسے میں تقریر ہوگی وہی پارٹی کا بیانیہ بھی ہوگا جو پورے پاکستان کا بیانیہ ہوگا۔

’ہمیں ایسے ہی لیڈر اور ایسے ہی بیانیے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان آگے بڑھ سکے نہ کہ مزید مشکلات میں گھر جائے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آئندہ انتخابات میں بیانیہ کتنا اہم؟

سینیئر تجزیہ کار مجیب الرحمٰن شامی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’نواز شریف نے احتساب کی بات پہلی بار نہیں کی وہ اس سے قبل بھی اس طرح کے بیانات دیتے رہے ہیں۔ لیکن ان کا آئندہ انتخاب میں بیانیہ کیا ہوگا وہ پاکستان واپسی پر ان کے خطاب سے ہی اندازہ ہوگا۔ اس وقت صرف بحث ہو رہی ہے کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ ماضی کے مسائل میں نہیں الجھنا چاہیے۔

’پہلے وہ آئیں لوگوں کے مسائل حل کرنے کی حکمت عملی بنائیں اگر اکثریت سے حکومت بنتی ہے تو معاشی مسائل سے نمٹیں۔ جب حالات بہتر ہوجائیں تو پھر احتساب کی طرف آئیں۔‘

مجیب الرحمٰن شامی کے بقول، ’نواز شریف ابھی اس طرح کے مسائل میں نہیں پڑیں گے پہلے وہ انتخابات میں میں کامیابی کو یقینی بنانا چاہیں گے۔ ابھی تو لڑائی جھگڑے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اس لیے سوچ سمجھ کر ہی قدم آگے بڑھایا جائے گا اور زبان کھولی جائے گی۔‘

انہوں نے کہا کہ، ’جن لوگوں کے احتساب یا گرفتاری کی بات ہو رہی ہے کیا نگران حکومت انہیں گرفتار کرے گی؟ وہ یہ بوجھ کیسے اٹھائے گی ایک نیا پنڈورا باکس کھل جائے گا۔ اگر یہی کام کرنا ہوتا تو ان کی 16 مہینے رہنے والی حکومت کر لیتی۔ جو کام ان کی منتخب حکومت نہیں کر سکی نگران حکومت کیسے کرے گی۔‘

تجزیہ کار مجیب شامی نے کہا کہ عمران خان کی ساڑھے تین سالہ کارکردگی اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی ڈیڑھ سالہ کارکردگی مایوس کن رہی اس لیے کارکردگی پر تو الیکشن کوئی لڑنے کے قابل نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ البتہ بیانیے پر ہی اکتفا کیا جارہا ہے جو مہم کے دوران عوام کو اپنی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہوگا وہی جیت سکے گا۔

سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’جس نواز شریف کو میں جانتا ہوں اس نے ان کی حکومت کے خلاف سازش کرنے والے جن کرداروں کے احتساب کی بات کی وہ سیاسی بیان نہیں بلکہ ان کے دل کی آواز تھی۔ لہذا اب یہ بحث جاری ہے انہیں اس مطالبے سے پیچھے ہٹ جانا چاہیے پھر وہی ہوگا جو ساڑھے تین سال عمران حکومت اور ڈیڑھ سال پی ڈی ایم حکومت کا ہوا۔ تمام پاکستانی جانتے ہیں کہ حکومتیں ناکام ہونے کی وجہ کیا ہے لہذا جب تک وہ مسائل نہیں ہوں گے ملک آگے نہیں بڑھے گا۔‘

سلمان غنی کے مطابق: ’نواز شریف حقائق سے نظریں چرا کر کبھی حکومت نہیں بنائیں گے کیونکہ انہیں معلوم ہے اسی نظام کے تحت جس میں انہیں سازش سے گھر بھیجا گیا اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست