بابر اعظم مبینہ چیٹ لیک: کیا صحافی کچھ بھی کر سکتا ہے؟

ٹی وی شو میں بابر اعظم اور پی سی بی کے عہدیدار کے درمیان ہونے والی مبینہ واٹس اپ چیٹ نشر کرنے کو صحافی غیر ذمہ دارانہ اقدام قرار دے رہے ہیں۔

پاکستان کے کپتان بابر اعظم 12 نومبر 2022 کو میلبورن کے میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ 2022 کے کرکٹ فائنل میچ سے قبل ایک پریس کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں (اے ایف پی)

انڈیا میں جاری آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم کی کپتانی کرنے والے بابر اعظم کی مبینہ واٹس ایپ چیٹ نجی ٹی وی چینل کے ایک شو میں دکھانے پر سابق کرکٹرز اور سوشل میڈیا صارفین ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔

بابر اعظم کی مبینہ چیٹ نجی ٹی وی چینل اے آر وائے نیوز پر کرکٹ ورلڈ کپ کے حوالے سے چلنے والے ایک شو میں اتوار کو براہ راست دکھائی گئی تھی۔ اس شو کی میزبانی صحافی وسیم بادامی کرتے ہیں۔

شو کے دوران بابر اعظم کی پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایک عہدیدار کے ساتھ ہونے والی مبینہ واٹس ایپ چیٹ صحافی شعیب جٹ کے کہنے پر دکھائی گئی جنہوں نے اس شو سے ایک روز قبل دعویٰ کیا تھا کہ وہ اتوار کو ایسا ہی کوئی ’ثبوت‘ دکھانے والے ہیں۔

اسی شو میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی مینجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین ذکا اشرف کا صحافی شعیب جٹ کے ساتھ انٹرویو کا ایک حصہ بھی چلایا گیا تھا۔

مبینہ چیٹ کو جس وقت دکھایا اس وقت اسی شو میں کرکٹر اظہر علی، کامران اکمل اور باسط علی کے ساتھ ساتھ خود صحافی شعیب جٹ بھی موجود تھے۔

اس موقع پر سابق ٹیسٹ کرکٹر اظہر علی نے فوری طور پر سوال اٹھایا کہ ’کیا پی سی بی کے عہدیدار نے بابر اعظم کا میسج صحافی کو بھیجنے سے پہلے اجازت لی؟ اور  کیا یہاں چلانے سے پہلے بھی بابر اعظم سے پوچھا جانا چاہیے تھا۔‘

اس پر سپورٹس جرنلسٹ شعیب جٹ کا کہنا تھا کہ ’مجھے تو بلکل نہیں پوچھنا چاہیے، صحافی کا تو کام ہی یہی ہے کہ اسے کوئی چیز ملے تو ایسے کرے۔‘

شو میں موجود سابق کرکٹر باسط علی نے بھی مبینہ میسج نشر کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’کیا اس طرح بابر اعظم کا میسج چلا سکتے ہیں؟ نہیں چلا سکتے۔‘

اسی طرح سابق کرکٹر شاہد آفریدی نے بھی ایک نجی ٹی وی چینل پر اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’معذرت کے ساتھ میں تو اسے ایک گھٹیا حرکت کہوں گا۔ ہم خود ہی اپنے کھلاڑیوں کو بدنام کر رہے ہیں۔‘

اس سارے معاملے کے بعد پیر کو صحافی اور اس شو کے میزبان وسیم بادامی نے سوشل میڈیا پر اپنا ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے بابر اعظم کی مبینہ چیٹ کو اس طرح سے نشر کرنے کو ’غلط فیصلہ‘ قرار دیا۔

انڈپینڈنٹ اردو نے جب وسیم بادامی سے رابطہ کیا تو انہوں نے جواب میں سوشل میڈیا پر جاری اپنا یہی ویڈیو پیغام بھیجا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سے بطور ٹیم بابر اعظم کا پی سی بی کے عہدیدار کے ساتھ ہونے والی بات کو نشر کرنے کا غلط فیصلہ ہوا۔‘

وسیم بادامی نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’شو سے پہلے ہم نے اس سکرین شاٹ کو نہ چلانے کا فیصلہ کیا تھا تاہم بعد میں ذکا اشرف کے ویڈیو کلپ کو دیکھنے پر ہم نے اسی وقت یہ سکرین شاٹ چلانے کا فیصلہ کیا۔‘

تاہم یہاں پر یہ بات بھی غور طلب ہے کہ اس شو سے ایک روز قبل اسی شو میں صحافی شعیب جٹ نے ایسا ہی کچھ دکھانے کا اعلان کیا تھا۔

تو کیا بطور صحافی کسی کے ذاتی میسجز بغیر اجازت نشر کیے جا سکتے ہیں؟

سینیئر صحافی اور اینکر پرسن شہزاد اقبال کہتے ہیں کہ ’صحافتی ذمہ داری یہی ہوتی ہے کہ کسی کی ذاتی چیٹ ان سے پوچھے بغیر نہیں چلا سکتے اور دونوں کی اجازت ہو تو ہی چلا سکتے ہیں۔‘

بابراعظم کی مبینہ چیٹ پر شہزاد اقبال نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’شاید پی سی بی کے عہدیدار نے تو اجازت دے دی ہو میسج چلانے کی مگر ایسا لگتا ہے کہ بابر اعظم سے کسی نے نہیں پوچھا اور پوچھنا صحافتی ذمہ داری ہوتی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا اس حوالے سے تو پروگرام ہوسٹ کا وضاحتی ویڈیو پیغام بھی آ چکا ہے جس میں وہ تسلیم کر رہے ہیں کہ ان کی ذمہ داری تھی بابر اعظم سے پوچھنا۔

اس معاملے میں پی سی بی کے کردار سے متعلق شہزاد اقبال کا موقف تھا کہ ’پی سی بی کا رویہ شرمناک ہے اور اپنے ہی کپتان کی وچ ہنٹنگ کی جا رہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’بابر اعظم کی کپتانی میں کمی ہو سکتی ہے، مفادات کے ٹکراؤ کے معاملات بھی دیکھنے چاہیے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ٹیم ورلڈ کپ کھیل رہی ہو اور آپ اپنے ہی کپتان کے خلاف مہم چلائیں اور اسے بدنام کریں۔‘

شہزاد اقبال نے کہا کہ ’پی سی بی کے چیف آپریٹنگ افیسر کا رویہ انتہائی غیر پیشہ ورانہ ہے کہ وہ بابر اعظم کی چیٹ کو چیئرمین کو لیک کرتا ہے اور چیئرمین اسے کہتے ہیں اسے نشر کر دیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اگر کسی کے استعفے کا مطالبہ ہونا چاہیے تو وہ اس سے ہونا چاہیے جس نے قومی کپتان کی چیٹ لیک کی اور جس نے اسے نشر کرنے کو کہا۔‘

سینیئر سپورٹس جنرلسٹ مرزا اقبال بیگ کہتے ہیں کہ ’اعتماد کو دھوکہ دیا گیا ہے اور پی سی بی آفیشل کو بھی پھنسایا گیا ہے کیوں کہ پی سی بی کے علاوہ کون لیک کر سکتا ہے؟‘

پی سی بی عہدیدار کی جانب سے مبینہ میسج جاری کرنے سے متعلق مرزا اقبال بیگ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’لگتا یہ ہے کہ ذکا اشرف بے تاب ہیں کیوں کہ پانچ نومبر کے بعد ان کی مدت ختم ہو رہی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ کہانی پی سی بی کی جانب سے چلائی گئی ہے کیوں کہ راشد لطیف کے بیان پر بھی بہت لے دے ہو رہی ہے جس میں انہوں نے یہ بتایا تھا کہ کھلاڑیوں کو تنخواہیں بھی نہیں ملی ہیں۔‘

سابق کرکٹر راشد لطیف نے کچھ روز قبل پی ٹی وی سپورٹس پر یہ دعویٰ کیا تھا کہ ’بابر اعظم مسلسل ذکا اشرف سے رابطے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم وہ ان کی فون کال کا جواب نہیں دے رہے۔‘

’بابر اعظم کو چینل کے خلاف قانونی کارروائی کرنی چاہیے‘

سائبر کرائمز اور آن لائن ہراسگی پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی ایگزیکیٹیو ڈائریکٹر نگہت داد نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ ’بابر اعظم کو ٹی وی چینل کی جانب سے ان کی پرائیویسی کی خلاف ورزی کرنے اور ذاتی چیت بغیر اجازت لیک کرنے پر چینل کے خلاف درخواست دائر کرنی چاہیے۔‘

جبکہ صحافی مرزا اقبال بیگ کا کہنا ہے کہ ’یہ انتہائی غلط عمل ہے اور بابر اعظم سائبر کرائم کے تحت کیس کر سکتا ہے کیوں کہ آپ کسی کے نجی میسجز کو پبلک میں نہیں لا سکتے جب تک ان سے اجازت نہ لیں۔‘

پاکستان کرکٹ ٹیم ان دنوں انڈیا میں موجود ہے جہاں اسے اپنے چھ میچوں میں سے چار میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور انہی شکستوں کے بعد سے کھلاڑی پر تنقید اور الزامات کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

تنقید اور الزامات چیف سلیکٹر انضمام الحق پر بھی لگائے جا رہے ہیں جنہوں نے پیر کو اسی سب کو دیکھتے ہوئے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ