عماد وسیم کی اچانک ریٹائرمنٹ پر سوالات

عماد وسیم ایک مایہ ناز آل راؤنڈر ہیں اور ابھی بہت اچھی فارم میں ہیں۔ ان کی فٹنس لاجواب ہے اور وہ آئندہ سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان کے لیے اہم کردار ادا کرسکتے تھے لیکن ان کی اچانک ریٹائرمنٹ نے بہت سے سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

 عماد وسیم 20 جولائی 2021 کو شمال مغربی انگلینڈ میں مانچسٹر کے اولڈ ٹریفورڈ کرکٹ گراؤنڈ میں انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان تیسرے ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی کرکٹ میچ کے دوران رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے (اے ایف پی)

پاکستان کے آل راؤنڈر عماد وسیم نے جمعے کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے انٹرنیشنل کرکٹ سے اچانک ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔

سید عماد وسیم  جو 18 دسمبر 1988 کو ویلز کے علاقے سوانسی میں پیدا ہوئے، پیدائشی طور پر انگلینڈ کے شہری تھے لیکن کرکٹ سے لگاؤ اور پاکستان کی سبز کیپ سے محبت انہیں پاکستان لے آئی اور پاکستان انڈر 19 کی طرف سے انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔

اگرچہ ان کے والدین نے میڈیکل کی تعلیم کے لیے انہیں پاکستان بھیجا تھا لیکن کرکٹ نے ان کی ساری توجہ پاکستان کی قومی ٹیم کی طرف مبذول کروا دی۔

عماد وسیم اپنے بچپن میں وسیم اکرم سے بہت متاثر تھے اور ان کے انداز میں بولنگ کرتے تھے لیکن جب نوجوانی میں انہیں کلب کرکٹ کا موقع ملا تو انہیں احساس ہوا کہ ان کی رفتار کم ہے اور شاید فاسٹ بولنگ ان کے بس کی بات نہیں ہے ۔

ان کی خوش قسمتی رہی کہ انہیں ابتدا میں اچھے کوچ مل گئے جنہوں نے انہیں لیفٹ آرم سپنر بننے کا مشورہ دیا۔ 

اسلام آباد سے اپنی کلب کرکٹ شروع کرنے والے عماد وسیم کو جلد ہی پاکستان انڈر 19 کیمپ میں رسائی مل گئی اور وہ 2006 کے یوتھ ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کا حصہ تھے۔ سرفراز احمد کی کپتانی میں اس ورلڈکپ میں چیمپیئن بننے نے انہیں انٹرنیشنل کرکٹ تک پہنچا دیا۔ 

جب انڈر 19 ورلڈکپ 2008 میں ہوا تو وہ پاکستانی ٹیم کے کپتان تھے اور موجودہ قومی ٹیم کے کپتان شان مسعود نائب کپتان تھے۔ وہ چیمپیئن تو نہ بن سکے لیکن ان کی کپتانی کی صلاحیتیں آشکار ہوگئیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ اگلے سات سال تک قومی ٹیم میں آنے کی جدوجہد کرتے رہے لیکن اس دور میں پاکستانی ٹیم میں آل راؤنڈرز کی بہتات تھی، جس کی وجہ سے انہیں موقع نہ مل سکا۔

جب 2015 میں زمبابوے کی ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی تو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینے کا فیصلہ کیا اور عماد وسیم بھی ان میں شامل تھے۔  وہ اپنے ابتدائی میچ میں کوئی وکٹ تو نہ لے سکے لیکن پاکستان کی طرف سے کھیلنے کی خواہش نے عملی شکل اختیار کرلی۔

عماد وسیم نے پاکستان کی طرف سے 66 ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے جن میں 486 رنز بنائیے اور 65 وکٹیں حاصل کی۔ اسی طرح 55 ایک روزہ میچ کھیلے جن میں 986 رنز بنائیے اور 44 وکٹیں حاصل کیں۔

فتح گر بمقابلہ افغانستان

عماد وسیم نے اپنے کیریئر میں متعدد مرتبہ شاندار کارکردگی دکھائی ہے لیکن 2019 کے ورلڈکپ میں لیڈز میں افغانستان کے خلاف ان کی بیٹنگ نے ایسے لمحات میں پاکستان کو میچ میں فتح دلائی جب تمام امیدیں ختم ہوچکی تھیں۔

یہ ان کا یادگار میچ تھا۔ انہوں نے 49 رنز کی زبردست اننگز کھیلی اور سخت دباؤ میں آخری اوور میں ہدف کو عبور کیا۔ ان کی اس اننگز کو ورلڈکپ کی یادگار اننگز میں شمار کیا گیا تھا۔ انہوں نے بولنگ میں اچھی کارکردگی دکھاتے ہوئے دو کھلاڑی آؤٹ کیے تھے۔

بائیں ہاتھ کے شعیب اختر

عماد وسیم کی بولنگ کا انداز انتہائی منفرد اور قابل دید ہوتا ہے۔ وہ چند قدم سے تیز سپن گیند کرتے ہیں، جس کی رفتار بعض اوقات کسی میڈیم پیسر سے زیادہ ہوتی ہے۔

وہ اپنا ایک مخصوص زاویہ بناتے ہیں اور بلے باز کو سمجھنے نہیں دیتے۔ سرفراز احمد نے انہیں اپنی کپتانی میں اوپننگ بولر بنا دیا تھا۔ وہ نئی گیند سے تیز سپن کرتے اور ابتدا میں ایک دو وکٹ اڑا دیتے تھے۔

فرنچائز لیگ کی پہلی پسند

عماد وسیم کی نپی تلی بولنگ اور مار دھاڑ سے بھرپور بیٹنگ کے باعث وہ ٹی ٹوئنٹی لیگز میں پہلی پسند سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے تقریباً تمام فرنچائز لیگز میں شرکت کی ہے۔

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا انداز ان کی اولین پسند ہے، اسی لیے ان کی کارکردگی ہمیشہ نمایاں رہتی ہے۔ 

کراچی کنگز کی قیادت

پی ایس ایل میں کراچی کنگز نے ایک ہی بار ٹائٹل جیتا ہے اور وہ عماد وسیم کی شاندار کپتانی کا نتیجہ تھا، جس نے لاہور قلندرز کی اس مضبوط ٹیم کو شکست دی تھی جس نے پی ایس ایل 5 میں ہر ٹیم کو بری طرح شکست دی تھی۔ 

کراچی میں کھیلا گیا فائنل اگرچہ کم سکور کا میچ تھا لیکن اس کی وجہ عماد وسیم کی شاندار بولنگ اور کپتانی تھی۔ عماد نے اس پورے ٹورنامنٹ میں عمدہ کپتانی کی تھی۔

بابر اعظم سے اختلافات

کراچی کنگز کی کئی سال کپتانی کے بعد جب اچانک بابر اعظم کو کپتان مقرر کیا گیا تو عماد خوش نہیں تھے، کیونکہ عماد اس ٹیم کو بالکل نیچے سے اوپر لے کر آئے تھے اور انہیں ہٹانے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔

بابر اعظم جو اس وقت ایک اعلی پائے کے بلے باز بن چکے تھے اور پاکستان کی کپتانی کر رہے تھے، ان کا مطالبہ تھا کہ انہیں کپتان بنایا جائے۔ دوسری طرف مینیجمنٹ عماد سے مطمئن تھی لیکن وسیم اکرم کی کوششوں کے باوجود عماد کو ہٹا دیا گیا۔ 

بابر اعظم کے لیے کراچی کنگز کی کپتانی ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا اور وہ صرف ایک میچ جیت سکے۔

بابر کے ساتھ تنازعے نے مزید تقویت اس وقت اختیار کی جب عماد وسیم کو پاکستان ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا۔ وہ پر امید تھے کہ انہیں انڈیا میں ورلڈ کپ کی ٹیم میں موقع ملے گا لیکن وہ منتخب نہیں کیے گئے۔ اگرچہ ماہرین ان کی شمولیت پر زور دے رہے تھے۔

عماد وسیم اس زیادتی سے اس قدر مایوس ہوئے کہ پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ سے منہ موڑ لیا اور ٹی وی پر مبصر بن گئے، جسے بورڈ نے پسند نہیں کیا۔

بورڈ سے تنازع اور ریٹائرمنٹ

عماد وسیم کے لیے مایوس کن خبر یہ تھی کہ انہیں نیوزی لینڈ کے ساتھ ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے منتخب نہیں کیا گیا۔ پاکستان نیوزی لینڈ کے خلاف جنوری 2024  میں سیریز کھیلے گا۔ افسوس ناک طور پر شاندار کارکردگی کے باوجود عماد وسیم کو زیر غور نہیں لایا گیا۔ اس طرح نظر انداز کرنے پر عماد وسیم مایوس ہوگئے۔

 دوسری طرف وہ ابوظہبی میں ٹی 10 لیگ میں کھیلنا چاہتے ہیں، جس کے لیے انہیں پی سی بی سی سے این او سی درکار تھا۔  بورڈ نے واضح طور پر اعلان کردیا تھا کہ کسی کو این او سی نہیں ملےگا، جس کے باعث عماد وسیم نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرکے این او سی کی محتاجی کو ختم کر دیا۔

شاید انہیں یہ مشورہ محمد عامر نے دیا ہو، جو خود بھی ایسا ہی کر چکے ہیں۔

عماد وسیم نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں پی سی بی کا شکریہ ادا کیا ہے، جس کی مہربانی سے انہوں نے 121 بار پاکستان کی انٹرنیشنل مقابلوں میں نمائندگی کی ہے۔

وہ سمجھتے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس کو عملی شکل دیں جس کے لیے وہ کافی دنوں سے سوچ رہے تھے۔ انہوں نے پاکستانی مداحوں، دوستوں اور اپنی فیملی کا شکریہ ادا کیا ہے، جن کی بھرپور حوصلہ افزائی سے وہ اعلیٰ ترین سطح پر کارکردگی دکھا سکے۔

عماد وسیم ایک مایہ ناز آل راؤنڈر ہیں اور ابھی بہت اچھی فارم میں ہیں۔ ان کی فٹنس لاجواب ہے اور وہ آئندہ سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان کے لیے اہم کردار ادا کرسکتے تھے لیکن ان کی اچانک ریٹائرمنٹ نے بہت سے سوالات قائم کردیے ہیں۔

پی سی بی کی لاپروائی اور غلط پالیسیوں نے ایک شاندار آل راؤنڈر کا کیریئر وقت سے پہلے ختم کردیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ