قبائلی اضلاع کی طالبات کے لیے وظیفے کی منظوری

خیبر پختونخوا کی صوبائی کابینہ نے سکالرشپ کی تقسیم کو طلبہ کی کارکردگی، امتحانی نتائج اور 70 فیصد کی کم از کم حاضری سے جوڑنے کی تجویز کو بھی منظوری دی۔

29 اکتوبر 2023 کی اس تصویر میں خیبرپختونخوا کے ضلع لوئر دیر میں طالبات سکول کے صحن میں پڑھتے ہوئے (اے ایف پی)

خیبرپختونخوا کی نگراں حکومت نے قبائلی اضلاع میں چھٹی سے بارہویں جماعت کی طالبات کے لیے ماہانہ وظیفہ پروگرام میں 2025 تک توسیع کی منظوری دے دی۔

پشاور میں صوبائی کابینہ کے اجلاس کے بعد جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ 2023 میں سابق ​​فاٹا کی 32 ہزار 833 طالبات کو، 2024 میں 37 ہزار 758 اور 2025 میں 43 ہزار 422 کو 940.5 ملین روپے کی تخمینہ لاگت سے وظائف فراہم کیے جائیں گے۔

خیبر پختونخوا کی صوبائی کابینہ نے سکالرشپ کی تقسیم کو طلبہ کی کارکردگی، امتحانی نتائج اور 70 فیصد کی کم از کم حاضری سے جوڑنے کی تجویز کی بھی منظوری دی۔

سرکاری اعلامیے میں وظیفے کی وضاحت نہیں کی گئی کہ کتنی رقم ایک طالبہ کو ادا کی جائے گی لیکن ماضی میں اس کے ناکافی ہونے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔

نگراں وزیراعلیٰ جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ کی زیر صدارت اس اجلاس میں کابینہ کے ارکان، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، انتظامی سیکرٹریز اور صوبے کے دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شمال مغربی صوبے میں خواندگی کی شرح 53 فیصد ہے اور خاص طور پر لڑکیوں میں سکول چھوڑنے کی شرح بہت زیادہ ہے۔

2019 میں خیبر پختونخوا میں قائم خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم بلیو وینز اور کے پی کے محکمہ تعلیم نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا کہ صوبے میں 1.8 ملین بچے سکول نہیں جاتے، جن میں اکثریت لڑکیوں کی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں سکول جانے کی عمر کے نصف سے زیادہ بچے سکول نہیں جاتے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صوبے کے ترقی کے اعتبار سے پسماندہ سمجھے جانے والے قبائلی اضلاع کی طالبات کو تعلیم کی جانب راغب کرنے کے لیے یہ سکیم شروع کی گئی تھی۔ تعلیم کے فروغ کے لیے سرگرم تنظیموں نے اس حکومتی فیصلے کی تعریف کی ہے۔

ان اضلاع میں خیبر، مہمند، باجوڑ، کرم، اورکزئی، جنوبی اور شمالی وزیرستان شامل ہیں۔ ان علاقوں میں شدت پسندی کی لہر کی وجہ سے بھی لڑکیوں کی تعلیم متاثر ہوئی تھی۔

بدلتے ہوئے انتظامی منظر نامے کو تسلیم کرتے ہوئے، صوبائی کابینہ نے زیریں جنوبی وزیرستان کے نئے قائم ہونے والے ضلع میں مرد اور خواتین دونوں کے لیے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کے عہدوں کے قیام کی بھی منظوری دی۔ 

یہ اہم ملاقات سابق وزیراعلیٰ محمد اعظم خان کے بے وقت انتقال کے بعد عہدہ سنبھالنے کے بعد وزیراعلیٰ سید ارشد حسین شاہ کے لیے پہلی ملاقات تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس