نواز شریف سے متعلق نگران وزیر داخلہ کے بیان پر ن لیگ برہم 

وطن واپسی پر نواز شریف کی ممکنہ گرفتاری سے متعلق بیان کی وضاحت کرتے ہوئے نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے منگل کو کہا کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر دیکھا جا رہا ہے۔   

سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف اپنے بھائی اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف 11 مئی 2011 کو اسلام آباد میں ایک میڈیا بریفنگ کے دوران (فاروق نعیم/ اے ایف پی)

پاکستان مسلم لیگ ن نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی وطن واپسی پر ان کی ممکنہ گرفتاری سے متعلق نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کے حالیہ بیان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’حد سے تجاوز‘ قرار دیا ہے۔ 

مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف 21 اکتوبر کو وطن واپس آ رہے ہیں، جس کے حوالے سے تیاریاں جاری ہیں۔ 

پیر کو نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’خبر مہربخاری کے ساتھ ‘ میں کہا تھا کہ نواز شریف کو عدالت سے ضمانت نہیں ملی تو گرفتار کریں گے۔ 

سرفرازبگٹی نے مزید کہا تھا کہ اس سلسلے میں کسی طرح کے خصوصی انتظامات کی ضرورت نہیں۔ 

مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما اور سابق وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے سرفراز بگٹی کے بیان کو ’حد سے تجاوز‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’نواز شریف نے ایئرپورٹ سے 21 اکتوبر کو کہاں جانا ہے، یہ وزیرِ داخلہ، وفاق کا فیصلہ نہیں ہوگا، یہ عوام کا فیصلہ ہو گا۔‘ 

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’سرفراز بگٹی نواز شریف کے بارے میں بیان بازی سے اپنا قد بڑھانے کی کوشش نہ کریں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’نواز شریف ہمیشہ کی طرح عدالتوں میں قانون کے مطابق تقاضے پورے کریں گے۔‘ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مسلم لیگ (ن) کی طرف سے کڑی تنقید کے بعد نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے منگل کو ایک وضاحتی بیان میں کہا کہ ان کی گفتگو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر بیان کیا گیا ہے۔ 

سرفراز بگٹی نے کہا: ’دیکھیے سیاق و سباق سے ہٹ کر یہ میڈیا میں چل رہا ہے، اس حوالے سے مجھ سے سوال کیا گیا تھا کہ اگر کوئی ملزم آتا ہے تو اس کی گرفتاری کے لیے آپ کی کون سی تیاریاں ہوتی ہیں؟ نواز شریف واپس آرہے ہیں، پاکستان کے وزیراعظم رہ چکے ہیں، عدالت میں ان کے معاملات چل رہے ہیں اور وزارت داخلہ کا عدالت کے معاملوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہ سیاق و سباق سے ہٹ کر ہے۔‘ 

مسلم لیگ (ن) نواز شریف کی واپسی پر ان کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ جماعت کے صدر شہباز شریف نے پیر کی شام ایک بیان میں کہا تھا کہ نواز شریف طے شدہ پروگرام کے مطابق 21 اکتوبر کو پاکستان پہنچیں گے۔  

انہوں نے تمام پارٹی رہنماؤں کو ہدایت کی کہ وہ ’21 اکتوبر سے قبل بیرون ملک سفر نہ کریں۔ اپنی تمام تر توجہ عوامی موبلائیزیشن پر دیں۔‘ شہباز شریف کا بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’قائد مسلم لیگ ن سے لندن میں ملاقات کے لیے تشریف لانے والے پارٹی رہنما بھی اپنے پروگرام کینسل کریں اور قائد مسلم لیگ ن کے عظیم الشان استقبال کے لیے اپنے حلقوں میں وقت دیں۔‘ 

شہباز، نواز شریف کو سمجھانے نہیں رائے دینے گئے تھے: لیگی رہنما

مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید لطیف نے منگل کو اس تاثر کو مسترد کردیا ہے کہ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے حالیہ دورہ لندن کا مقصد پارٹی قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کو ’سمجھانا‘ اور بظاہر ’مصالحانہ رویہ‘ اختیار کرنے پر زور دینا تھا۔

مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے حالیہ دنوں میں اپنے ایک حالیہ بیان میں سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سابق آئی ایس آئی چیف جنرل فیض حمید سمیت دو سابق جج صاحبان پر بھی شدید تنقید کی۔

لاہور میں منگل کو پریس کانفرنس کے دوران جب لیگی رہنما میاں جاوید لطیف سے سوال کیا گیا کہ آیا شہباز شریف، نواز شریف کو سمجھانے گئے تھے کہ وہ مصالحانہ رویہ اختیار کریں؟ جس پر جاوید لطیف نے کہا: ’کارکن لیڈر کو سمجھانے نہیں جاتا، کارکن اپنی رائے دیتا ہے، شہاز شریف اپنے قائد کو رائے دے سکتے ہیں، رائے وہ دیتے ہیں، مگر قائد نے جو کچھ کہا، وہ میں نے بیان کردیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہماری جماعت کے اندر کوئی ایسا کارکن نہیں ہے کہ نواز شریف ایک حتمی فیصلہ دے دیں تو اس کے بعد کوئی اپنی حتمی رائے دے۔‘

میاں جاوید لطیف نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف انصاف کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔

’کیا کوئی یہ کوشش یا خواہش ہی نہ کرے کہ میں احتساب یا کوئی انصاف کروں گا تو میرے پیچھے قوم کھڑی نہیں ہوگی، اس کے لیے نواز شریف آواز بلند کر رہے ہیں۔‘

پریس کانفرنس کے دوران میاں جاوید لطیف سے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف گذشتہ برس اپریل میں پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد سے متعلق ایک سوال کیا گیا، جس کے نتیجے میں مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی، جمیعت علمائے اسلام (ف) اور دیگر جماعتوں پر مشتمل اتحادی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی حکومت تشکیل پائی تھی۔

اس سوال کے جواب میں کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد سٹیبلمشنٹ اور پی ڈی ایم حکومت کا مشترکہ کام تھا؟ لیگی رہنما میاں جاوید لطیف نے کہا: ’آپ یہ اطمینان رکھیں کہ عمران خان کے خلاف (تحریک) عدم اعتماد کرنا ہماری خواہش نہیں تھی، یہ ریاست کی ضرورت تھی۔

’ریاست کی ضرورت اس لیے تھی کہ آج آپ دیکھ رہے ہیں کہ عالمی طاقتیں جس طرح عمران خان کے پیچھے کھڑی ہیں، جس طرح سائفر لہرانے پر عمران خان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہوا تو آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ عالم طاقتیں کس طرح پاکستان کے مفادات کے خلاف کام کرنے پر عمران خان کا ساتھ دیتی ہیں۔‘

بقول میں جاوید لطیف: ’اس لیے یہ اطمیان رکھیں کہ ہم نے اپنی سیاسی مقبولیت کی قربانی، جو ریاست کے لیے دی تھی وہ ایک ایک کرکے چیزیں قوم کے سامنے آرہی ہیں کہ (تحریک) عدم اعتماد مسلم لیگ ن کی نہیں، ریاست کی ضرورت تھی۔ پاکستان کی ضرورت تھی، ڈیمانڈ تھی قوم کی تو ہم نے وہ فعل کیا۔‘

مسلم لیگ ن کے رہنما میاں جاوید لطیف نے مزید کہا: ’ورنہ اگر ہم 16 ماہ ان (عمران خان) کو مزید حکومت کرنے دیتے تو آج عمران خان کا نام و نشان نہ ہوتا، لکن شاید میرے منہ میں خاک کہ پاکستان کے اندر بھی وہ حالات بن جاتے کہ کئی نواز شریف بھی آکر مینار پاکستان کے سائے میں تجدیدِ عہد کرتے، مگر پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتے۔‘

پریس کانفرنس کے دوران میاں جاوید لطیف نے یہ بھی کہا کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں ان کی اتحادی نہیں تھیں۔ ’وہ ایک ارینجمنٹ تھا، ان (عمران خان) سے جان چھڑانے کا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان